برادر مکرم و محترم عرفان صدیقی مرحوم و مغفور کے بارے میں یادوں اور باتوں کا سلسلہ چل رہا ہے۔ 19دسمبر کو میں یہ سطور لکھ رہا ہوں تو آج کا یہ دن اُن کا 82 واں یومِ پیدائش ہے اور اگر وہ بقید حیات ہوتے تو یہ انکی 82ویں سالگرہ ہوتی۔ ان کی سالگرہ کے اس دن اُن کی یاد میں "بزم عرفان"کے عنوان سے وٹس ایپ پیج جس میں میرا نام بھی شامل ہے میں اُن کے قریبی عزیزوں کی طرف سے کچھ پوسٹس اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ میں ان تصاویر کو دیکھتا اور ان پوسٹس کو پڑھتا ہوں تو عرفان صاحب مجھے اپنے سامنے چلتے پھرتے نظر آتے ہیں۔ ایک تصویر جو اُن کی پچھلے سالگرہ کی ہے، اس میںوہ سر پر گرم ٹوپی پہنے ، چشمہ لگائے گرم سوٹ میں ملبوس کچھ متفکر لیکن مسکراتے نظر آتے ہیں۔ ایک تصویر جو ان کے انتہائی قریبی عزیز قاضی ضیاءالاسلام نے پوسٹ کر رکھی ہے وہ عرفان صاحب کے کچھ پہلے دور کی تصویر ہے۔ یہ تصویر جس میں عرفان صاحب کا پرُکشش اور خوبصورت چہرہ نمایاں اور وہ بایاں ہاتھ اُٹھائے کوئی گفتگو کرتے نظر آتے ہیں، بڑی جازب نظر ہے تو اُس کے ساتھ لکھے گئے یہ الفاظ "پھر ڈھلی رات، تیری یاد میں پہلو بدلا" اور بھی دل کے تاروں کو جھنجھوڑتے ہیں۔
بات عرفان صاحب کی تصویروں اور فوٹوو¿ں کی چلی ہے تو اسی پیج "بزم عرفان"میں انہی دنوں کچھ اور تصویریں بھی لگائی گئی ہیں۔ ان میں ایک بہت پرانی تصویر ہے جس کے بارے میں میں بعد میں بات کرونگا تاہم کچھ تصاویر زیادہ پرانی نہیں ہیں۔ ان میں ایک 4فروری 2023کی تصویر ہے جس میں وہ اپنے چھوٹے بھائی اعجاز صدیقی کے ہمراہ اپنے سب سے چھوٹے بھائی ڈاکٹر طاہر صدیقی کے گھر لالہ زار راولپنڈی میں صوفے پر براجمان نظر آتے ہیں۔ 11جولائی 2022کی بھی ایک تصویر ہے جو لالہ زار راولپنڈی میں ہی طاہر صدیقی کے گھر میں بنائی گئی ہے۔ اس میں وہ صوفے پر بڑے پر وقار انداز میں بیٹھے اور دائیں ہاتھ میں چھڑی پکڑے نظر آتے ہیں۔
پرانی تصویر جس کا اُوپر میں نے ذکر کیا ہے یہ پچھلے صدی کے 70کے عشرے کے کسی سال کی لگتی
ہے۔ اس میں انہوں نے ایک بچے کو جس کی عمر سال ڈیڑھ سال ہوگی اور یہ اُن کا بڑا بیٹا عزیز عمران خاور صدیقی ہو سکتا ہے کو اپنے بازوو¿ں میں اُٹھا کر کندھے کے ساتھ لگا رکھا ہے اُن کے ساتھ پانچ چھ سال کا ایک بڑا بچہ اُن کے بائیں طرف اور ایک نوجوان اُن کے دائیں طرف کھڑے نظر آتے ہیں۔ عرفان صاحب کی یہ تصویر دیکھتے ہوئے میری نگاہوں میں ان کی جوانی کا سراپا گھومنے لگتا ہے۔ جیسے میں نے پہلے بھی کہیں لکھا ہے عرفان صاحب مرحوم کو اللہ کریم نے حسن سیرت کے ساتھ حسن صورت سے بھی نواز رکھا تھا۔ سر پر اُن کے گھنے سیاہ بال خوب جچتے تھے کشادہ پیشانی اور موٹی اور روشن آنکھوں کے ساتھ چہرہ بلا شبہ حسین لگتا تھا۔ سیاہ بالوں کے ساتھ بھری بھری مونچھیں بھی خوب جچتی تھیں۔ قد زیادہ اُونچا نہیں تھا تاہم انگریزی لباس پہننے کا شوق تھا جس میں وہ خوب پر کشش نظر آتے تھے۔ روزانہ کی شیو اور مناسب لباس پہننے کا بہت خیال رکھتے ۔مجھے یاد پڑتا ہے کہ پچھلی صدی کی 70کے عشرے کے ابتدائی برسوں میں پہلے میری اور پھر اُن کی سرسید سائنس کالج مال روڈ راولپنڈی (موجودہ ایف جی سر سید کالج(میں تقرری ہوئی تو وہاں انگریزی لباس پہننے کی پابندی تھی۔ میرے پاس ایک پرانا کوٹ پنٹ یا سوٹ تھا تو عرفان صاحب کا بھی کچھ ایسا ہی عالم تھا۔ اس کی وجہ سے ہم اپنے آپ کو کچھ شرمندہ بھی محسوس کرتے ۔ جلد ہی ہم نے گرم کپڑے کے سوٹ بنوانے کا فیصلہ کیا۔ اس کے لیے ہم اپنے ایک دوست اور رفیق کار میاں محمد صدیق مرحوم کے ساتھ لارنس پورگئے اور وہاں ملز کے شو روم سے ساوانا سوٹنگ کے نام سے معروف گرم کپڑا اپنے سوٹوں کے لیے خرید کر لائے۔ محبوب ٹیلرز ٹینچ بھاٹہ راولپنڈی سے میں نے ایک سنگل برسٹ اور ایک ڈبل برسٹ سوٹ بنوایا تو عرفان صاحب نے بھی اسی طرح کے اپنے ایک دو سوٹ بنوائے۔ یہ سوٹ ہم بہت عرصہ تک پہنتے رہے۔
عرفان صاحب گرمیوں میں عموماً سفاری سوٹ پہنتے جو ان کے جسم پر خوب جچتا۔ آخری عمر میں جب اُن کا غیر ممالک بالخصوص دوبئی جہاں اُن کا بڑا بیٹا عزیزی عمران خاور بینک میں ملازم تھا آنا جانا شروع ہوا تو پھر اُن کے لباس کے چناو¿ میں مزید رنگا رنگی اور پھیلاو¿ آ گیا۔ ریڈی میڈبرینڈڈ سفاری سوٹ ، کوٹ پینٹ اور ٹائیاں وغیرہ اُن کے سوٹ کا حصہ بنیں تاہم پاکستان میں بھی اپنے لیے نئے کپڑے بنوانے کے لیے اُن کا شوق بدستور قائم رہا۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ پاکستان میں اگر کسی دوسرے شہر میں اُن کے ہمراہ ہوتا اور وہ وہاں کپڑوں وغیرہ کی کچھ خریداری کرتے تو اُن کی کوشش ہوتی کہ ایک آدھ کپڑوں کا جوڑا میرے لیے بھی لے لیں۔ 2006کے اگست ستمبر کی بات ہے ، میں ان کے ساتھ فیصل آباد گیا ۔ اُن کا چھوٹا بیٹا عزیزی نعمان خاور بھی ہمراہ تھا۔ وہاں حافظ شفیق کاشف صاحب ہمارے میزبان تھے۔ کچھ کپڑے وغیرہ خریدنے کا پروگرام بنا تو میں نے اپنے اور عرفان صاحب کے چھوٹے بھائی انعام صدیقی جنہیں ہم حضرت صاحب کہہ کر پکارتے تھے اور 2013کی گرمیوں میں فوت ہوئے کے لےے شلوار قمیص کا کپڑا پسند کیا۔ عرفان صاحب نے مجھے پیسے نہ دینے دیئے بلکہ اپنی طرف سے ادائیگی کی۔ اسی طرح کچھ چار سال پہلے کی بات ہے ، ہم پشاور گئے ۔ ہم وہاں اپنے ایک پرانے مہربان پروفیسر سید رزاق صاحب جو کسی زمانے میں گلگت اور سکردو کے کالجز میں کیمسٹری کے استاد تھے اور ہم ان کے پاس وہاں جاتے رہے تھے کی بیٹی کی شادی کی تقریب سے فارغ ہو ئے تو ہمارا حیات آباد باڑہ جانے کا پروگرام بنا ۔ مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے ایک سابقہ سینیٹر کے ایک قریبی عزیز ہماری پیشوائی کے لیے ہمارے ہمراہ تھے اُنہوں نے باتوں باتوں میں عرفان صاحب کو بتایا کہ یہاں کپڑوں کی ایک بہت بڑی دکان ہے جہاں سوٹ سلنے کا کام بھی کیا جاتا ہے اُسے کیوں نہ دیکھ لیا جائے۔ عرفان صاحب کا وہاں سے سوٹ کا کپڑا لینے اور سلوانے کا پروگرام بن گیا تو اُنہوں نے بڑا اصرار کرکے میرے لیے بھی ایک کوٹ کا کپڑا خریدا اور وہیں کوٹ بننے کے لیے دے دیا۔ یہ کوٹ برادر مکرم و محترم عرفان صدیقی مرحوم و مغفور کی نشانی کے طور پر میرے پاس موجود ہے اور میں اسے کبھی کبھی پہن لیتا ہوں۔ (جاری ہے)