Wed, September 16, 2026

عرفان صدیقی صاحب ۔ یادیں اور باتیں....! 

عرفان صدیقی صاحب ۔ یادیں اور باتیں....! 

"وہ جو بچھڑ گئے" برادر مکرم و محترم عرفان صدیقی مرحوم و مغفور کے ۲۰۰۲ سے ۲۰۱۴ تک روزنامہ نوائے وقت اور روزنامہ جنگ میں نقشِ خیال کے سرنامے کے تحت چھپنے والے سینکڑوں بلکہ ہزاروں کالموں میں سے منتخب ان کالموں کا مجموعہ ہے جو عرفان صاحب نے اُس دور میں اس دنیا سے رخصت ہونے والے اپنے بعض مہربانوں ، قدر دانوں ، نیاز مندوں ، دوستوں اور قریبی اعزہ کے بارے میں لکھے۔ یہ مجموعہ جو ۲۰۱۸ءمیں چھپا۔ اِس میں عرفان صاحب نے مرحومین کا ذکر ایسے انداز میں کیاہے جیسے وہ اُن کی یادکی شمعیں جلا رہے ہوں یا اُن کو خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہوں۔ 
یہاں میں مذہبی سیاسی جماعتوں کے مرحوم قائدین اور مرحوم دینی شخصیات کے بارے میں کالموں کا حوالہ دینا چاہوں گا ۔ جن شخصیات کے بارے میں کالم لکھے گئے ہیں اُن میں مولانا شاہ احمد نورانی، مفتی نظام الدین شامزئی، مولانا نعیم صدیقی، قاضی حسین احمد، مفتی جمیل خان، ڈاکڑر اسرار احمد، ڈاکڑسرفراز احمد نعیمی، میاں طفیل محمد اور پروفیسر غفور احمد شامل ہیں۔ ان کالموں کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ یہ دینی سیاسی شخصیات عرفان صاحب سے کتنا لگاو¿ رکھتی تھیں۔ ان پر کتنا اعتماد اور بھروسہ کرتی تھیں اور عرفان صاحب اور اُن کی آپس میں کتنی نیاز مندی اور باہمی اَدب و احترام کا تعلق اور رشتہ تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عرفان صاحب کو دینی حلقوں میں ایک ممتاز مقام حاصل تھا۔ ایسا کیوں نہ ہوتا اُن کا تعلق ایک دینی، علمی خانوادے سے تھا جسے جماعت اسلامی اور جماعت اسلامی کے بانی امیر مفکرِ اسلام مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی سے تعلق خاطر اور لگاو¿ پر ناز تھا بلکہ اس خاندان کے بعض افراد اَب بھی جماعت اسلامی سے اپنے تعلق اور وابستگی کو مضبوطی سے قائم رکھے ہوئے ہیں۔ اِس سیاق وسباق میں عرفان صاحب کا دینی سیاسی جماعتوں اور ان کے قائدین کی طرف جھکاو¿ 
اور ان سے تعلقات رکھنا سمجھ میں آتا ہے۔ یہ درست ہے کہ پچھلی صدی کے آخری برسوں اور اس کے بعد موجودہ صدی کے ابتدائی برسوں میں عرفان صاحب کا مسلم لیگ (ن) کی طرف جھکاو¿ اور اس کے قائدین بالخصوص میاںمحمد نواز شریف سے وابستگی اور تعلق بڑی حد تک سامنے آ چکا تھا۔ اس کے باوجود بھی عرفان صاحب کی جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام جیسی دینی سیاسی جماعتوں کے قائدین سے نیاز مندانہ تعلقات بدستور قائم رہے تو اس میں عرفان صاحب کی سلجھی ہوئی شخصیت ، شائستہ اطوار اور نظریاتی ہم آہنگی کا بڑا کردار تھا۔ جس کا اظہار ہمیں اِن کالموں میں جا بجا نظر آتا ہے۔
اِن کالموں کو سامنے رکھ کر بات کی جائے تو جماعت اسلامی کے مرحوم امیر قاضی حسین احمد کے بارے میں دو کالم اِس مجموعے میں شامل ہیں۔ پہلا کالم "وہ شخص اب یاں نہیں ملے گا" کے عنوان کے تحت قاضی حسین احمد کی ۶ جنوری ۲۰۱۳ءکو وفات کے دو دِن بعد ۸ جنوری ۲۰۱۳ءکو روزنامہ جنگ میں چھپا۔ اس میں وہ قاضی صاحب کے بارے میں لکھتے ہیں "کیا سیماب پا شخصیت تھی کہ کبھی پل بھر کو بھی شجرِ سایہ تلے دم لینے پر آمادہ نہ ہوتے۔ اُن کی آبلہ پائی ہمیشہ کوئی نہ کوئی دشتِ پُر خار تلاش کر لیتی۔ معرکہ آرائی قاضی حسین صاحب کی فطرت کا حصہ تھی۔ کسی نہ کسی مقصد کے لیے تگ و تاز، کسی نہ کسی ہدف کے لیے جُہدِ مسلسل ، کسی نہ کسی منزل کے لیے سفر پیہم اور کسی نہ کسی آرزو کے لیے پیچ و تاب کا نام قاضی حسین احمد تھا ۔" آگے چل کر کر لکھتے ہیں "مجھے بیسوں بار اُن سے ملاقات کا اعزاز حاصل رہا۔ کئی بار میں اُنہیں ملنے منصورہ گیا۔ کئی ملاقاتیں اسلام آباد میں اُن کی اقامت گاہ پر ہوئیں، کئی بار وہ میرے گھر تشریف لائے۔ ہر بار اُن سے مِل کر دل و دماغ میں شادابی سی آ گئی۔ کیا درد مندانہ دل پایا تھا کہ ہمیشہ بے کل سے رہے۔ جماعت کی امارت سے فراغت کے بعد بھی ان کے تحرک میں کوئی کمی نہیں آئی۔ دَر اَصل قاضی صاحب کے جنون نے فارغ بیٹھنا سیکھا ہی نہ تھا۔ "
قاضی حسین احمد کے بارے میں©" ایک برس بیت گیا "کے عنوان سے دوسرا کالم ۹ جنوری ۲۰۱۴ءکو قاضی حسین احمد کی پہلی برسی کے موقع پر روزنامہ جنگ میں چھپا۔ اِس میں عرفان صاحب قاضی صاحب کی بصیرت ، درد مندی اور قومی زندگی میں مقام و مرتبے کو سامنے رکھتے ہوئے رقم طراز ہیں۔ "بعض لوگ کسی مخصوص جماعت سے گہرے رشتہ و تعلق کے باوجود ، قومی سطح پر معتبر اور قابلِ قبول ٹھہرتے ہیں۔ قاضی صاحب اِنہی میں سے ایک تھے۔ سیاست ، لغزشوں ، کوتاہیوں اور کسی حد تک منافقوں کا کھیل ہے۔ قاضی صاحب کے سیاسی تصورات اور اقدامات سے اختلاف کرنے والوں کی کمی نہیںلیکن وہ بڑے مختلف ، منفرد تھے۔ ان کی طبیعت میں بلا کا سوزو گداز تھا اور یہ وہ جنسِ گراں مایہ ہے جو بازارِ سیاست میں نہیں ملتی۔ قرآن اُن کا رفیق اور حُبِ رسول ﷺ اُن کی رُوح میں خوشبو کی طرح مہک رہی تھی۔ اقبال کا کلام انہیں اَز بَر تھا۔ فارسی شعر ایرنیوں کے لب ولہجے میںپڑھتے تھے۔ اُمتِ مسلمہ کی یک دِلی و یک فکری ان کا اہم موضوع تھا۔ اُن کی ہم نشینی جذبوں کو گرما دِیا کرتی تھیں۔ "
"جو بچھڑ گئے " میں ایک کالم جمیعت علمائے اسلام کے مرحوم قائد مولانا شاہ احمد نورانی مرحوم کے بارے میں بھی ہے جو "اور بڑھی تاریکی " کے عنوان سے ۱۳ دسمبر ۲۰۰۳ءکو روزنامہ نوائے وقت میں چھپا ۔ اس میں عرفان صاحب مولانا کے بارے میں لکھتے ہیں کہ "مولانا کا شمار حضور رسالتِ مآب ﷺ کے خوش پوش فقیروں میں ہوتا تھا۔ مدینے کے گلیاں اُ ن کی روح میں موتیے کی کلیاں بن کر مہکتی رہتی تھیں۔ مجھے یقین ہے کہ جب وہ لب ِ لعلین پر درود و سلام کے زمزمے لیے عطر میں بسی اُجلی براق پوشاک زیبِ تین کیے ، سر پر عمامہ سجائے ، فرطِ عقیدت سے گردن جھکائے، دست بستہ ، ہولے ہولے قدم اٹھاتے در ِ جاناں کی طرف بڑھ رہے ہوں گے تو رحمت کے فرشتے اُن کے جلومیں ہو ں گے۔ (جاری ہے) 

ٹیگز: