پی آئی اے کی نجکاری کے بعد معروف کاروباری شخصیت عارف حبیب کی سرکردگی میں قائم کنسورشیم نے 15 جون سے پی آئی اے کا نظام سنبھالنا تھا۔ اُنہوں نے یہ نظام سنبھالا ہے یا نہیں اس سے قطع نظر آج کے کالم میں پی آئی اے کے عروج کے دور میں اس میں کیے جانے والے کچھ اسفار کا ذکر کیا جاتا ہے۔ مزے کی بات ہے کے یہ اسفار پچھلی صدی کے پی آئی اے کے اسی اور نوے کی دہائیوں میں پی آئی اے کے عروج کے دور میں کیے گئے۔ موجودہ صدی میں جب سے پی آئی اے کو زوال کا سامنا ہے اس سے ہوائی سفر کا موقع نہیں ملا۔ دو سال قبل عمرے پر جانے کی سعادت نصیب ہوئی تو اسلام آباد جدہ جانے اور جدہ سے اسلام آباد واپسی کے سفر سعودی ائیر لائنز السعودیہ کے ذریعے ہوئے۔ سعودیہ کے بوئنگ 777/300 طیاروں پر یہ سفر بلا شبہ انتہائی خوشگوار رہے تاہم ماضی میں پی آئی اے کے ذریعے پچھلی صدی کی اَسی اور نوے کی دہائیوں کے مختلف برسوں میں جو سفر کیے گئے بلا شبہ اُن کی بھی خوشگوار یادیں ذہن کے نہاں خانے میں موجود ہے۔ ان سفروں کا تذکرہ کرنے سے قبل میں پی آئی اے کے حوالے سے اپنی ایک خوشگوار یاد کا تذکرہ کرنا چاہوں گا۔ یہ پچھلی صدی کے 1967-68 ءکی بات ہے جب میں لاہور سنٹرل ٹریننگ کالج میں بی ایڈ کا کورس کر رہا تھا۔ میں اُن دنوں کبھی کبھار لاہور ائیر پورٹ پر اپنے سکول کے زمانے کے ایک دوست ملک شوکت حیات مرحوم جو پی آئی اے میں ملازم تھے کے پاس جایا کرتا تھا۔ اس طرح گاہے گاہے ڈھاکہ سے لاہور کی پروزوں کے مسافروں کو دیکھنے کا موقع بھی مل جاتاتھا ۔ ایسا بھی ہوا کہ ڈھاکہ سے لاہور آنے والے بنگالی مسافروں میں اُس دور کے سادہ منش اور سادہ لباس میں ملبوس بنگالی قومی رہنما بھی شامل ہوتے تھے جن میں سے بعض نے اپنے ہاتھوں میں پانوں کی ٹوکریاںاُٹھا رکھی ہوتی تھیں۔ پانوں کی یہ ٹوکریاں لاہور میں ہاتھوں ہاتھ بِک جاتی تھیں اور ان قومی رہنماﺅں کے لیے ایک طرح سے زادِ سفر کا ایک ذریعہ ثابت ہوتی تھیں۔
پی آئی اے کے ذریعے اسفار کی بات کریں تو پہلا سفر میں نے ستمبر 1983 ءمیں کیا ۔اللہ کریم کا لاکھ لاکھ شکر کہ اس سال مجھے اپنے بڑے بھائی حاجی ملک غلام رزاق جو سعودی عرب میں پاک فوج کے دستے میں تعینات تھے او روالدہ محترمہ بے جی مرحومہ و مغفورہ کے ہمراہ حج کی سعادت نصیب ہوئی۔ پنڈی سے کراچی اور کراچی سے جدہ تک کا
سفر پی آئی اے کے ائیر بس طیاروں کے ذریعے ہوا۔ یہ پی آئی اے کے عروج کا زمانہ تھا اور اُن دنوں اسلام آباد سے کراچی کے لئے پی آئی اے کی باقاعدہ تین فلائٹس ایک صبح سوا دس بجے ، ایک شام سوا سات بجے اور ایک رات بارہ سوا بارہ بجے( نائٹ کوچ) چلا کرتی تھیں۔ اسلام آباد سے کراچی کے سفر کے دوران میں کچھ گھبراہٹ کا شکار تھا کہ یہ میرا پہلا ہوائی سفر تھا۔ تاہم کراچی سے جدہ پرواز کے دوران میری گھبراہٹ ختم ہو چکی تھی ۔ مجھے یاد ہے کہ یہ یکم ستمبر 1983 ءکی تاریخ تھی اور اُس دن کراچی سے جدہ کے لئے حج کے لئے آخری پانچ فلائٹس کی دن کے مختلف اوقات میں روانگی تھی۔ ہماری فلائٹ تیسرے نمبر پر تھی جس کی روانگی کا وقت دن 1بجے کے لگ بھگ تھا۔ پی آئی اے کا ائیر بس طیارہ فضا میں بلند ہوا تو موسم بالکل صاف اور دھوپ خوب نکلی ہوئی تھی ۔ میری طیارے کی کھڑکی سے ملحقہ سیٹ تھی اور ساتھ والی سیٹ پر والدہ محترمہ بے جی مرحومہ و مغفورہ بیٹھی ہوئی تھیں۔ طیارے میں سوار تین سو کے لگ بھگ سبھی مسافر عازمینِ حج تھے جن کی زبانوں پر تلبیہ لبیک اللھم لبیک کی صدائیں جاری تھیں ۔ہمارا طیارہ بحیرہ عرب کے ساحل کے اوپر جانب مغرب محو پرواز تھا ۔ میرا اندازہ تھا کہ یہ بلوچستان کے ساحلی قصبوں اور بندرگاہوں پسنی، گوادر اور جیوانی وغیرہ کے اوپر یا نواح سے اور آگے ایران کے جنوب میں خلیج ِ فارس (موجودہ آبنائے ہرمز) کے ساحلی شہروں کے اوپر سے گزرے گا۔ اس میں کوئی مبالغہ نہیں کہ طیارے کے ہوا باز کی طرف سے اعلان کہ ہم کہاں سے اور کس شہر یا مقام کے اوپر سے گزر رہے ہیں سے قبل میں درست اندازے لگا رہا تھا کہ ہمارا طیارہ اب کہاں سے گزر رہا ہے۔ سعودی عرب کے مشرقی شہروں دمام اور دہران سے مغرب میں جدہ پہنچنے کے لئے طیارے کو مزید ڈیڑھ پونے دو گھنٹے لگے ۔ روشن دن اور چمکیلی دھوپ میں نیچے کے مناظر میں دور دور تک پھیلے صحرائی ٹیلے اور ریگستان نمایاں تھے تو کہیں کوئی پتلی سی سُرمائی لکیر کسی سڑک کی نشاندہی کرتی تھی جس پر چلنے والی گاڑیاں بچوں کی کھلونا گاڑیوں کی طرح نظر آ رہی تھیں۔ پھر کہیں سبز قطعہ جیسے کوئی نخلستان ہو بھی نظر آ جاتا تھا۔ چار بجے کے لگ بھگ ہم جدہ پہنچے تو یہ سفر اختتام پذیر ہوا۔ سعودی عرب میں حج کی ادائیگی اور قیام کے پینتالیس دن گزارنے کے بعد جدہ سے کراچی کے لئے واپسی کا سفر پی آئی اے کے بوئنگ 747 جمبو جیٹ کے ذریعے ہوا۔جہاز میں سوار ہوتے ہم مسافروں کو کہا گیا کہ جہاز میں جہاں جگہ ملتی ہے وہیں بیٹھ جائیں۔ ہمیں جہاز کے نچلے بڑے کیبن میں کوئی سیٹ خالی نظر نہ آئی توہمیں اُوپر کے کیبن میں بھیج دیا گیا جہاں میں نے اور محترمہ بے جی مرحومہ و مغفورہ نے جہاز کے کاک پَٹ کے عین اُوپر دائیں جانب والی دو سیٹوںپر بیٹھ کر مزے سے جدہ سے کراچی کا سفر کیا۔
پی آئی اے کے ذریعے میں نے اور بھی کئی سفر کیے جنہیں یادگار سمجھا جا سکتا ہے انہی میں سے ایک سفر نومبر 1989ءمیں اسلام آباد سے دوبئی تک کا چار گھنٹے کا سفر تھا جو میں نے اسلام آباد تا لندن پی آئی اے کی روزانہ کی پرواز کے ذریعے کیا۔ اس سفر کی یادیں مجھے بھولنے والی نہیں ہیں ۔ معاملہ کچھ ایسا تھا کہ 1988 کے اواخر میں متحدہ عرب امارات کے شہر العین کے پاکستان اسلامیہ سکول اینڈ کالج میں بطور سینئر ٹیچر میری سلیکشن ہوئی۔ویزے کے اجرا، سفری انتظامات اور میرے العین جانے یا نہ جانے کے بارے میں حتمی فیصلہ نہ کر سکنے کی وجہ سے العین روانگی میں کوئی ایک آ دھ سال کا عرصہ گزر گیا۔ بالآخر طے پایا کہ مجھے ضرور العین جانا چاہیے۔ یکم نومبر 1989 ءروانگی کی تاریخ تھی صبح تقریباًساڑھے دس بجے پی آئی اے کا جمبو جیٹ طیارہ لندن براستہ دوبئی چکلالہ ائیر پورٹ سے اُڑا تو میں انتہائی اُداسی اور پژمردگی کا شکار تھا۔ میرے آس پاس کی سیٹوں پر مردو خواتین نوجوان لڑکے لڑکیاں اور بچے بیٹھے ہوئے ہنسی مذاق اور گپیں لگانے میں مصروف تھے ۔ ان میں سے زیادہ تر کا تعلق میر پور ، چک سواری اور آزاد کشمیر کے دوسرے دیہات و قصبات سے تھا جو پاکستان میں قیام کے بعد واپس انگلینڈ یا انگلینڈ میں عزیز و اقارب سے ملنے جا رہے تھے۔ ان کی باہمی اٹکھیلیوں، ہنسی مذا ق اور قہقہوں سے بے نیاز میں اپنے ہی خیالوں میں گم تھا اور میرا دل چاہتا تھا کہ کاش طیارہ واپس چکلالہ ائیر پورٹ کا رُخ کر لے اور میں طیارے سے اُتر کر اپنے گھر میں اپنے بچوں اور اہل عیال کے پاس پہنچ جاﺅں ۔ خیر اب ایسا ہونا ممکن نہیں تھاتو میں نے طیارے کی کھڑکی سے نیچے کے مناظر دیکھنے میں اپنے دل کو لگانے کی کوشش کی۔ نیچے دور دور تک سطح مرتفع بلوچستان کے پہاڑی اور کوہستانی سلسلے نظر آ رہے تھے۔ کہیں کوئی درختوں کا جھنڈ ، خشک ندی نالہ اور چھوٹا موٹا دریا بھی بہتا نظر آ رہا تھا۔ چار گھنٹے کے سفر کے بعد ہمارا طیارہ دوبئی ائیر پورٹ پر اُترا تو مجھے طیارے سے اُتر کر باہر آنے میں کچھ ہی وقت لگا اس لیے کہ دوبئی ائیرپورٹ اُس وقت ایسے تھا جیسے کسی قصبے کا ائیر پورٹ ہو سکتا ہے کہ وہاں کسی طرح کا رش یا ہجوم نہیں تھا۔