Wed, September 16, 2026

چاکلیٹی ہیرو وحید مراد کو مداحوں سے بچھڑے 42 برس ہو گئے

چاکلیٹی ہیرو وحید مراد کو مداحوں سے بچھڑے 42 برس ہو گئے

لاہور : پاکستان کے مشہور اداکار، چاکلیٹی ہیرو وحید مراد کو مداحوں سے بچھڑے 42 برس مکمل ہو گئے ہیں۔ 2 اکتوبر 1938 کو کراچی میں پیدا ہونے والے وحید مراد نے جامعہ کراچی سے انگریزی ادب میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ اپنے فلمی کیریئر کا آغاز انہوں نے 1962 میں فلم "اولاد" سے معاون اداکار کے طور پر کیا، لیکن بطور ہیرو ان کی پہلی کامیاب فلم "ہیرا اور پتھر" تھی جس نے انہیں ایک نیا مقام دلایا۔

1966 میں آئی ان کی فلم "ارمان" نے باکس آفس پر دھوم مچائی اور وحید مراد کو شہرت کی بلندیوں تک پہنچا دیا۔ انہوں نے اردو، پنجابی اور پشتو فلموں سمیت 125 سے زیادہ فلموں میں کام کیا اور ہر کردار میں اپنی منفرد اداکاری سے دلوں کو جیتا۔ ان کی مشہور فلموں میں "دل میرا دھڑکن تیری"، "عندلیب"، "مستانہ ماہی"، "دیور بھابھی" اور "نصیب اپنا اپنا" شامل ہیں، جنہوں نے ہر دور میں مقبولیت حاصل کی۔

وحید مراد نہ صرف ایک بہترین اداکار تھے، بلکہ ان کا منفرد اسٹائل بھی مداحوں میں مقبول تھا۔ ان کے بالوں کے سٹائل اور ملبوسات کی نقل کی جاتی تھی، اور وہ پاکستان فلم انڈسٹری کے واحد اداکار تھے جن کی فلموں نے سب سے زیادہ جوبلیاں منائیں۔

اداکاری کے علاوہ، وحید مراد نے بطور مصنف اور پروڈیوسر بھی کام کیا، اور پاکستان کی فلم انڈسٹری کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی فنی خدمات کے اعتراف میں انہیں کئی ایوارڈز ملے، جن میں نگار ایوارڈ اور نیشنل ایوارڈ شامل ہیں۔

23 نومبر 1983 کو وحید مراد کا انتقال ہوا، لیکن ان کی فلمیں اور یادیں آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ 2011 میں حکومت پاکستان نے انہیں بعد از مرگ "ستارہ امتیاز" سے نوازا، جو ان کی فن کی عظمت کا اعتراف ہے۔ وحید مراد کا نام ہمیشہ پاکستانی فلم انڈسٹری کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔

ٹیگز: