Wed, September 16, 2026

 پنجابنیں کنیزیں نہیں شیرنیاں ہیں....

 پنجابنیں کنیزیں نہیں شیرنیاں ہیں....

جب سے پنجاب کی سربراہ شیردل خاتون وزیراعلیٰ مریم نواز شریف بنی ہیں اور ان کے ہمراہ پوری ٹیلنٹڈ Talantedخواتین کی ٹیم پوری بیوروکریسی اداروں اور محکموں کے سربراہ بہترین کام کررہے ہیں پنجاب میں 100سے زیادہ ترقیاتی پروگرام آن گراﺅنڈ ہیں صرف فائلوں میں نہیں گزشتہ ادوار کی 35روپے والی روٹی بے تحاشہ مہنگائی بے قابو قیمتیں لوگ بھولے نہیں بزدار دور کی سردخاموشی ناکوئی کام نہ منصوبہ سب کو یاد ہے جس طرح مریم نواز اوران کی ٹیم نے شبانہ روز محنت مشقت کرکے پنجاب کو پہلے اصلی شکل میں واپس لانے کی سعی کی ہے اور اس کے بعد ترقی کی شاہراہ پر ڈالا ہے اپنی مثال آپ ہے مدت بعد پنجاب میاں نوازشریف اور میاں شہباز شریف کے زمانے کی ترقی والے دور میں داخل ہوا ہے مریم نواز کوزیادہ Strugaleاس لیے کرنا پڑی کیونکہ بزدار اور خان پارٹی اسے اتنا پیچھے لے جاچکے تھے جس کی تلافی آسان نہ تھی۔ 
اتنا بڑا ریورس گیئر لگ چکا تھا جسے پہلے گیئرہی میں واپس لانا ناممکن تھا، مریم اورنگ زیب اور عظمیٰ بخاری نہایت پڑھی لکھی خواتین ہیں ان کی ذاتی طورپر بھی انوائرمنٹ اور قانون میں اعلیٰ ڈگریاں ہیں عظمیٰ زاہد بخاری ایک نہایت قابل وکیل زاہد بخاری صاحب کی دختر ہیں اس وقت جہاں بھی پہنچی ہیں اپنی انتھک محنت اور پارٹی سے وفاداری کی پاداش میں یہاں کے گھٹیا ذہنوں کی بنائی ہوئی فضول فیک ویڈیوز کو عبور کرکے پہنچی ہیں کیونکہ سانچ کو آنچ نہیں ہوتی جھوٹے الزامات کی ٹکے برابر اہمیت نہیں ہوتی مجھے بطور عورت تب دکھ ہوتا ہے جب عورت کی ترقی کا مقابلہ نہ کرسکنے پر مرد اور دشمن کردار کشی شروع کرتے ہیں یہ سب سے آسان اور سستا طریقہ ہے اور جس پر اب لوگ یقین نہیں کرتے ....
اس طرح کی گھٹیاں سوچ لے کر گنڈہ پور بھی حملہ آورہوتا رہا جسے پنجاب کی عورتوں نے جوتی کی نوک پر رکھا اور وہ منہ کی کھا کر واپس لوٹ گیا دلچسپ امریہ کہ مریم نواز نے نہ کنٹینر لگائے نہ راستے بند کئے تاکہ اس بندے کی اوقات کھل کر عوام کے سامنے آجائے یہ نہ کہہ سکے کہ میرا لاکھوں کا مجمع محض راستوں کی بندش سے رہ گیا اس دن سارا وقت عظمیٰ بخاری سڑکوں پر خود ویڈیو بنابنا کر اپ لوڈ کرتی رہیں پورا شہر ویران پڑا تھا خالد شریف صاحب کا شعر ذرا تبدیلی کے ساتھ ....
آنے کا سن لوگوں نے نفرت دکھائی وہ 
اک شخص سارے شہر کو ویران کرگیا
میرا خواتین مخالفت والوں سے بس اتنا کہنا ہے کہ خم ٹھونک کر میدان میں آئیں نایہ مردعورت کیا ہوتا ہے ؟ منسٹر منسٹر ہوتا ہے وزیراعلیٰ وزیراعلیٰ جسے ڈائریکٹر ڈائریکٹر ہوتا ہے ڈائریکٹر نہیں ہوتا آپ عورتوں سے ڈرے سہمے لوگ پھر عورت پن پر ہی وارکرتے ہیں وزیراعلیٰ اور ان کی معاون ٹیم کے نام میں نقص نکالیں ثبوت لائیں یہ گھٹیاں زبان ”کنیزیں“ کہنا آپ کی زخم خوردگی کا باعث ہے ....یعنی سی ایم کے ہمراہ جو مرد کام کررہے ہیں وہ ٹھیک اور جو ذہین کارکن خواتین کام کررہی ہیں ان کا عورت ہونا بخشا نہیں جائے گا آپ کس ہزار سالہ پرانے ذہن کی بات کرتے ہیں جو صرف عورت کے لیے کردار ضروری سمجھتا ہے مرد کے لیے اس کی ضرورت نہیں وہ پرانے مرد جو چوراہے میں قمیض اتار کر کھڑے ہوئے گالی بکنے کو مردانگی سمجھتے اپنے عشقوں کے قصے فخرسے بیان کرتے اور عورت کے دامن کا داغ رسوائی صرف عورت تک ہی محدود کرتے ہوش کریں ،صاحبان آپ کی جعلی مردانگی کا پردہ چاک ہو چکا مردانگی یہ ہے کہ خواتین کے کام کو پورے ظرف سے تسلیم کریں کام کی بنیاد پر تنقید اورتوصیف کریں عورت مرد کی کہانی چھوڑیں وگرنہ آپ عورتوں کو کنیزیں کہیں گے تو مرد غلاموں کی فہرستیں بھی جاری ہوجائیں گی مگر میں چونکہ ذاتی طورپر غلامانہ فلسفے کے خلاف ہوں میں مردوں کو بھی غلام کہوں گی میرے نبی نے چودہ سوسال قبل انسانی غلامی کا سلسلہ روک دیا تھا....
البتہ نسوانیت کی طرح مردانگی بھی ظرف میں ہے جس طرح عورت اپنا خون اولاد کو پلاتی ہے اس طرح مرد بھی پسینہ بہارکر عورت کا وقار بلند کرتا ہے اس کی گھراورگھر سے باہر حفاظت کرتا ہے اس کے کام اورٹیلنٹ کو دیکھ کے ڈر نہیں جاتا آپ سے تقاضا ہے ان پڑھی لکھی عورتوں کا بھی احترام کریں اور سرپر اینٹوں کو اٹھائے ہوئی عورت کو بھی احترام دیں۔ 
مت ڈریں مت ایسے القابات دیں ایک عورت کی توہین تمام عورتوں کی توہین ہے میدان میں آئیں مقابلہ کریں آج پنجاب کی خواتین نے میدان مار لیا ہے جان چھوٹی چیز ہے مگر جو دلیری اوربہادری عظمیٰ بخاری کو حاصل ہے وہ کسے کسے کے حصے میں آتی ہے اوروہ ہمیشہ سے ہی ایسی ہیں دبنگ دلیر اپنے لیڈر کی حفاظت کرنا بھی جانتی ہیں اورپنجاب کی ساری خواتین کی بھی پنجاب کی عورتوں سے ویسے تو کسی کو بھی نہیں الجھناچاہے یہ بہت دلیر ہوتی ہیں اپنی عزت پر آنچ نہیں آنے دیتیں.... ہم تو شاعر لوگ ہیں،ہمیں تو آج تک ان مجبور محبوباﺅں کنیزوں اور ملکاﺅں کا دکھ بھی تکلیف دیتا ہے جو بڈھے کھوسٹ مردودبادشاہوں کے حرم میں مجبوراً پڑی رہیں آج کی عورت طاقتور ہے اس سے مت الجھیں میں اس محاورے کو بھی بدلنا چاہتی ہوں کہ ہم مردانہ وار مقابلہ کرتے ہیں نہیں ہم اپنی پوری نسوانیت سمیت عورت بن کر مقابلہ کرتے ہیں آئندہ کسی پنجابن کو ہلکا نہ لینا یہاں کی عورتیں کنیزیں نہیں شیرنیاں ہیں۔ 

ٹیگز: