Thu, September 17, 2026

شہباز شریف پاس ہو گئے

 شہباز شریف پاس ہو گئے

اہل نظر کو تو پہلے ہی سے دکھائی دے رہا تھا اب اہتمام سے رپورٹ شائع کرائی گئی ہے کہ آرمی چیف کی زیر قیادت موجودہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو وزیراعظم شہباز شریف کی صلاحیتوں اور کارکردگی پر مکمل اعتماد ہے۔ ایک سینئر افسر نے شہباز شریف کو یہ کہہ کر بہترین قرار دیا کہ انہوں نے کارکردگی، سخت محنت، انتظامی نظم و ضبط، محتاط سفارت کاری اور پاکستان کی پاور ڈائنامکس کی گہری سمجھ بوجھ سے اسٹیبلشمنٹ کا بھروسہ حاصل کیا ہے۔ موجودہ منقسم سیاسی ماحول اور معاشی چیلنجز کے دور میں وزیراعظم شہباز شریف کو اسٹیبلشمنٹ پاکستان کے چیف ایگزیکٹو کے عہدے کیلئے بہترین انتخاب سمجھتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسٹیبلشمنٹ کا شہباز شریف پر بھروسہ یکطرفہ نہیں۔ جنرل عاصم منیر بھی فوجی حلقوں میں شہباز شریف کی کارکردگی کی تعریف کرتے نظر آئے ہیں۔ اس ورکنگ ریلشن شپ سے اندازہ ہو جانا چاہیے کہ موجودہ سیٹ اپ کو دور دور تک کوئی خطرہ نہیں۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے دریائے سندھ سے نہریں نکالنے کے منصوبے کی مخالفت جس حد تک بھی چلی جائے، وفاقی حکومت کے لیے خطرہ نہیں بن سکتی۔ اس حوالے سے اب تک جو کچھ ہو رہا ہے وہ چائے کی پیالی میں طوفان سے زیادہ نہیں۔ پیپلز پارٹی کے اعتراضات میڈیا میں نمایاں ہونا اس کی مجبوری ہے کیونکہ سندھ میں بعض قوم پرست تنظیموں اور گروپوں نے اس مسئلے کو اپنے مخصوص مفادات کے لیے ہائی جیک کر لیا ہے۔ پیپلز پارٹی کو اپنی ساکھ بھی بچانی ہے اور وفاق کے ساتھ ٹکراؤ سے بھی محفوظ رہنا ہے۔ یہ حکومت سے کہیں زیادہ پیپلز پارٹی کا امتحان ہے کہ اس مشکل سے خود کو کیسے نکالتی ہے۔ جو ناسمجھ عناصر اس بات پر خوش ہو رہے ہیں کہ جھگڑا بڑھے گا اور وفاقی حکومت اس کی لپیٹ میں آ جائے گی، ان کے لیے اتنا جان لینا ہی کافی ہے کہ اگر کوئی ایسے حالات پیدا ہو بھی گئے تو وزیر اعظم کو کسی سے لڑائی کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی، صرف اتنا کرنا ہو گا کہ کچھ وقت کے لیے آرام سے ایک طرف بیٹھ جائیں تاکہ پیپلز پارٹی اصل سٹیک ہولڈروں کے سامنے آ کر زور آزمائی کا شوق پورا کر لے۔ ملک کی اندرونی سیاست کے ساتھ اس وقت علاقائی معاملات بھی نئے رخ پر چل پڑے ہیں۔ بعض سرگرمیاں ایسی ہوتی ہیں کہ جن کو دیکھ کر نتیجہ اخذ کرنا مشکل نہیں رہتا۔ حالیہ دنوں میں جب بظاہر ایران پر امریکہ کے حملے کا خطرہ بڑھ رہا تھا۔ ٹرمپ کی اس دھمکی کے بعد کہ ساٹھ دن کے اندر مذاکرات شروع نہ کیے گئے تو ایران پر بمباری کر دیں گے۔ امریکہ نے ڈیگو گارشیا کے اڈے پر بی باون اور انتہائی خطرناک بی ٹو بمبار بھی پہنچا دئیے۔ ایران کے جوابی حملوں کو ناکام بنانے کے لیے تھاڈ سسٹم بھی منگوا لیے گئے۔ ایسے وقت میں سعودی عرب کے وزیر دفاع پرنس خالد بن سلمان نے تہران کا دورہ کیا، آیت اللہ خامنائی اور صدر مسعود پزشکیان سے ملاقاتیں کیں۔ یہ دورہ واضح اشارہ ہے کہ ایران پر حملے کا خطرہ ٹل چکا، اگرچہ امریکہ اور ایران کے درمیان عمانی حکام کے ذریعے مسقط، روم اور پھر مسقط میں مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے لیکن جو طے ہونا تھا وہ سب پہلے ہی ہو چکا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے رکن محمد مہدی شہریاری نے اب انکشاف کیا ہے کہ ایران 2 سال سے ٹرمپ کی ٹیم سے خفیہ رابطے میں ہے اور اس کا سپریم لیڈر آیت اللہ خامنائی کو علم ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ امریکی فریق نے اس بات چیت کے دوران صرف اور صرف ایٹمی معاملے پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔ آیت اللہ خامنائی کو براہ راست معلومات پہنچائی جا رہی ہیں۔ محمد مہدی شہریاری نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ نائب وزیر خارجہ اور ایرانی مذاکراتی ٹیم کے موجودہ رکن مجید تخت روانچی نے پہلے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ امریکیوں نے ہر اس بات پر اتفاق کیا جو ہم نے ان سے کہا تھا۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اگر ایرانی حکام اقتدار میں آنے سے پہلے ہی ٹرمپ کے ساتھ رابطے میں تھے تو جو بائیڈن انتظامیہ کے ساتھ بھی ان کا مسلسل رابطہ رہا ہو گا۔ اب یہ مذاکرات ایک تحریری معاہدے کی جانب بڑھ رہے ہیں جو جلد سامنے آ جائے گا۔ نظر یہی آ رہا ہے کہ ایران کو خطے میں اپنی پراکسیز سے ہاتھ دھونا پڑیں گے۔ شام سے صفایا ہو چکا۔ لبنان کی حکومت بتدریج اپنی فوج کو منظم کر کے حزب اللہ پر دباؤ بڑھا رہی ہے، یمن کے حوثیوں پر امریکی حملے جاری ہیں۔ عراق کی حکومت دنیا اور شام کو یقین دہانیاں کرا رہی ہے کہ اپنی سرزمین پراکسیز کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گی۔ اگر کسی وجہ سے ایران پر امریکہ حملہ کر دیتا تو اس کے اثرات پاکستان پر بھی پڑنا تھے۔ خطے میں امن اور معاشی سرگرمیوں کو شدید دھچکا لگتا۔ غالب امکان ہے کہ آنے والے دنوں میں ایران سے کچھ پابندیاں بھی ہٹ جائیں گی۔ باہمی تجارت کے فروغ سے علاقے کے تمام ممالک کے عوام مستفید ہو سکیں گے۔ ایک بڑی پیش رفت نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا دورہ کابل اور اعلیٰ افغان حکام سے ملاقاتیں ہیں۔ ان ملاقاتوں کے بعد انہوں نے بھرپور پریس کانفرنس کی۔ اسلام آباد واپس آ کر اپنے افغان ہم منصب کو فون کر کے دورہ پاکستان کی دعوت دی۔ پاک افغان تجارت، غیر قانونی طور پر مقیم افغانوں کی واپسی سمیت دیگر امور باہمی مشاورت سے طے کیے جا رہے ہیں، افغان حکام سے کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کنٹرول کر کے ہی امن، ترقی، خوشحالی کی منازل طے کی جا سکتی ہیں۔ اس بات پر اتفاق رائے کے بعد جس قدر عمل درآمد ہو گا دونوں ممالک اتنا ہی فائدہ اٹھا سکیں گے۔ اور اس کا دائرہ وسط ایشیا کی ریاستوں تک پھیل سکتا ہے۔

ٹیگز: