Wed, September 16, 2026

دلدار پرویز بھٹی کو مداحوں سے بچھڑے 31 برس ہو گئے

دلدار پرویز بھٹی کو مداحوں سے بچھڑے 31 برس ہو گئے

لاہور : مشہور کمپیئر، کالم نگار اور مصنف دلدار پرویز بھٹی کو آج سے 31 سال پہلے ہم سے جدا ہوئے۔ وہ ایک ایسا فنکار تھے جو اردو، انگریزی اور پنجابی زبانوں پر یکساں مہارت رکھتے تھے۔ دلدار پرویز بھٹی کا جنم 30 نومبر 1948 کو گوجرانوالہ میں ہوا، اور انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز گورنمنٹ کالج ساہیوال میں لیکچرار کے طور پر کیا۔

دلدار پرویز بھٹی کا مزاحیہ انداز اور حاضر جوابی انہیں ایک منفرد مقام دلاتے تھے۔ وہ طنز و مزاح کے ذریعے لوگوں کو ہنسانے کے ماہر تھے اور ادب کے دائرے میں رہ کر اپنی باتیں اثرانداز انداز میں پیش کرتے تھے۔

ان کا فنی سفر ریڈیو پاکستان لاہور سے شروع ہوا، اور پھر 1974 میں ٹیلی ویژن پر آنے کے بعد ان کی شہرت میں مزید اضافہ ہوا۔ ان کے مشہور پروگرام "ٹاکرا"، "یادش بخیر" اور "جواں فکر" نے انہیں عوام میں بے پناہ مقبولیت دی۔ 1987 میں ان کا مشہور پروگرام "میلہ" آیا، جسے 1990 میں "پنجند" کے نام سے جانا جانے لگا۔ یہ پروگرام آج بھی ان کی پہچان ہے۔

دلدار پرویز بھٹی نے کئی کتابیں بھی لکھیں جن میں "دلداریاں"، "آمنا سامنا" اور "دلبر دلبر" شامل ہیں۔ ان کی یہ کتابیں ان کی تخلیقی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

بدقسمتی سے 30 اکتوبر 1994 کو امریکہ میں دماغ کی شریان پھٹنے سے ان کا انتقال ہو گیا، لیکن ان کا فن آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔ ان کی یادیں، ان کے پروگرام اور ان کی کتابیں ہمیشہ ہمارے ساتھ رہیں گی۔

ٹیگز: