Wed, September 16, 2026

ایران کی طرف سے کورا جواب

ایران کی طرف سے کورا جواب

کسی بھی ملک یا اس کی فوج پر کوئی حملہ آور ہو تو وہ اپنی بساط کے مطابق اس جارحیت کا جواب ضرور دیتی ہے لیکن ہمارے آپ کے دیکھتے ہی دیکھتے دو ملکوں کی فوجوں نے بنا لڑے ہی ہتھیار ڈال دیئے یعنی انہوں نے دشمن کے مقابلے کیلئے کچھ نہ کیا بلکہ جارح کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔ ان میں سے ایک شامی فوج جبکہ دوسری وینزویلا کی فوج ہے۔ دونوں کے پاس اس قدر اسلحہ موجود تھا کہ وہ کئی ماہ تک جارحیت کا مقابلہ کر سکتے تھے لیکن انہوں نے نہ لڑنے کا فیصلہ کیا۔ جارح کے مقابلے میں شاید ان کے پاس جنگ کیلئے وسائل کم تھے لیکن اس جذبے کا بھی فقدان نظر آیا جو اپنے دفاع یا جنگ لڑنے کےلئے ضروری ہے پس کہا جا سکتا ہے ان دونوں ممالک کی افواج کے پاس اگر ایٹم بم بھی ہوتا تو شاید وہ دشمن کا مقابلہ کرنے سے گریزاں ہی نظر آتے۔
شام پر جارحیت کرنے والے اپنے ہی لوگ تھے جو امریکہ کا آلہ کار بنے پھر انہوں نے اپنے ہی ملک کو فتح کرنے کی ٹھان لی۔ تاریخ میں نظر آنے والا شام کا ایک نام سوریہ بھی ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد فرانسیسی تسلط میں رہنے والا یہ ملک 1956 میں متحدہ عرب یونین کا حصہ بنا جہاں اسی زمانے میں اس کے ساتھ مصر بھی شامل ہوا۔ ملک شام نے متعدد فوجی انقلاب اور مارشل لا دیکھے ہیں یہاں جنرل حافظ الاسد طویل عرصہ تک حکمران رہے۔ 2000 میں ان کے انتقال کے بعد اقتدار ان کے بیٹے بشارالاسد کو منتقل ہوا، جس کے ساتھ ہی یہاں دنیا کی دو بڑی طاقتوں کے درمیان رسہ کشی بڑھ گئی۔ ملک شام کی سرحدیں عراق ، لبنان ، اردن، ترکی اور اسرائیل کے ساتھ ملتی ہیں، اس کا دارالحکومت دمشق آبادی قریباً 26ملین اور رقبہ ایک لاکھ ستاسی ہزار مربع کلومیٹر ہے۔ یہ کبھی عرب دنیا کا خوشحال ملک تھا۔ آج یہاں غربت اور بھوک کا رقص ہے۔ امریکی گماشتوں کو ازن حکومت ملنے کے بعد یہاں کم از کم پچاس لاکھ کے قریب افراد مارے گئے۔ قریباً اتنے ہی اپنے گھر بار چھوڑ کر کہیں پناہ لینے پر مجبور ہوئے یا بیرون ملک چلے گئے۔ اس کی طاقتور فوج پونے دو لاکھ افراد پر مشتمل تھی، جس کے پاس لڑائی کے لیے ضروری ہتھیار، ٹینک اور توپیں ہزاروں کی تعداد میں موجود تھے۔ امریکی منصوبے کے مطابق روس، یوکرین کی جنگ میں الجھا تو امریکہ نے روس کے زیر اثر ملک شام کو نشانے پر رکھ لیا۔ ایک زمانہ تھا جب آج کے شامی صدر احمد الشرع موٹرسائیکل پر تین افراد کو بٹھا کے گلے میں رائفلیں ڈالے شام کے شہروں میں گشت کرتے نظر آتے تھے۔ امریکہ نے انہیں دہشت گرد قرار دے کر ان کے سر کی قیمت کئی ملین ڈالر مقرر کر رکھی تھی پھر ایک موقع پر امریکیوں نے محسوس کیا انہیں شام کو الٹ پلٹ کر دینے کے لئے جن صلاحیتوں کی ضرورت ہے وہ احمد الشرح میں کوٹ کوٹ کر بھری ہیں، ان کے سر پر ہاتھ رکھا گیا پھر انہوں نے وہ کر دکھایا جو کوئی اور نہ کر سکا۔ احمد الشرح کے دستوں نے جب یلغار شروع کی تو شام کی باقاعدہ فوج غائب ہو گئی۔ کسی نے ان کا مقابلہ نہ کیا۔ شامی فوج کے بڑے بڑے جرنیل جان کی امان پانے کے وعدے اور انعام و اکرام کے لالچ میں اپنے ہزاروں ساتھیوں سمیت احمد الشرح کے ساتھ آ کر ملتے رہے اور امریکہ کا کام آسان کرتے رہے۔ شامی جرنیلوں کو لالچ نے گھیرا تو شامی ٹینک اپنی پیش قدمی بھول گئے۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ رزق حاصل کیا جائے جس میں موت آنے کا خدشہ نہ ہو۔ بشارالاسد کے زمانے میں شامی فوج دنیا کی افواج میں ایک سو پینتالیس میں سے چونسٹھویں نمبر پر تھی، آج کہاں ہے، کوئی نہیں جانتا۔ یہاں ایک زمانے میں 900 امریکی ہوا کرتے تھے۔ آج ان کی تعداد اڑھائی ہزار ہے، ملک کا نظام اب ان کے ہاتھوں میں ہے۔
دوسری نہ لڑنے والی فوج وینزویلا کی ہے، جس کی کارکردگی کی کہانیاں رفتہ رفتہ دنیا کے سامنے آتی رہیں گی اور غداران وطن کا لہو گرماتی رہیں گی۔ آج تک ہر طرف امریکی بیانیہ جگہ پا رہا ہے جو جھوٹ پر مبنی ہے۔ دنیا بھر کی فلموں میں فلم کے آغاز سے ہی ولن کو طاقتور دکھایا جاتا ہے جبکہ فلم کا ہیرو ہیروئن کے گرد گھومتا نظر آتا ہے۔ فلم جب قریب الختم ہوتی ہے تو اچانک ہیرو رستم زماں بن جاتا ہے اور ولن کے ہر ڈھائے گئے ظلم کا بدلہ لینا شروع کرتا ہے۔ فلم کے آخری منظر میں ولن شکست کھا جاتا ہے۔ ہیرو فتح یاب رہتا ہے۔ فلم میکنگ کا اہم نکتہ ہے۔ ولن جتنا مضبوط نظر آئے گا۔ ہیرو کا قد اتنا ہی بڑا ہوتا جائے گا کیونکہ آخر میں فتح نے ہیرو کے قدم چومنے ہیں۔ فلم میکنگ کا یہ اصول ڈونلڈ ٹرمپ کو پسند نہیں۔ وہ اپنے مخالف کو بہت چھوٹا، بہت کمزور ثابت کر کے خوشی محسوس کرتے ہیں۔ ہر نورا کشتی کے بعد کہتے ہیں انہیں اس میں خراش تک نہیں آتی۔ وہ جسے آج کمزور ترین ثابت کر رہے ہیں وہ اتنا بھی کمزور نہ تھا۔ امریکی میڈیا نکولس مادورو کے جس محل کی کہانی بتا رہا ہے وہ کوئی محل نہ تھا بلکہ فورٹ ٹیونا کے نام سے جانا جانے والا فوجی ہیڈکوارٹر تھا۔ لاوی ٹینا کے نام سے یہ زیر زمین پانچ منزلہ بنکر تھا، اس کی گہرائی چالیس میٹر ہے۔ یہ بنکر پندرہ ہزار میٹر پر محیط ہے۔ اس میں ڈیڑھ سو افرادکے رہائشی انتظامات کیے گئے تھے جن میں صدر نکولس مادورو کی فیملی اور ان کی تین حصار پر مشتمل سکیورٹی کے علاوہ ان کا ذاتی سٹاف رہائش پذیر تھا۔ اس بنکر میں ہنگامی حالت سے نمٹنے کے لئے چار ماہ کا راشن اور مقابلے کےلئے وافر اسلحہ موجود رہتا تھا۔ اس زیر زمین محفوظ بنکر میں صدارتی نیگر بھی ہے جہاں ہر وقت تین ہیلی کاپٹر پرواز کے لئے تیار رہتے تھے۔ بنکر کی دیواریں ٹھوس سٹیل کی بنائی گئی تھیں جنہیں جدید ترین آلات کے ساتھ بھی کاٹا جاتا تو یہ کام چند منٹوں کا نہیں تھا کیونکہ یہ ایک دیوار نہیں تین دیواریں تھیں۔ اس بنکر میں تازہ ہوا آکسیجن کے انتظامات کا خیال رکھا گیا تھا۔ اس بنکر سے متعدد سرنگیں نکلتی تھیں جو مختلف عمارتوں تک جاتی تھیں جن میں افواج کے سپہ سالاروں کے گھر دفاتر شامل ہیں۔ صدر وینزویلا کا مکمل سیکرٹریٹ موجود تھا جہاں سے وہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں پورے ملک کے ساتھ ساتھ دنیا کے ہر کونے سے رابطہ رکھ سکتے تھے۔ ان کے بنکر کے آس پاس وزارت دفاع اور فوجی ہائی کمانڈ سے متعلق اہم افراد کی رہائش گاہیں ہیں جن کی تعداد پندرہ ہے۔ بنکر کو اس خیال اور اس اہتمام سے بنایا گیا تھا کہ وہ ایٹمی حملے کو برداشت کر سکے اور اس میں موجود نظام بلاتعطل اپنا کام جاری رکھ سکے۔ یہ بنکر بہت حد تک ناقابل تسخیر تھا ، اسے تسخیر کرنے کا ایک ہی طریقہ تھا وہ یہ کہ صدر نکولس مادورو کے جرنیلوں کو ساتھ ملایا جائے تاکہ مزاحمت کی کھڑکی نہ کھلے۔ امریکی منصوبہ کامیاب رہا جن پے تھا تکیہ وہ جرنیل سوداگر نکلے۔ انہوں نے اپنے صدر کے سر کا سودا کیا۔ امریکی بغیر لڑے فتح چاہتا ہے۔ وہ محافظوں کو ڈالروں اور امریکی نیشنلٹی میں تول کر فتح خریدتا ہے۔ اس نے یہی آفر ایرانی فوج کو کی ہے جہاں سے پورا جواب ملا ہے۔ امریکہ کو واضح کر دیا گیا ہے جس روز ایران پر حملہ ہو گا اس کے بعد اسرائیل نظر نہیں آئے گا۔

ٹیگز: