Wed, September 16, 2026

امریکا کا یونیسکو سے علیحدگی کا فیصلہ، فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے پر تنقید

امریکا کا یونیسکو سے علیحدگی کا فیصلہ، فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے پر تنقید

واشنگٹن: امریکا نے اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کی جانب سے فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کے فیصلے پر اعتراض کرتے ہوئے اس سے علیحدگی اختیار کرنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکا کا کہنا ہے کہ یونیسکو میں رہنا اس کے قومی مفاد میں نہیں ہے کیونکہ یہ ادارہ اسرائیل کے مخالف جذبات کو بڑھاوا دیتا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس نے کہا کہ یونیسکو کی پالیسیوں کی وجہ سے سماجی اور ثقافتی سطح پر تفریق پیدا ہوتی ہے، اور یہ ادارہ ایک ایسا نظریاتی ایجنڈا بھی پھیلانے کی کوشش کرتا ہے جو امریکا کی "امریکی مفاد پہلے" پالیسی سے متصادم ہے۔

ٹیمی بروس نے مزید کہا کہ فلسطین کو ریاست تسلیم کرنا امریکی پالیسی کے خلاف ہے اور یونیسکو اس فیصلے کے ذریعے اسرائیل مخالف موقف کو مزید تقویت دے رہا ہے۔ امریکا کا موقف ہے کہ عالمی تنظیموں میں شرکت کا فیصلہ ہمیشہ امریکی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔

یونیسکو سے امریکا کی علیحدگی کا اطلاق 21 دسمبر 2026 سے ہوگا، اور اس فیصلے سے یونیسکو کی ڈائریکٹر جنرل آدرے آزولے کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے۔ یہ دوسرا موقع ہے جب امریکا نے یونیسکو سے باہر نکلنے کا فیصلہ کیا ہے، اس سے پہلے ٹرمپ انتظامیہ بھی یونیسکو سے علیحدہ ہو چکی تھی۔

یاد رہے کہ یونیسکو نے 2011 میں فلسطین کو تنظیم کا رکن بنایا تھا، جس پر امریکا نے فوری طور پر 60 ملین ڈالر کی امداد بند کر دی تھی۔

ٹیگز: