Wed, September 16, 2026

نرم بیانیے سے بارود تک: بی وائی سی کا مشکوک کردار

نرم بیانیے سے بارود تک: بی وائی سی کا مشکوک کردار

بلوچستان کی تاریخ ایک پیچیدہ، طویل اور دردناک داستان ہے جس میں سیاسی محرومیاں، معاشی پسماندگی اور شورش کے مختلف ادوار شامل رہے ہیں۔ 1947 سے لے کر آج تک اس خطے میں مزاحمت کی کئی صورتیں سامنے آئیں، مگر ایک حقیقت اپنی جگہ مسلم رہی کہ بلوچ معاشرہ، اپنی روایات اور سماجی اقدار کے باعث، خواتین کو اس نوعیت کی پُرتشدد سرگرمیوں سے ہمیشہ دور رکھتا آیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ دہائیوں پر محیط شورش کے باوجود بلوچستان میں کسی خاتون کی جانب سے خودکش حملے کی کوئی روایت موجود نہیں تھی۔
لیکن 2020 کے بعد منظرنامہ تیزی سے بدلتا نظر آتا ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کے قیام کے بعد ایک نیا بیانیہ ابھرا، جس نے بظاہر انسانی حقوق، لاپتہ افراد اور سماجی انصاف جیسے حساس موضوعات کو اپنا مرکزی نعرہ بنایا۔ تاہم، زمینی حقائق اور بعد ازاں پیش آنے والے واقعات نے اس بیانیے کے پسِ پردہ ایک تشویشناک رخ کی نشاندہی کی ہے۔ 2022 میں کراچی یونیورسٹی میں ہونے والا خودکش حملہ، جسے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون شاری بلوچ نے انجام دیا، ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔ اس واقعے نے نہ صرف سکیورٹی حلقوں کو چونکا دیا بلکہ سماجی ماہرین کو بھی یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ آخر وہ کون سے عوامل ہیں جنہوں نے بلوچ خواتین کو اس انتہا پسند راستے پر ڈال دیا۔ اس کے بعد سمعیہ قلندرانی، ماہکان بلوچ، ماہل بلوچ، زرینہ رفیق بلوچ، ہوا بلوچ اور آسیہ مینگل جیسے نام سامنے آئے، جنہوں نے خودکش کارروائیوں میں حصہ لیا یا ان سے منسلک رہیں۔
یہ تبدیلی محض اتفاق نہیں ہو سکتی بلکہ دستیاب شواہد اور تجزیات اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ یہ ایک منظم حکمتِ عملی کا حصہ ہے، جس میں خواتین کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس تناظر میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کا کردار سوالات کی زد میں آتا ہے۔ بی وائی سی بظاہر ایک سماجی و انسانی حقوق کی تنظیم کے طور پر سامنے آتی ہے، مگر اس کے جلسوں، تقاریر اور احتجاجی کیمپوں کا بغور جائزہ لیا جائے تو ایک مخصوص بیانیہ واضح طور پر نظر آتا ہے۔ اس بیانیے میں ریاستِ پاکستان کو ایک ”قابض، ظالم اور نوآبادیاتی قوت“ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ زبان محض تنقید نہیں بلکہ ایک منظم ذہنی تشکیل (indoctrination) کا حصہ محسوس ہوتی ہے، جس کا ہدف نوجوان نسل، خصوصاً خواتین ہیں۔
یہاں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا واقعی یہ صرف ایک اتفاق ہے کہ جن خواتین نے خودکش حملے کیے، ان کا کسی نہ کسی سطح پر بی وائی سی کے پلیٹ فارم، کیمپوں یا بیانیے سے تعلق رہا؟ یا پھر یہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت تیار کیا گیا راستہ ہے؟ ماہرین کے مطابق، شدت پسند تنظیمیں ہمیشہ ایسے سماجی پلیٹ فارمز کی تلاش میں رہتی ہیں جہاں سے وہ نرم ذہنوں کو اپنی طرف مائل کر سکیں۔ اس تناظر میں اگر دیکھا جائے تو بی وائی سی ایک ”بھرتی مرکز“ (Recruitment Nursery) کے طور پر کام کرتی دکھائی دیتی ہے، جہاں پہلے مرحلے میں نوجوانوں کے ذہنوں میں ریاست کے خلاف نفرت اور محرومی کا احساس پیدا کیا جاتا ہے اور پھر انہیں بتدریج ایک ایسے راستے پر ڈالا جاتا ہے جو بالآخر عسکریت پسندی تک جا پہنچتا ہے۔
خصوصی طور پر خواتین کا اس عمل میں شامل ہونا ایک نئی اور خطرناک پیش رفت ہے۔ بلوچ معاشرے میں خواتین کا احترام اور تحفظ ہمیشہ ایک بنیادی قدر رہی ہے، مگر اب انہی خواتین کو بطور ”خودکش ہتھیار“ استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ نہ صرف ایک انسانی المیہ ہے بلکہ ایک سماجی سانحہ بھی، جہاں ایک پورے طبقے کو شعوری طور پر انتہا پسندی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ بی ایل اے کے ”مجید بریگیڈ“ کی سرگرمیاں اور ان کی جانب سے جاری کی جانے والی ویڈیوز اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ خواتین کو باقاعدہ تربیت دی جا رہی ہے۔
یہاں ایک اور پہلو بھی قابلِ غور ہے اور وہ بی وائی سی کے رہنماو¿ں، خصوصاً صبیحہ بلوچ اور دیگر مقررین کی تقاریرہیں ۔ ان تقاریر میں بارہا ”بلوچ راج، آزادی اور مزاحمت“ جیسے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں۔ بظاہر یہ سیاسی نعرے ہیں، مگر جب انہیں ایک خاص انداز اور تسلسل کے ساتھ پیش کیا جائے تو یہ براہِ راست شدت پسندی کے لیے فکری بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ بیانیے کی جنگ آج کے دور کی سب سے اہم جنگ ہے۔ اس جنگ میں اگر کسی نوجوان کے ذہن میں یہ بات بٹھا دی جائے کہ اس کی شناخت، اس کی عزت اور اس کا مستقبل ایک مخصوص دشمن کے خلاف لڑنے میں ہے، تو پھر اسے کسی بھی حد تک لے جانا آسان ہو جاتا ہے۔
بی وائی سی کا کردار اسی تناظر میں انتہائی مشکوک ہو جاتا ہے۔ اگر ایک تنظیم واقعی انسانی حقوق کے لیے کام کر رہی ہو تو اس کے پلیٹ فارم سے نکلنے والے افراد دہشت گرد تنظیموں کا حصہ کیوں بنتے ہیں؟ اگر اس کا مقصد صرف لاپتہ افراد کے لیے آواز اٹھانا ہے تو اس کے بیانیے میں مسلسل شدت اور ریاست مخالف جذبات کیوں پائے جاتے ہیں؟ یہ سوالات محض الزامات نہیں بلکہ ایک سنجیدہ تحقیق اور جائزے کا تقاضا کرتے ہیں۔ کیونکہ اگر ایک سماجی تحریک کے پردے میں ایک شدت پسند نیٹ ورک پروان چڑھ رہا ہو تو یہ نہ صرف ریاست بلکہ خود بلوچ معاشرے کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ ہے۔
آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ بلوچ خواتین کو خودکش حملوں میں جھونکنا کسی بھی صورت میں ”مزاحمت“ نہیں بلکہ ایک گھناو¿نا استحصال ہے۔ یہ ان کی شناخت، ان کی عزت اور ان کے مستقبل کے ساتھ ایک سنگین کھلواڑ ہے۔ جو عناصر اس عمل کو ہوا دے رہے ہیں، خواہ وہ کسی بھی نام یا عنوان کے تحت کام کر رہے ہوں، ان کا اصل چہرہ بے نقاب ہونا ناگزیر ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ بیانیوں کے اس دھندلکے کو صاف کیا جائے اور حقائق کو واضح طور پر سامنے لایا جائے تاکہ بلوچستان کا نوجوان خصوصاً اس کی خواتین ایک بار پھر زندگی، تعلیم اور ترقی کے راستے پر گامزن ہو سکیں نہ کہ بارود اور تباہی کے اندھیرے میں کھو جائیں۔

ٹیگز: