خطرے کی گھنٹی بج گئی، وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ مسلم اور عرب ممالک ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہو گئے، امریکی سازش کامیاب، بغل بچہ بغلیں بجا رہا ہے، ٹرمپ نے شٹ اپ کال دی، نیتن یاہو (پتہ نہیں مردود زندہ بھی ہے یا نہیں) نے ماننے سے انکار کر دیا۔ ایران کے سب سے بڑے آئل گیس فیلڈ پر اسرائیلی حملے کے بعد جنگ تیز ہو گئی۔ ایران نے اس کا جواب سعودی عرب سمیت عرب ممالک پر میزائل فائر کر کے دیا اور وارننگ بھی دی کہ اگر ان ممالک میں موجود امریکی اڈوں سے حملہ کیا گیا تو ایران تیل کے کنوئیں اڑا دے گا۔ ٹرمپ نے ایرانی آئل فیلڈ پر حملے کے بعد معذرت کی اور کہا کہ اسرائیل نے ہم سے پوچھے بغیر حملہ کیا، شٹ اپ کال دی کہ آئندہ گیس اور تیل کے کنوو¿ں پر حملے نہ کئے جائیں۔ دفاعی ماہرین نے اسے ٹرمپ کی معافی سے تعبیر کیا لیکن ناجائز بچہ پاگل پن کی حد تک غصے میں ہے۔ اس نے ٹرمپ کی بات ماننے سے انکار کر دیا۔ تاہم ایران نے جدید ترین میزائلوں سے اسرائیلی شہروں پر حملہ کر کے اس کی سٹی گم کر دی۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق بن گوریان ایئرپورٹ جل رہا ہے۔ دیگر شہروں میں عمارتیں زمیں بوس ہو گئی ہیں اور سائرن بج رہے ہیں۔ ان ذرائع کا کہنا ہے کہ تن تنہا امریکہ اور اسرائیل کا مقابلہ کرنے والے ملک ایران نے جنگ کا پہلا راﺅنڈ جیت لیا ہے، ان ذرائع کے مطابق امریکہ اپنی یا اسرائیل کی جنگ میں اب تک دو سو کروڑ ڈالر جھونک چکا ہے اتنی ہی رقم ٹرمپ نے مزید مانگ لی ہے، جس کی سینیٹ نے تاحال منظوری نہیں دی۔ امریکی سینیٹ کی خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں حالیہ جنگ پر طویل بحث کے دوران خفیہ اداروں کی 33 صفحات پر مشتمل رپورٹ بھی پیش کی گئی جس میں ”امریکہ کو کن ممالک سے خطرہ ہے“ کے عنوان سے چین، روس، بھارت اور پاکستان کا ذکر کیا گیا۔ سینیٹر مرفی نے اپنے خطاب میں پاکستان کا تین چار بار ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے بین البراعظمی میزائلوں سے امریکہ تک پہنچ سکتا ہے۔ دفاعی ماہرین اس خطرے کا اظہار بہت پہلے سے کرتے رہے ہیں۔ پاکستان بھی اس خطرے سے آگاہ ہے لیکن موجودہ حکومت اور پاک فوج کی قیادت نے اپنی شاندار خارجہ پالیسی اور سفارتکاری سے اس خطرے کو سر اٹھانے کا موقع نہیں دیا حتیٰ کہ ایران جنگ میں بھی پاکستان نے غیر جانبدارانہ پالیسی سے ایران اور عرب ممالک سے قریبی تعلقات نہ صرف برقرار رکھے بلکہ سعودیہ اور ایران میں جنگ کی آگ کو پھیلنے سے روکے رکھا۔ وزیر اعظم شہباز شریف، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے براہ راست ملاقاتیں کر کے سعودی عرب کے دفاع کی مکمل یقین دہانی کرائی، دوسری طرف پاکستان نے ایرانی وزیر خارجہ سے بھی رابطے برقرار رکھے۔ روس، چین، ترکیہ اور پاکستان اس جنگ کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کی سر توڑ کوشش کر رہے ہیں لیکن عرب ممالک میں امریکی اڈوں کی موجودگی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ سعودی وزیر خارجہ کی زیر صدارت خصوصی اجلاس میں عرب ملکوں پر ایرانی حملوں کی مذمت کی گئی، کہا گیا کہ عرب ممالک اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ اجلاس میں پاکستان، ترکیہ اور مصر کو خصوصی طور پر مدعو کیا گیا، تاہم اس اجلاس میں جنگ ختم کرنے کا کوئی فارمولا منظر عام پر نہیں آ سکا۔ ایران کے خلاف جنگ تیسرے ہفتے میں داخل ہو گئی۔ سارے سوال برقرار ہیں کہ ایران کے 48 اہم رہنماو¿ں کی شہادتوں کے باوجود رجیم تبدیلی ممکن ہو سکی، کیا ایران کی ایٹمی پیشرفت کو روکا جا سکا۔ کیا ٹرمپ نے ایران کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کر لیا؟ تمام سوالات کے جوابات نفی میں ہیں۔ اس کے برعکس ایران نے امریکہ کی ”سپر پاور“ آبنائے ہرمز میں غرق کر کے اس کی چودھراہٹ ختم کر دی۔ دنیا کی سب سے بڑی نیوی رکھنے والے ملک کا صدر آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے دنیا کی منت سماجت پر اتر آیا۔ ٹرمپ کی بڑھکیں اور نیتن یاہو کی دھمکیاں منمناہٹ میں تبدیل، ٹرمپ نے پانچ چھ ملکوں سے عاجزانہ درخواست کی کہ وہ اپنے بحری بیڑے بحیرہ احمر میں لائیں اور آبنائے کا گھیراو¿ کر کے ایران کو اسے کھولنے پر مجبور کر دیں لیکن وائے بد نصیبی کوئی ملک اس پر تیار نہیں ہوا۔ ہر طرف سے کورا جواب۔ چین، جاپان، اٹلی، برطانیہ،
فرانس، سپین کا انکار، جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے، نیٹو کی طرف سے بھی ناں۔ ٹرمپ اور نیتن یاہو بھری دنیا میں تنہا رہ گئے۔ نوبل انعام کی خواہش سینے میں دم توڑ گئی۔77 ہزار فلسطینیوں کے خون سے دامن تر، ایرانی قیادت کی شہادتیں نامہ¿ اعمال میں درج، سکولوں اور شہری آبادیوں پر حملوں کے جنگی جرائم کے مرتکب، وہی حشر ہوگا جو ہٹلر، فرعون اور نمرود کا ہوا تھا۔ جنگ کے تیسرے ہفتے میں بھی ایران ڈٹ کر کھڑا ہے اور چومکھی لڑ رہا ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای، علی لاریجانی، غلام رضا سلیمانی اور ایرانی انٹیلی جنس کے وزیر اسماعیل خطیب سمیت پوری قیادت کی شہادتیں بھی اس کے پائے استقلال میں لرزش پیدا نہیں کر سکیں۔ امر باعثِ حیرت ٹرمپ نے یہ کہہ کر شکست تسلیم کر لی کہ ایران کے سارے اہداف ختم نہیں کر سکے، ایران مذاکرات پر آمادہ نہیں ہوا۔ آبنائے ہرمز پر بدستور ایران کا قبضہ ہے جہاں سے ٹول ٹیکس کی مد میں اسے سالانہ 72 ارب ڈالر کی آمدنی ہوتی ہے۔ امریکہ ادھر آنے سے خوفزدہ ہے۔تاہم وہ اور اسرائیل مل کر مشرقِ وسطیٰ میں تباہی، عرب ممالک کو جنگ کا ایندھن بنانے پر تل گئے ہیں۔ جنگ نہ رکی تو مشرقِ وسطیٰ کا پورا خطہ تباہ، تیل اور گیس کی دولت سے خالی ہو جائے گا، ایک تہذیب کا خاتمہ ہوگا، ٹرمپ اور یاہو یہی چاہتے ہیں۔ ٹرمپ عرب ممالک کو یہ کہہ کر ڈرا رہا ہے کہ اگر امریکہ نے اپنے اڈے ختم کر دئیے تو ایران تمہیں کھا جائے گا، منافرت پیدا کرنے اور اسلامی ملکوں کو آپس میں لڑانے کی اس سازش کو صرف عرب ممالک ہی ختم کر سکتے ہیں اور بحمد للہ سعودی عرب سمیت عرب ملکوں میں باہمی اتحاد کا رجحان پنپ رہا ہے۔ اس طرزِ عمل میں پاکستان کا کردار قائدانہ ہے۔ یہ عمل طویل سہی لیکن ان شاءاللہ امریکہ اور اسرائیل کی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔ دوسری طرف امریکہ اور چند دیگر ممالک کی بھیک پر پلنے والے طالبان حکمرانوں اور خوارج کے خلاف پاکستان کی فوج اور ایئر فورس نے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ایئر سٹرائیکس سے جو کامیابیاں حاصل کی ہیں ان کی وجہ سے وہاں کی منافقین پر مشتمل حکومت گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو گئی ہے اور حمایتی حکومتوں سے افغانستان میں حملے بند کرانے کی درخواست کی ہے جن کے کہنے پر پاکستان نے عارضی طور پر عید کے دنوں میں حملے بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم افغان رجیم پر واضح کیا گیا ہے کہ اگر خوارج نے اپنی حرکتیں جاری رکھیں تو ان کیخلاف ایئر سٹرائیکس دوبارہ شروع کر دی جائیں گی۔