Wed, September 16, 2026

بی وائی سی: بیانیے کی آڑ میں حقیقت کا گلا گھونٹنے کی کوشش

بی وائی سی: بیانیے کی آڑ میں حقیقت کا گلا گھونٹنے کی کوشش

بلوچستان ایک ایسا خطہ ہے جو دہائیوں سے محرومی، بداعتمادی اور شورش کی لپیٹ میں رہا ہے۔ یہاں کے مسائل حقیقی ہیں، عوام کے مطالبات بھی جائز ہیں، مگر انہی حقائق کے بیچ ایک ایسا بیانیہ بھی پروان چڑھایا گیا ہے جو حقیقت سے زیادہ فریب پر مبنی ہے۔ اسی تناظر میں“بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی)”کا کردار ایک سنجیدہ بحث کا متقاضی ہے۔ خود کو انسانی حقوق کی علمبردار کہنے والی یہ تنظیم درحقیقت کس حد تک شفاف ہے اور کہاں اس کا بیانیہ مشکوک ہو جاتا ہے، یہ سوال اب نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
بی وائی سی کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا جائے تو ایک واضح پیٹرن سامنے آتا ہے۔ مبینہ گمشدگیوں کے واقعات کو فوری طور پر جذباتی رنگ دیا جاتا ہے، سوشل میڈیا پر کہانیاں ترتیب دی جاتی ہیں اور پھر ریاستی اداروں پر الزامات کی بوچھاڑ شروع ہو جاتی ہے۔ بعد ازاں جب کئی کیسز کی حقیقت سامنے آتی ہے تو وہ ابتدائی بیانیے سے یکسر مختلف ہوتی ہے۔ اس طرزِ عمل نے نہ صرف عوامی اعتماد کو متاثر کیا بلکہ حقیقی متاثرین کے مسائل کو بھی مشکوک بنا دیا۔زرینہ مری اور طیب بلوچ جیسے کیسز اسی بیانیاتی تضاد کی مثال ہیں۔ ابتدائی طور پر انہیں مظلومیت کی علامت بنا کر پیش کیا گیا مگر بعد میں سامنے آنے والی معلومات نے سوالات کو جنم دیا۔ اگر کسی ایک کیس میں بھی حقیقت چھپائی جائے تو پورے بیانیے کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں بی وائی سی پر تنقید شدت اختیار کرتی ہے۔ کیا یہ واقعی انسانی حقوق کی جدوجہد ہے یا ایک مخصوص ایجنڈے کی تکمیل ہے؟
ایک اور اہم پہلو دہشت گردی کے واقعات کے بعد کا ردعمل ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ بعض عناصر ایسے افراد کو“لاپتہ”قرار دیتے ہیں جو بعد میں مسلح کارروائیوں میں ملوث پائے جاتے ہیں۔ اس سے نہ صرف بیانیاتی ابہام پیدا ہوتا ہے بلکہ دہشت گردی کے خلاف جاری کوششیں بھی متاثر ہوتی 
ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر کسی تنظیم کی ترجیحات واقعی انسانی حقوق ہیں تو کیا اسے ہر قسم کے تشدد اور اس کے ذمہ داروں کی غیر مشروط مذمت نہیں کرنی چاہیے؟ بی وائی سی کی سرگرمیوں میں خواتین کی نمایاں شرکت کو اکثر مثبت پہلو کے طور پر پیش کیا جاتا ہے مگر یہاں بھی ایک پیچیدہ پہلو موجود ہے۔ خواتین کی موجودگی کو ایک مضبوط اخلاقی ڈھال کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے جس کے باعث تنقید کو دبانا آسان ہو جاتا ہے۔ جب کوئی تحریک خود کو مکمل طور پر اخلاقی برتری کے مقام پر کھڑا کر لے تو اس کے اندرونی تضادات پر سوال اٹھانا مشکل بنا دیا جاتا ہے۔ یہی حکمت عملی بیانیے کو مضبوط کرتی ہے، مگر حقیقت کو دھندلا بھی دیتی ہے۔
دوسری جانب سوشل میڈیا اس پورے معاملے میں ایک اہم ہتھیار کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔ جذباتی ویڈیوز، نامکمل معلومات اور یکطرفہ کہانیاں نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ عالمی سطح پر بھی رائے عامہ کو متاثر کرتی ہیں۔ بین الاقوامی حلقوں میں کسی بھی مسئلے کو اجاگر کرنا بذات خود غلط نہیں مگر جب معلومات ادھوری یا متنازع ہوں تو اس کا نتیجہ گمراہ کن بیانیے کی صورت میں نکلتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں بی وائی سی کے غیر ملکی روابط اور ان کے ذریعے بیانیے کی ترسیل پر سوالات اٹھتے ہیں۔بلوچستان میں سرگرم شدت پسند تنظیموں کی جانب سے نوجوانوں کو بھرتی کرنے کا مسئلہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے۔ یہ تنظیمیں تعلیمی اداروں، سماجی مسائل اور معاشی محرومیوں کو استعمال کر کے نوجوانوں کو اپنی طرف مائل کرتی ہیں۔ ایسے میں اگر کوئی پلیٹ فارم غیر ارادی طور پر بھی ایسے بیانیے کو تقویت دے جو تشدد کو جواز فراہم کرے تو اس کے اثرات انتہائی خطرناک ہو سکتے ہیں۔ نوجوان، جو تعلیم اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتے تھے، وہ شدت پسندی کی طرف مڑ جاتے ہیں۔
خواتین اور کم عمر افراد کے استعمال کا پہلو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ایک حساس اور تشویشناک رجحان ہے کہ بعض شدت پسند گروہ خواتین اور بچوں کو بھی اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اگر اس حقیقت کو نظرانداز کر کے صرف ایک رخ کو اجاگر کیا جائے تو تصویر ادھوری رہ جاتی ہے۔ ایک ذمہ دار بیانیہ وہی ہوتا ہے جو ہر پہلو کو سامنے لائے نہ کہ صرف وہی حصہ دکھائے جو کسی مخصوص موقف کو تقویت دے۔ یہاں یہ امر بھی حقیقت ہے کہ بلوچستان کے عوام کی اکثریت امن، تعلیم، روزگار اور ترقی کی خواہاں ہے۔ وہ نہ تو تشدد کے حامی ہیں اور نہ ہی کسی ایسے بیانیے کے جو ان کے مسائل کو مزید پیچیدہ بنا دے۔ اس تناظر میں ضروری ہے کہ ہر وہ آواز جو عوام کی نمائندگی کا دعویٰ کرے، اپنی ساکھ کو شفافیت اور سچائی کے ذریعے مضبوط کرے۔ اگر کسی بیانیے میں تضاد، مبالغہ یا جانبداری شامل ہو جائے تو وہ اپنی اخلاقی حیثیت کھو دیتا ہے۔ریاستی اقدامات جیسے کہ فورتھ شیڈول میں شامل کرنا، اپنی جگہ ایک قانونی اور سیکیورٹی سے متعلق معاملہ ہیں۔ ان پر اختلاف ہو سکتا ہے، تنقید بھی کی جا سکتی ہے مگر اس بحث کو بھی حقائق اور شواہد کی بنیاد پر ہی آگے بڑھایا جانا چاہیے۔ یکطرفہ بیانیہ نہ تو مسئلے کا حل ہے اور نہ ہی کسی فریق کے حق میں۔آخرکار اصل سوال یہی ہے کہ بلوچستان کے مسائل کا حل کیا ہے؟ کیا یہ حل جذباتی نعروں، سوشل میڈیا مہمات اور متنازع بیانیوں میں پوشیدہ ہے، یا پھر سنجیدہ مکالمے، شفافیت اور قانون کی حکمرانی میں؟ اگر مقصد واقعی عوام کی فلاح ہے تو ہر فریق کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔بی وائی سی سمیت ہر وہ تنظیم جو عوامی نمائندگی کا دعویٰ کرتی ہے اسے یہ سمجھنا ہوگا کہ بیانیہ صرف الفاظ کا کھیل نہیں ہوتا بلکہ اس کے اثرات زمین پر محسوس کیے جاتے ہیں۔ ایک غلط بیانیہ نہ صرف حقیقت کو مسخ کرتا ہے بلکہ ان لوگوں کے ساتھ بھی ناانصافی کرتا ہے جو واقعی انصاف کے منتظر ہوتے ہیں۔ بلوچستان کا مستقبل پروپیگنڈے سے نہیں بلکہ سچائی، توازن اور ذمہ داری سے جڑا ہوا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو اس خطے کو پائیدار امن اور ترقی کی طرف لے جا سکتا ہے۔

ٹیگز: