Wed, September 16, 2026

ایران کی طرف سے عیدی

ایران کی طرف سے عیدی

ابراہا بہت طاقتور بادشاہ تھا اس کی فوج میں دیگر جنگی سازوسامان کے علاوہ بڑی تعداد میں ہاتھی بھی شامل تھے جو میدان جنگ میں مخالف فوج کی سپاہ کو روندتے ہوئے گزر جاتے تھے لیکن جب وہ خانہ خدا کو گرانے کے ارادے سے آیا تو خدا نے اپنے گھر کی حفاظت خود کرنے کا فیصلہ کیا پھر اس نے ابابیلوں کے جھنڈ کے جھنڈ بھیجے جو اپنی چونچ میں کنکریاں اٹھائے ہوئے تھے، ان کی برسائی ہوئی کنکریوں نے ہاتھیوں کے بھیجے پھاڑ دیئے پھر وہ اپنی ہی فوج کو روندتے ہوئے واپس بھاگے۔ وقت بہت آگے بڑھ گیا ہے۔ سائنس بہت ترقی کر چکی۔ ٹیکنالوجی کی صدی ہے، اس نے کبھی تصور نہیں کیا تھا۔ ابابیلیں آئیں اس مرتبہ ان کا سائز قدرے بڑا تھا، ان کی چونچ میں کنکریاں نہیں بارود تھا پھر انہوں نے دنیا میں ناقابل تسخیر سمجھے جانے والے دفاعی نظام کے پرخچے اڑا دیئے۔ امریکی اور اسرائیلی لڑاکا جہازوں کو اندھا کر دیا اور سطح آب پر دہشت طاری کر دینے والے ائیرکرافٹ کیرئیر کا بھیجا پھاڑ دیایوں وہ الٹے پاﺅں بھاگنے پر مجبور ہوا۔ ابابیلیں تازہ دم میں ان کے حوصلے بلند ہیں جبکہ ابراہا پسپا ہوتا نظر آتا ہے۔ ٹرمپ کی طرف سے اڑتالیس گھنٹے کی جنگ بندی کی درخواست سامنے آئی ہے جو دراصل اسرائیل کی بھی اہم ضرورت ہے۔ دونوں بڑی طاقتیں بائیس روزہ جنگ میں ہانپ گئی ہیں۔ دونوں کانپ رہی ہیں، دونوں کے اوسان خطا ہیں۔ دونوں کی شدید خواہش ہے کہ جنگ میں بعض اسلامی ممالک کو گھسیٹ لائیں اور خود ایک کنارے پر کھڑے ہو کر تماشا دیکھیں۔ مقام افسوس مسلمان تماشا بننے کے لئے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ خدا جانے انہیں اپنا گھر پھونک کر تماشا دیکھنے میں کیا لطف آتا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اگر نئے دور کا ابراہا موجود ہے تو نئے دور کے نیرو بھی تو ہیں جنہیں اپنے آس پاس لگی آگ نظر نہ آئے تو گھر کو آگ لگا کر تسکین حاصل کرتے ہیں۔
چند روز قبل امریکی صدر اپنے اوول آفس میں صحافیوں کے سامنے بیٹھے اپنی کامیابیوں کے فرضی قصے سنا رہے تھے جن میں ایران کی ایٹمی تنصیبات، اس کی نیوی، اس کی آرمی اس کی میزائل پاور کو تہس نہس کرنے کے دعوے تھے پھر اچانک انہوں نے اپنے سامنے رکھے فینٹم 35 جنگی طیارے کی خصوصیات بیان کرنا شروع کر دیں۔ ٹھیک اسی وقت ایرانی میزائل اس طیارے کو کامیابی سے نشانہ بنا چکے تھے۔ اس طیارے نے شدید زخمی حالت میں بہ مشکل ایک مسلمان ملک میں قائم اپنے فوجی اڈے پر لینڈنگ کی اس کا پائلٹ بھی شدید زخمی ہے۔ شاید جانبر نہ ہو سکے۔ امریکی صدر کو اس واقعے کی اطلاع ایک پرچی پر لکھ کر دی گئی تو ان کا چہرہ زرد پڑ گیا۔ انہوں نے چند لمحوں میں اپنی پریس ٹاک ختم کر دی اس کے ساتھ ہی انہیں اطلاع دی گئی کہ دو 
بڑے ائیرکرافٹ بھی ایرانی میزائلوں کی زد میں آئے ہیں اور اب فعال نہیں رہے۔ اگلے متوقع حملے میں وہ سمندر برد ہو سکتے ہیں جس پر انہوں نے دونوں ائیرکرافٹ کیرئیر میدان جنگ سے پیچھے ہٹا لئے۔ سات مختلف فوجی اڈوں اور بارہ قیمتی ترین ریڈار سسٹم کے پرخچے اڑ گئے۔ یلدم برگ نے سولہ امریکی طیارے تباہ ہونے کی خبر کی تصدیق کر دی لیکن اصل میں تباہ ہونے والے طیاروں میں انہیں شمار نہیں کیا گیا جو ائیرکرافٹ کیرئیر پر بیلاسٹک میزائل گرنے کے بعد سمندر میں جاگرے۔ ان طیاروں کی تعداد بہت زیادہ ہے جو اسرائیلی ہوائی اڈوں پر میزائلوں کی برسات کے نتیجے میں تباہ ہوئے۔ اسرائیل کے حیفہ میں قائم فوجی اڈے اور خاص طور پر آئل ریفائنری کو جو نقصان پہنچا ہے اس کی تعمیر و مرمت میں کئی برس لگیں گے۔ اس سے زیادہ تباہی اشدود کے شہر میں دوسری ریفائنری اور بجلی پیدا کرنے کے پلانٹ میں ہوئی ہے۔ امریکی اور اسرائیل کے اتحادیوں کے سمندر میں ڈبو دیئے جانے والے آئل ٹینکروں اور تجارتی جہازوں کی تعداد اڑتیس ہو چکی ہے۔ مجموعی طور پر امریکہ کو اس جنگ میں چوالیس ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا 
ہے جبکہ تجارت کی بندش سے ہونے والا نقصان اس کے علاوہ ہے۔ ایران کی طرف سے اس جنگ کا شدید ترین جھٹکا آئندہ چند روز میں کسی بھی وقت آسکتا ۔ ایران زیرسمندر انٹرنیٹ کیبل کاٹنے کا عندیہ دے چکا ہے۔ اگر اس نے ایسا کر دیا تو امریکہ کے آٹھ اتحادی ملکوں میں زندگی کا پہیہ چند لمحوں میں رک جائے گا۔ اس سے انٹرنیٹ کے ذریعے ہونے والا کاروبار رک جائے گا۔ بینکنگ نظام، ائیرلائنز، سپرسٹورز کی شاپنگ، آرڈر بکنگ، غیر ممالک سے تجارت، کمپیوٹرائزڈ بجلی گھر، پانی صاف کرنے کے پلانٹ، ائیرکنڈیشنگ کے پلانٹ کام چھوڑ دیں گے، گویا قیامت کا منظر ہو گا لیکن بظاہر نظر نہیں آئے گا۔ کمیونی کیشن کا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔ زبان اور کان رکھنے کے باوجود کروڑوں افراد گونگے بہرے بن جائیں گے۔ وہ کسی کی سن نہ سکیں گے۔ کوئی ان کی نہ سن سکے گا، اس بات کا قوی امکان ہے کہ خطے کے یہ ممالک جو کسی نہ کسی طور جنگ میں شامل ہیںاندھیروں میں ڈوب جائیں۔
ایک طرف میزائلوں کی برسات دوسری طرف انٹرنیٹ کیبل کٹ گئی تو دنیا کا اقتصادی ڈھانچہ ہل جائے گا، اس کی زد میں وہ ملک بھی آسکتے ہیں جو ابھی اپنی حفاظت میں خودکفیل نہیں ہوئے۔ وہ خود دشمنوں کی زد پر ہیں لیکن دوسروں کی حفاظت کی ذمہ داریاں اٹھا رہے ہیں۔ بھارت اسرائیل امریکہ اور سی آئی اے وموساد حیران ہیں کہ ایرانی میزائل طاقت کا انہیں اندازہ نہ ہو سکا نہ ہی وہ ان کا اب تک کوئی توڑ کر پائے ہیں۔ میزائلوں سے سرنگیں بھری پڑی ہیں لہٰذا میزائل چلتے رہیں گے اور اسرائیل کو لہو میں نہلاتے رہیں گے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے اہم ترین ڈائریکٹر اپنے استعفے میں ٹرمپ انتظامیہ کا منہ کالا کر گئے ہیں۔ ٹرمپ کے چھبیس سینیٹرز مستعفی ہو چکے ہیں جسے خفیہ رکھا جا رہا ہے اور انہیں استعفے واپس لینے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ انہی ایام میں ایپسٹین فائلز کے تازہ ایڈیشن سامنے آئے ہیں جنہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ ہر گزرتے لمحے شرمناک شکست کے ساتھ ساتھ وہ مواخذے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے جو بویا انہیں اب کاٹنا پڑے گا۔ایران نے روز عید کچھ ملکوں کو عیدی پیش کی ہے۔ اسرائیل کا ایک اور ایف سولہ طیارہ مار گرایا ہے ۔

ٹیگز: