پاکستان گزشتہ چند برسوں سے شدید معاشی مشکلات، مہنگائی، زرمبادلہ کے بحران، بیرونی قرضوں کے دبا¶ اور روپے کی گرتی ہوئی قدر جیسے چیلنجز کا سامنا کرتا رہا ہے۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب عالمی مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل دکھائی دینے لگا، درآمدات محدود کرنا پڑیں اور عوام مہنگائی کے بوجھ تلے دب گئے۔ تاہم حالیہ مہینوں میں معیشت کے بعض اہم اشاریوں میں بہتری سامنے آنا شروع ہوئی ہے جسے حکومت کی معاشی پالیسیوں، ریاستی اداروں کی ہم آہنگی اور عالمی سطح پر پاکستان کی بہتر سفارتی حکمت عملی کا نتیجہ قرار دیا جارہا ہے۔پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں مسلسل اضافہ، پاکستانی روپے کی مستحکم ہوتی پوزیشن اور بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کا موجودہ حکومت پر بڑھتا ہوا اعتماد خوش آئند اشارے ہیں۔ حکومت کی معاشی پالیسیوں کے مثبت نتائج اب سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں جبکہ بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بحال ہورہا ہے۔ کسی بھی ملک کی اقتصادی طاقت کا اندازہ اس کے زرمبادلہ کے ذخائر سے لگایا جاتا ہے۔ مضبوط ذخائر نہ صرف درآمدات اور بیرونی ادائیگیوں کو سہارا دیتے ہیں بلکہ کرنسی کو بھی استحکام فراہم کرتے ہیں۔ پاکستان میں حالیہ عرصے کے دوران ترسیلات زر میں اضافہ، برآمدات میں بہتری اور درآمدات میں نسبتی کمی نے زرمبادلہ کے ذخائر کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں نسبتاً استحکام دیکھنے میں آرہا ہے۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا۔ جب کسی ملک کے مالیاتی اشاریے بہتر ہوتے ہیں تو عالمی ادارے اور بیرونی سرمایہ کار اس ملک کو زیادہ قابل اعتماد سمجھتے ہیں۔ یہی اعتماد غیر ملکی سرمایہ کاری کے دروازے کھولتا ہے، جو کسی بھی ترقی پذیر معیشت کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔پاکستان میں مہنگائی کی ایک بڑی وجہ روپے کی کمزور ہوتی قدر رہی ہے۔ چونکہ پاکستان بڑی حد تک درآمدی معیشت ہے، اس لیے ڈالر مہنگا ہونے سے پیٹرولیم مصنوعات، صنعتی خام مال، مشینری اور روزمرہ استعمال کی متعدد اشیاءمہنگی ہوجاتی ہیں۔ اب اگر روپے کی قدر مستحکم ہوتی ہے تو درآمدی لاگت میں کمی آسکتی ہے، جس سے مہنگائی پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ یہی وجہ ہے کہ کاروباری حلقے بھی روپے کی مضبوطی کو ایک مثبت پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔حکومت کی جانب سے غیر قانونی کرنسی اسمگلنگ اور ہنڈی حوالہ کے خلاف کیے گئے اقدامات بھی اس بہتری میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ ماضی میں ڈالر کی غیر قانونی خرید و فروخت اور اسمگلنگ نے ملکی کرنسی کو شدید نقصان پہنچایا تھا۔ لیکن حالیہ کارروائیوں سے اوپن مارکیٹ اور انٹر بینک ریٹ کے درمیان فرق کم ہوا، جس سے مارکیٹ میں اعتماد بحال ہوا۔ اس کے ساتھ ساتھ اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر میں اضافہ بھی روپے کے استحکام میں معاون ثابت ہورہا ہے۔پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کو بھی معاشی استحکام سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم میاں شہبازشریف کی جانب سے خطے میں امن کے قیام، ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرانے اور جنگ بندی کو مستقل کرانے کیلئے کی جانے والی سفارتی کوششوں کو عالمی سطح پر مثبت انداز میں دیکھا گیا ہے۔ کسی بھی ملک کی معیشت کا تعلق صرف داخلی پالیسیوں سے نہیں بلکہ علاقائی اور عالمی سیاسی حالات سے بھی ہوتا ہے۔ جب خطے میں کشیدگی کم ہوتی ہے تو سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھتا ہے، تجارت کو فروغ ملتا ہے اور عالمی منڈیوں میں استحکام پیدا ہوتا ہے۔خصوصاً تیل کی عالمی قیمتوں میں استحکام پاکستان کیلئے نہایت اہم ہے کیونکہ پاکستان ہر سال اربوں ڈالر کی پیٹرولیم مصنوعات درآمد کرتا ہے۔ اگر خطے میں امن قائم رہتا ہے اور عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں مستحکم رہتی ہیں تو اس کا براہِ راست فائدہ پاکستان کی معیشت کو ہوگا۔ بجلی کی پیداواری لاگت کم ہوسکتی ہے، ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں کمی آسکتی ہے اور صنعتی سرگرمیوں کو فروغ مل سکتا ہے۔تاہم ان تمام مثبت اشاریوں کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو اب بھی کئی بڑے معاشی چیلنجز درپیش ہیں۔ گردشی قرضے، توانائی بحران، ٹیکس نیٹ کی محدودیت، بے روزگاری، صنعتی سست روی اور بڑھتی ہوئی آبادی جیسے مسائل فوری اور مستقل توجہ چاہتے ہیں۔ صرف وقتی معاشی استحکام کو پائیدار ترقی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ حکومت کو ضروری ہے کہ وہ صنعتی پیداوار، برآمدات، زراعت، آئی ٹی سیکٹر اور مقامی سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے طویل
المدتی پالیسیوں پر کام کرے اور آنے والے نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ میں قابل عمل اقدامات تجویز کئے جائیں جو مستحکم پالیسیوں سے منسلک ہوں۔اس کے ساتھ ساتھ سیاسی استحکام اور پالیسیوں کا تسلسل بھی انتہائی ضروری ہے۔ سرمایہ کار ہمیشہ ایسے ممالک میں سرمایہ کاری کو ترجیح دیتے ہیں جہاں سیاسی ماحول مستحکم، قانون کی حکمرانی مضبوط اور معاشی پالیسیاں مستقل ہوں۔ اگر حکومت، عسکری قیادت، سٹیٹ بینک اور معاشی ادارے ایک صفحے پر رہتے ہوئے اسی انداز میں کام کرتے رہے تو پاکستان نہ صرف موجودہ بحرانوں سے نکل سکتا ہے بلکہ خطے کی ایک مضبوط اور ابھرتی ہوئی معیشت کے طور پر سامنے آسکتا ہے۔بلاشبہ حالیہ معاشی اشاریے امید کی ایک نئی کرن دکھا رہے ہیں۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ، روپے کا استحکام، عالمی اداروں کا اعتماد، ترسیلات زر میں بہتری اور سرمایہ کاروں کی بحال ہوتی دلچسپی مثبت علامات ہیں۔ تاہم اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب عام آدمی کو بھی اس بہتری کا حقیقی فائدہ پہنچے، مہنگائی میں واضح کمی آئے، روزگار کے مواقع بڑھیں اور عوام کے معیارِ زندگی میں حقیقی بہتری نظر آئے۔ یہی وہ اصل معاشی استحکام ہوگا جس کی پاکستان کو طویل عرصے سے ضرورت ہے۔