Wed, September 16, 2026

چین امریکہ تجارتی جنگ: چین کا پلہ بھاری ہے؟

چین امریکہ تجارتی جنگ: چین کا پلہ بھاری ہے؟

چین عالمی پیداوار کے پاور ہاﺅس کے طور پر جانا جاتا ہے۔ پوری دنیا کی پیداوار کا حجم 162لاکھ ملین ڈالر کے مساوی ہے یعنی پوری دنیا میں ہر سال جو مینوفیکچرنگ ہوتی ہے، اس کی مالیت تقریباً 162لاکھ ملین ڈالر ہے۔ یہ اعداد و شمار ورلڈ بنک کی شائع کردہ رپورٹ سے لئے گئے ہیں۔ اس میں چین کا حصہ 47لاکھ ملین ڈالر جبکہ امریکی پیداوار کی مالیت 25لاکھ ملین ڈالر کے مساوی ہے۔ پاکستان کا حصہ 46ہزار ملین ڈالر کے برابر ہے۔ انڈیا 4لاکھ 56ہزار ملین ڈالر مالیت کی پیداوار دیتا ہے گویا چین عالمی پیداوار میں سپر طاقت کی حیثیت رکھتا ہے۔ 
چین ایک ابھرتی ہوئی عالمی معیشت ہی نہیں بلکہ ایک عظیم الشان سلطنت ہے۔ چین نے عالمی منظر پر چھا جانے سے پہلے اندرون ملک پیداوار و شعور پیدا کیا۔ اقوام مغرب کی طرف سے افیون وار کا مقابلہ کیا۔ چینی عملاً افیونی قوم بن چکے تھے۔ ماﺅژے تنگ اور چوائن لائی نے قوم کی بیداری کا بندوبست کیا۔ خوابیدہ قوم کو بیدار کیا، آمادہ پیکار کیا۔ سوشلزم کے ذریعے صف بندی کی اور پھر بڑی خاموشی سے قوم کو ایک منظم اور متحرک مشین بنا ڈالا پھر جب چین عالمی منظر پر ظاہر ہوا تو تھوڑے ہی عرصے میں عالمی تجارت اور منظر اور متحرک مشین بنا ڈالا پھر جب چینی عالمی منظر پر ظاہر ہوا تو تھوڑے ہی عرصے میں عالمی تجارت اور سفارت پر چھا گیا۔ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ ہو یا ففتھ جنریشن ٹیکنالوجی، آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی ڈور ہو یا کسی بھی شعبے میں مقابلہ، چین نے جاری عالمی نظام کا حصہ بن کر، اسی نظام کے ضوابط کی دوڑ ہو یا کسی بھی شعبے میں مقابلہ، چین نے جاری عالمی نظام کا حصہ بن کر، اسی نظام کے ضوابط کی پابندی کرتے ہوئے اس نظام کے بانیوں مہانیوں کو پچھاڑا، نعرے بازی سے نہیں، ٹھوس حکمت عملی پر عمل پیرا ہو کر۔ اقوام مغرب کو ساتھ ملا کر، چین نے جو نظام ترتیب دیا ہے وہ اس قدر پرکشش ہے کہ اقوام مغرب ہوں یا مشرق اور افریقی اقوام میں اس میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں۔ چین عالمی معیشت و تجارت پر چھا رہا ہے یہی وجہ ہے کہ امریکی عالمی برتری کا سنگھاسن ڈول چکا ہے۔ چینی معیشت میں خالص سرکاری کنٹرول میں کام کرنے والے ادارے بھی شامل ہیں۔ خالصتاً سرکاری کنٹرول میں کام کرنے والے ادارے بھی شامل ہیں۔ خالصتاً نجی شعبے کی قوی الجثہ پیداواری ادارے بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ نجی و سرکاری مشترکہ کنٹرول میں چلنے والی کارپوریشنز بھی کام کر رہی ہیں۔ قومی پیداوار کا 60فیصد خالصتاً نجی شعبہ پیدا کرتا ہے اور نئے روزگار کے مجموعی مواقع کا 90فیصد یہ شعبہ پیدا کرتا ہے۔ شہری زندگی میں پیداکردہ ذرائع روزگار کا 80فیصد خالصتاً نجی شعبے کا پیدا کردہ ہوتا ہے۔ اس سے ہمیں اندازہ ہو جانا چاہئے کہ چینی معیشت کس قدر تنوع اور مضبوط بنیادوں پر کھڑی ہے۔ چینی معیشت نے 2024ءمیں 5فیصد گروتھ ریٹ کے ساتھ 18.9ٹریلین ڈالر کی اشیاءو خدمات پیدا کیں جبکہ امریکی معیشت نے 2.8فیصد گروتھ کے ساتھ 29.2 ٹریلین ڈالر کی اشیاءخدمات پیدا کیں۔ چینی معیشت تیزی سے پھل پھول رہی ہے اس کا حجم بہت زیادہ ہے اس کی کارکردگی بہت اعلیٰ ہے لیکن امریکہ کیونکہ 200 سال سے تعمیر و ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہے اور عالمی معیشت میں کلیدی اور رہنما کردار ادا کرتا رہا ہے۔ چین ابھی اس مقام سے دور ہے لیکن جس رفتار سے اس کی معیشت پھل پھول رہی ہے وہ مقام اب اس کی پہنچ سے زیادہ دور نظر نہیں آ رہا ہے۔ چین عالمی سطح پر نمبرون بننے جا رہا ہے، اب یہ صرف وقت کی بات ہے۔ 
چینی برآمدات یعنی ایکسپورٹ میں ہر سال اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ چین کی امریکی برآمدات میں 2024ءمیں 10.7فیصد بڑھوتی ہوئی۔ 2024ءمیں چینی برآمدات کا حجم 525ارب ڈالر تھا جبکہ امریکہ سے چینی درآمدات 2018ءمیں 21.2فیصد سے گھٹتے گھٹتے 2024ءمیں 13.85فیصد ہو گئی ہیں گویا چین برآمدات سے جو کماتا ہے وہ زیادہ ہے جبکہ امریکہ سے خریداری پر جو خرچ کرتا ہے وہ کم۔ ایکسپورٹ آمدن اور امپورٹ خرچ کے فرق کو تجارتی خسارہ کہتے ہیں۔ اس شعبے میں امریکہ خسارے میں ہے اور چین منافع میں ہے اس تجارت سے چین خوب کمائی کر رہا ہے جبکہ امریکہ کے لئے یہ گھاٹے کا سودا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ نے چینی مصنوعات پر ٹیرف بڑھا کر انہیں مہنگا کرنے کی کوشش کی ہے اس طرح امریکہ میں چینی امپورٹس مہنگی ہونے کے باعث پرکشش نہیں رہیں گی اور توقع کی جا رہی ہے کہ اس طرح امریکی تجارتی خسارہ بھی کم ہوگا اور چینی مصنوعات کی مانگ میں کمی واقع ہو گئی۔ اس ٹیرف سے امریکی خزانے میں زیادہ سے زیادہ ڈالر جائیں گے ویسے ابھی تک یہ صرف حساب کتاب ہی ہے۔ عملاً کیا ہوگا وہ تو ہمارے سامنے نہیں آیا لیکن عالمی سٹاک مارکیٹ میں بھونچال ضرور آ گیا ہے۔ ہلچل مچی ہوئی ہے عالمی نظام زر میں کجی کا زور ہے۔ بے یقینی کی صورتحال نے عالمی سطح پر چین کی منفی اثرات مرتب کرنا شروع کر دیئے ہیں۔ چین نے امریکی ٹیرف کا جواب دینا شروع کر دیا ہے۔ چین نے چین امریکی درآمدات پر بھی ٹیکس لگا دیا ہے۔ اس طرح امریکہ سے چین جانے والی امریکی برآمدات چینی مارکیٹ میں مہنگی ہو جائیں گی۔ ان کی طلب/ کھپت میں کمی ہوگی۔ چین ایک بڑی معیشت ہے اس کے پاس زرمبادلہ کے وسیع و عریض ذخائر ہیں۔ اس کی اشیاءاس کے اپنے نظام کے ذریعے تین براعظموں کے 129سے زائد ممالک میں پہنچتی ہیں اس لئے چین کو اس جنگ میں کسی بڑے نقصان کا احتمال نہیں ہے۔ اگر یہی بات ہم دوسرے طریقے سے کریں تو اس جنگ کے نقصانات برداشت کرنے کی چین کی صلاحیت امریکہ کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ یہ ایک طرح کی اعصابی جنگ بھی ہے۔ اس حوالے سے امریکی قیادت کی وہ صلاحیت نہیں ہے جو چینی قیادت کی ہے۔ ٹرمپ اس جنگ میں اکیلے نظر آ رہے ہیں اس کی ریاستی قوتیں بھی شاید ان کے ساتھ نہیں ہیں۔ ان کے یورپی حلیف بھی ان کی حرکات کے باعث ان سے ناراض ہیں جبکہ چینی قیادت منظم اور مستحکم ہے۔ تجربہ کار ہے اور متانت کے ساتھ عالمی نمبرون پوزیشن کی طرف محو سفر ہے۔ 
عسکریت و معاشی لوٹ کھسوٹ کے باعث مغربی تہذیب کا اخلاقی پہلو غائب ہوا چاہتا ہے۔ اسی طرح امریکہ کا غلبہ اور قبولیت بھی گھٹ رہی ہے۔ چینی امریکہ جنگ کا یہ پہلو بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ امریکہ اور زبردستی اپنا غلبہ برقرار رکھنے کے لئے کوشاں ہے لیکن شاید اب ایسا ممکن نہ ہو۔

ٹیگز: