ہمارے تعلیمی اور کاروباری شعبوں میں تخلیقی رجحانات تب پیدا ہوں گے جب ہم تخلیقی رویے کو اپنی روز مرہ زندگی میں اپنائیں گے۔ ہم محض اشتہارات کی صنعت سے ترقی کی منازل طے نہیں کر سکتے۔ اشتہارات کی کھوکھلی دنیا سے باہر آ کر ہمیں کچھ بنیادی امور انجام دینا ہوں گے۔ دنیا کے تمام ترقی یافتہ معاشروں میں تخلیقیت کو فروغ دینے کا کام فنون کی مدد سے کیا گیا اور اعلیٰ فن کی تخلیق سے کلچر کو ترقی دی گئی ہے۔
جدید دنیا میں فنون نے ثقافتی اور تہذیبی سرگرمی ہونے کے ساتھ ساتھ کاروباری حیثیت بھی حاصل کر لی ہے۔ فنون معاشی سرگرمی کی صورت میں بھی سامنے آئے ہیں اور جدید معیشتیں ان سے بھرپور فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ صرف موسیقی کو ہی دیکھا جائے تو 2024 میں برطانوی موسیقی کی صنعت نے قومی معیشت میں 8 ارب ڈالر کا حصہ ڈالا، جو 2023 کے مقابلے میں تقریباً 5% زیادہ ہے۔ موسیقی کی برآمدات 4.8 ارب ڈالر تک پہنچی ہیں۔ 2024 میں دنیا بھر میں ریکارڈ شدہ موسیقی کی کل آمدنی تقریباً 29.6 بلین ڈالر رہی، جو گزشتہ دہائی میں مسلسل بڑھتی رہی ہے۔ میلبورن میں لائیو میوزک نے 100,000 سے زیادہ نوکریاں پیدا کیں جبکہ بھارت میں موسیقی کا سالانہ ریونیو 12000 کروڑ رہا ہے۔
1970 سے 80ءتک کراچی جیسے شہروں میں مغربی اور لوکل موسیقی ثقافت (جیسا کہ فیزیکل کنسرٹس، لائیو بینڈز) بہت مقبول تھے، لیکن 1977 کے بعد کچھ پابندیوں اور سماجی تبدیلیوں نے ان سرگرمیوں کو محدود کیا تھا۔ ایک مخصوص پالیسی اپنانے کی صورت میں ہم نے پورے معاشرے کے خدو خال بدل ڈالے تھے۔ اب پالیسی سازی سے ہی اس میں سدھار پیدا کیا جا سکتا ہے۔ آپ نے مشاہدہ کیا ہو گا کہ کچھ عرصے سے چھوٹے بڑے شہروں میں کیفے اور چائے کی بیٹھکوں کا رواج عام ہونے لگا ہے۔ اس کی وجہ سے موسیقی کی سنگت بھی آگے بڑھنے لگی۔ قوالوں کو خصوصاً دعوت دی جانے لگی ہے۔ ہر کیفے پر آپ کو کوئی نہ کوئی قوالی گروپ نظر آئے گا۔ جو روزانہ یہ کام نہ کر سکے انھوں میں ہفتے یا مہینے میں ایک آدھ بار کسی نہ کسی قوال کو بلانا شروع کر دیا ہے۔ اس صورت حال میں لوگوں کی غیر معمولی دلچسپی بھی دیکھنے میں آئی۔ عوام نے نہ صرف اس رجحان کو سراہا بلکہ قوالی سے گہرے لگاو¿ کا اظہار بھی کیا ۔
شادیوں پر قوالی کی روایت پہلے سندھ میں زیادہ دیکھنے کو ملتی تھی اب پنجاب کے مختلف علاقوں میں بھی عام ہونے لگی ہے۔ پورے پاکستان کے خاص و عام قوال کہیں نہ کہیں اس سلسلے سے جڑے نظر آتے ہیں۔ لیکن قوالی کا فن مجموعی طور پر نوے کی دہائی سے آگے نہ بڑھ سکا۔ کلاسیکی قوالوں سے لے کر نصرت فتح علی خان کی جدید وضع کی قوالی تک کا سنہرا سفر قوالی کو آج بھی زندہ رکھے ہوئے ہے۔ نصرت فتح علی خان کا فن اتنا غالب ہے کہ کوئی قوال ان سے گریز کرتے ہوئے کسی پروگرام میں پرفارم کرتا نظر نہیں آتا۔ تیس چالیس برس سے وہی دھنیں وہی کلام وہی انداز اور موسیقی کا وہی ذائقہ راج کر رہا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس دور کے بعد تخلیقی سفر آگے نہ بڑھ سکا۔ اگر کوئی نیا کلام سامنے لے بھی آئے تو چوری کی دھنیں، چوری کی طرزیں، ایک طرز میں بیس بیس طرح کے کلام وہی موسیقی، جس کے سہارے یہ روزگار بس چل رہا ہے۔
اس صورت حال کی ایک وجہ تو ہمارا وہ رویہ ہے جو عرصہ دراز سے ہم نے تمام فنون کے ساتھ روا رکھا ہے۔ ہر فن سے ایک گالی کو جوڑا گیا ہے اور ہر فنکار کو دشنام کیا گیا ہے۔ اچھے، ذہین اور پڑھے لکھے لوگوں کو فنون سے بدظن بلکہ خوفزدہ کیا گیا۔ نتیجتاً کم پڑھے لکھے یا ان پڑھ لوگوں نے یہاں کا رخ کیا۔ ہوں نہ تو تخلیقی سرگرمیوں کا سلسلہ قائم رہ سکا نہ فنون سے وہ سماجی فوائد حاصل کیے جا سکے جو دیگر کئی ترقی یافتہ معاشروں کے حصے میں آئے ہیں۔
فلم انڈسٹری کا حال یہ ہے کہ ہمارے زیادہ تر پروڈکشن ہاو¿س فلم کی تکنیک سے ہی نا آشنا نظر آتے ہیں۔ ساس بہو کے ڈراموں کی تکنیک، عامیانہ کہانی کاری، سطحی پلاٹ، بے جان کردار اور ٹیکنالوجی سے عاری فلمیں جن کے مکالمے بھی کلیشے سے زیادہ کچھ نہیں ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ حال ہی میں ایک یونیورسٹی کے میڈیا ڈپارٹمنٹ میں کیریکٹر ڈے منایا گیا۔ سبھی نے چارلی چیپلن، مسٹر بین سے لے کر پریش راول، راج پال یادو اور عامر خان، سلمان خان کے کردار منتخب کیے۔ اندازہ کیجئے کہ نئی نسل تک امپورٹڈ ہیرو، پرائی کہانیاں اور اجنبی کلچر منتقل ہوا ہے۔ ہمارے فن دشمن رویے نے ہمیں ثقافتی طور پر بھی محدود کیا ہے۔ ہمیں قومی بیانیہ بنانے کے لیے سستے ٹک ٹاکز، گھٹیا قسم کے پروگراموں اور بازاری نوعیت کے مواد پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ جس سماج میں کہانی کا فن تقویت نہ پا سکتا ہو وہاں تخلیق اور تشکیل کے حربوں کو کس صنف یا کس میدان میں آزمایا جاتا ہو گا؟۔
ہمارے پالیسی سازوں کو چاہیے کہ فنون کی ترقی اور ترویج کے لیے مضبوط منصوبہ بندی کریں اور شدت پسندی کی روک تھام کے لیے اقدامات اٹھائیں تا کہ ایک "پروگریسو" اور "کری ایٹو" معاشرے کو فروغ دیا جا سکے جہاں فنون ثقافتی، معاشرتی اور معاشی ترقی میں معاون ثابت ہوں۔