برادرِ مکرم و محترم عرفان صدیقی مرحوم و مغفور کے حوالے سے یادوں اور باتوں کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے مجھے پہلے ایک ایسی بات کا تذکرہ کرنا ہے جس کے بارے میں میں سمجھتا ہوں کہ اس سے جہاں مسلم لیگ کے قائد میاں نواز شریف اور ان کی صاحبزادی وزیرِ اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کے عرفان صدیقی صاحب مرحوم اور ان کے گھرانے سے گہرے تعلق اور قربت کی غمازی ہوتی ہے ۔ وہاں یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ میاں محمد نواز شریف محترم اور ان کے اہلِ خانہ اپنے نیاز مندوں ، وفاداروں ، جانثاروں اور قریبی ساتھیوں کی قدر کرنا ہی نہیں جانتے ہیں بلکہ ان کی خدمات اور احسانات کو بھی یاد رکھتے ہیں۔بلاشبہ یہ برادر ِمکرم و محترم عرفان صدیقی مرحوم و مغفور کے اس دنیا سے رخصت ہوجانے کے بعد میاں محمد نواز شریف اور ان کی صاحبزادی وزیرِ اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کی طرف سے ان کی قدر افزائی اور ان سے عقیدت کا اظہار ہی ہے کہ عرفان صاحب مرحوم کے بڑے بیٹے عزیزی عمران خاور صدیقی کو وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے مشیر کے باوقار منصب پر فائز کیا گیا ہے۔ عزیزی عمران جو اس سے قبل پنجاب حکومت میں پنجاب بورڈ آف انویسٹمنٹ کے چیف ایگزیکٹو کے عہدے پر فائز تھے وہ ماشاءاللہ بہت ذہین، سمجھ دار اور محنتی ہونے کے ساتھ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور بینکنگ کے شعبے میں ذمہ دار حیثیت سے ملازمت کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے انگریزی میں ماسٹر کی ڈگری لینے کے ساتھ سپرئیر سروسز آف پاکستان کے مقابلے کا امتحان بھی پاس کر رکھا ہے ۔ پاکستان میں کچھ عرصہ سرکاری ملازمت اور چند سال بینکنگ کے شعبے میں ملازمت کے بعد گزشتہ سولہ سترہ برسوں سے وہ متحدہ عرب امارات میں بینکنگ کے شعبے میں ہی ذمہ دار حیثیت سے خدمات سر انجام دے رہے تھے ۔ اس جولائی میں ان کی پاکستان واپسی ہوئی اور پنجاب حکومت میں پنجاب بورڑ آف انویسٹمنٹ میں چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے ان کا تقرر ہوا۔ اب وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے مشیر کا منصب سنبھالا ہے تو یقینا ان کی اہلیت، قابلیت، ذہانت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا اعتراف ہے تو اس کے ساتھ بلکہ اس سے بڑھ کر ان کے والد گرامی محترم عرفان صدیقی مرحوم سے ان کے خونی رشتے کی قدر و منزلت بھی ہے۔
عزیزی عمرا ن خاور صدیقی کی متحدہ عرب امارات میں ملازمت چھوڑ کر پاکستان واپسی جو جولائی میں ہوئی کا فیصلہ میرے نزدیک ایک ایسا فیصلہ سمجھا جا سکتا ہے جس کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ قدرت کے اپنے ہی فیصلے ہوتے ہیں جو ہو کر رہتے ہیں۔ بلا شبہ ہمارا اس بات پر پختہ یقین اور ایمان ہے کہ اللہ کریم کی ذات بڑی بے نیاز ہے، وہ ہر چیز پر قادر اور ہر بات سے آگاہ ہے ۔ اس کا حکم ہر چیز پرحاوی اور اُسے پتہ ہے کہ آئندہ کیا ہونا ہے۔ انسان بعض اوقات بظاہر اپنی منشا، مرضی یا کیس خاص بات کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس سے اس کا یہ مقصد پورا ہوگا لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا بلکہ قدرت اُس سے کسی اور مقصد کے تحت وہ فیصلہ کر ا رہی ہوتی ہے۔ گزرے جولائی میں برادرم مکرم و محترم عرفان صدیقی مرحوم و مغفور کے گھرانے نے عزیز گرامی عمران خاور صدیقی کی متحدہ عرب امارات سے مستقلاً پاکستان واپسی کا فیصلہ کیا تو کسے علم تھا کہ یہ جو فیصلہ کیا جا رہا ہے آگے چل کر اس کی کیا اہمیت اور ضرورت سامنے آئے گی۔ عزیز گرامی عمران خاور جولائی میں پاکستان آ گئے اور آتے ہی انہوں نے پنجاب حکومت میں بورڈ آف انویسٹمنٹ کے چیف ایگزیکٹو کا منصب سنبھال لیا۔ میری ان سے بات ہوئی تو میں نے انہیں نیا منصب سنبھالنے پر مبارک باد دی اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ مجھے آپ کے اس منصب کے سنبھالنے سے زیادہ خوشی اس بات کی ہے کہ آپ مستقلاً پاکستان آ گئے ہیں۔ یہ بات کہتے ہوئے میرے تحت الشعور میں شاید یہ خیال موجود تھا کہ عرفان صاحب ہوں یا میں ہوں ، ہم عمر کے اس حصے میں ہیں جہاں صحت کے معاملات کہیں بھی بگڑ سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں بچے پاس ہوں تو ایک طرح کا سہارا ہوتا ہے۔
میں اسے عزیزِ گرامی عمران خاور صدیقی کے مقدر کی یاوری پر ہی محمول کرتا ہوں کہ وہ متحدہ عرب امارات سے مستقلاً پاکستان آ گئے تو انہیں اپنے والدِ گرامی ، اپنے پیارے ابو ، محترم عرفان صدیقی مرحوم و مغفور کی علالت کے دوران ان کے پاس موجود ہونے اور ان کی خدمت کرنے کا موقع ملا۔ اللہ کریم برادرِ مکرم و محترم عرفان صدیقی مرحوم و مغفور کے درجات بلند کریں اور ان کے گھرانے کو مزید عزت اور سر بلندی عطا فرمائیں ۔ بلا شبہ عزیزِ گرامی عمران خاور صدیقی کے لیے وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے مشیر کا منصب سنبھالنا ایک اعزاز کی بات سمجھی جا سکتی ہے۔
یہاں میں برادرِمکرم و محترم عرفان صدیقی مرحوم و مغفور کے حوالے سے ایک انکشاف کرنا چاہوں گا جس کا خیال مجھے سابق آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) فیض حمید کو فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی طرف سے مختلف الزامات میںچودہ سال قید با مشقت کی سزا کا فیصلہ سامنے آنے پر آیا ہے ۔ میں اواخر جولائی ۲۰۱۹ءکی اس المناک اور خوفناک رات کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جس کے دوسرے پہر کے دوران برادرِ مکرم و محترم جناب عرفان صدیقی مرحوم و مغفور کو ان کے گھر سے بیہمانہ انداز میں گرفتار کر کے تھانے پہنچا دیا گیا۔ ان پر کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی کا جھوٹا مقدمہ بنا کر رات تھانے میں رکھا گیا اور اگلے دن ایک انتظامی مجسٹریٹ سے چودہ دن کا عدالتی ریمانڈ لے کر اڈیالہ جیل بھیج دیا گیا۔ اڈیالہ جیل میں خطرناک قیدیوں کے سیل میں انہیں رات گزارنا پڑی تو اگلا دن جو اتوار کا دن تھا دوپہر کو ان کی عدالت کے حکم پر ضمانت پر رہائی ہو گئی۔ عرفان صاحب مرحوم و مغفور کی اسیری و رہائی کی یہ ڈرامائی کہانی بہت عرصہ میڈیا کا موضوع بنی رہی۔
میرے اور عرفان صاحب مرحوم کے درمیان بھی اس بارے میں کئی بار گفتگو ہوئی ۔ ہم ، بالخصوص میں اس راز سے آگاہ ہونا چاہتا تھا کہ آخر عرفان صاحب کی ایک جھوٹے مقدمے میں بیہمانہ اور ظالمانہ انداز میں گرفتار ی، ایک رات جیل میں رکھنے اور اگلے ہی اتوار کے دن ان کی ڈرامائی انداز میں رہائی کے پیچھے کس کا ہاتھ تھا۔ اس بارے میں ہمارے درمیان مختلف امکانات پر تبادلہ خیال ہوتا رہا۔ آج مجھے یہ انکشاف کرنے میں کوئی عار نہیں کہ عرفان صاحب مرحوم نے مجھے بتایا کہ اس کے پیچھے سابقہ آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) فیض حمید کا ہاتھ تھا جو عرفان صاحب کو کسی بنا پر سبق سکھانا چاہتا تھا ۔ گرفتاری کی خبر جب میڈیا میں آئی اور اس پر شدید احتجاج ہوا تو یہ خبر اس وقت کے کور کمانڈر گوجرانوالہ (میں دانستہ نام نہیں لکھ رہا ) کی نظر سے گزری ۔ انہوں نے فی الفور اس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ جو بیرونِ ملک دورے پر تھے سے رابطہ کیا اوربتایا کہ عرفان صدیقی صاحب جیسی بزرگ، محترم، معزز اور باوقار شخصیت جو ہمارے استاد بھی رہے ہیں کے ساتھ یہ بہیمانہ اور ظالمانہ سلوک کسی صورت میں بھی قابلِ قبول نہیں ہو سکتا۔ اس پر جنرل باجوہ کی طرف سے آئی ایس آئی چیف سمیت متعلقہ حلقوں کو ہدایت بھیجی گئی کہ یہ کیا تماشا لگایا گیا ہے۔ اس طرح عرفان صاحب کو اتوار کا دن ہونے کے باوجود جیل سے رہا کر دیا گیا۔ (جاری ہے)