Wed, September 16, 2026

بند فلم انڈسٹری کو کیا آئی ایم ایف کھولے گی؟…(آخری حصہ)

 بند فلم انڈسٹری کو کیا آئی ایم ایف کھولے گی؟…(آخری حصہ)

جبکہ ادوار کے حوالے سے بات کروں تو ہر آنے والی ہر حکومت نے فلم انڈسٹری کو زندہ رکھنے کے لئے بڑے بڑے دعوے کئے مگر ان میں ایک بھی پورا نہ ہو سکا۔ جدید زمانے میں ہمارے ہاں آج بھی اِکا دُکا کلر لیب ہوں گی۔ اس سے بڑی بات اور کیا ہو سکتی ہے کہ ہمارے پاس فلم بنانے کے لئے جدید کیمرے تک نہیں۔ آج اگر بڑی سکرین پر فلم اتاری جاتی ہے تو پرانے کیمروں ہی سے کام لیا جاتا ہے۔ ایسے حالات میں جب کوئی بھی حکومت آگے نہیں آئے گی نہ اس طرف توجہ دے گی تو پھر مسائل اور بڑھیں گے۔ بڑے پروڈکشنز ہائوس فلم بنا تو رہے ہیں مگر وہ غریب آدمی کے لئے نہیں بنتی۔ ایسے حالات میں ایس ایم تنویر کو شاباشی دینا ہوگی کہ انہوں نے اپنی ٹریڈ سیاست اور کاروباری مصروفیات میں سے وقت نکال کر اگر فلم انڈسٹری کو زندہ کرنے کی ٹھان لی ہے اور مجھے علم ہے کہ وہ ایسا کر جائیں گے تو پھر امید ہے کہ ہمارے ہاں سستی، معیاری اور بہترین پروڈکشنز کے بینر تلے جہاں فلم بنے گی تو وہاں مردہ فلم انڈسٹری میں جان بھی پیدا ہو جائے گی۔ اس سلسلے میں ایس ایم تنویر کا جو موقف سامنے آیا ہے وہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں فلم انڈسٹری جو ایک طویل عرصہ سے بند پڑی ہے۔ اس کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ آج کے مہنگے دور میں فلم بنانا امیروں کا شوق ہے جبکہ میرے نزدیک ایسی بات نہیں۔ اب میری اپنی ایک فلم پروڈیوسر ایسوسی ایشن ہے جب میں نے اس طرف توجہ دی تو مجھ۔ کہا گیا کہ ایک تو آئی ایس پی آر والے فلم بناتے ہیں تو دوسری طرف جیو اور اے آر وائی پروڈکشن کے زیراہتمام فلمیں بنائی جا رہی ہیں اور ان فلموں پر پچیس سے پینتیس کروڑ تک کی سرمایہ کاری ہوتی ہے اور اب ایک عام آدمی کے بس میں یہ بات نہیں رہی کہ وہ فلم بنائے اور پھر جب وہ فلم بنا کر اس کو کسی سینما میں نمائش کرتا ہے تو اس کا ٹکٹ پندرہ سو سے پچیس سو تک کا ہے جو عام آدمی خریدنے کی سکت نہیں رکھتا۔ اب ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اس فلم انڈسٹری کو دوبارہ چلانا اور زندہ کرنا ہے اور ازسرنو ایک ایسی فلم انڈسٹری کی تشکیل نو کرنا ہے کہ ہم کم لاگت پر اچھی عوامی معیاری فلمیں بنائیں اور انشاء اللہ ایسا ہوگا۔ آج گھٹن زدہ ماحول میں اس کی بہت ضرورت ہے۔ دیکھیں، بڑے ادارے تو بڑے کام ہی کریں گے۔ چلیں انہوں نے کچھ تو کام کئے ہم تو اس سینما کی طرف جا رہے ہیں جہاں اچھی، سستی اور معیاری فلمیں پروڈیوس کریں گے عوام کو اِدھر لائیں، آپ اچھی فلم بنائیں گے تو وہ کامیاب ہوگی۔ اس سلسلے میں جب میں کچھ لوگوں سے ملا تو پتہ چلا کہ ہماری فلم کی لاگت کم از کم دو ڈھائی کروڑ روپے بنتی ہے اور جس سینما میں فلم لگاتے ہیں تو وہ اس کو دو تین دن کے بعد اتار دیتے ہیں۔ دوسری طرف سینما والوں کے پاس جب بڑی پروڈکشن کی بڑی فلم آتی ہے تو وہ اپنی کمائی کی خاطر اس فلم کو زیادہ پرموٹ کرتے ہیں۔ اب ماضی میں ہمارے ہاں ایک وقت تھا۔ دو سو سے زائد سینما گھر تھے اور اب چند گنے چنے رہ گئے ہیں۔ ان حالات میں جب آپ کے ہاں فلم نہیں بن رہی تو کون نئے سینما گھر بنائے گا۔ ایسے حالات میں اگر آرٹس کونسل والے فلم چلا دیں اور ٹکٹ بیس روپے رکھیں گے تو فلم ضرور چلے گی۔ اب میں آپ کے ساتھ اکنامی کی صورتحال پر بات کر رہا ہوں کہ فلم انڈسٹری کے نہ ہونے سے آپ کا بہت سا پیسہ ضائع ہو رہا ہے جو آنا چاہئے تھا۔ اب یہاں ایک مثال دوں گا کہ ابھی حال ہی میں میں کراچی گیا تو پتہ چلا کہ ایک ایکسپو ہو رہی ہے اور کراچی کے تمام ہوٹلز بک ہیں۔ باہر کی دنیا سے لوگ ہمارے ہاں آ رہے ہیں۔ اگر ایک ایکسپو پر بڑے ہوٹلز بک ہو سکتے ہیں تو اندازہ لگائیں کہ اگر فلم انڈسٹری دوبارہ سر اٹھائے گی تو معاملات کہاں تک جا سکتے ہیں۔ 
یہ آپ کی بات درست ہے کہ تفریح کا سامان ہوگا تو عوام اِدھر توجہ دیں گے۔ ملک میں جگہ جگہ فیسٹیول ہوں گے۔ آپ کو یاد ہے کہ ہمارے ہاں سب سے بڑا فیسٹیول پتنگ بازی ہوا کرتا تھا۔ اس وقت تو شہروں کے شہر لاہور آ جاتے تھے۔ اب بدقسمتی سے پیسے کے لالچ میں دھاتی تاروں سے اموات سامنے آئیں اور حکومت کو یہ فیسٹیول بند کرنا پڑا۔ انشاء اللہ یہ فیسٹیول بھی ہوگا اور آپ کی فلم انڈسٹری بھی ایک دن بحال ہوگی اور ان دونوں پر بڑی تیزی کے ساتھ کام ہو رہا ہے۔ 
اور آخری بات…!
دیکھنے میں یہ آ رہا ہے کہ جو کام حکومت نے کرنا ہیں وہ نہیں کر رہی اور جو کام حکومت نے نہیں کرنے اس میں پنگا لئے ہوئے ہے۔ یہ سچ ہے کہ ہر عروج کے بعد زوال آتا ہے اور زوال کے بعد اس وقت عروج آتا ہے جب ایس ایم تنویر جیسے لوگ اس کو زندہ کرنے کے لئے آگے آئیں گے۔ یہاں حکومت سے بھی درخواست ہے کہ وہ کم از کم عوام کو اس گھٹن زدہ اور پریشان کن ماحول سے نکالنے کے لئے کم از کم ان اداروں کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھے جو عوامی تفریح کا سبب بنتے ہیں۔ فلم بنے گی تو بے شمار لوگ سامنے آئیں گے، سٹوڈیوز آباد ہوں گے۔ جب حکومت اس کو فری ٹیکس زون میں رکھے گی تو پھر باہر سے جدید ٹیکنالوجی، کیمرے، لیب اور فلم کا سازو سامان آ سکے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ سینما گھر پھر سے آباد ہوں گے۔ معیاری اور سستی فلم سے جہاں عوام کو تفریح ملے گی وہاں حکومت بھی اربوں روپے کمائے گی۔ اب یہ کام تو آئی ایم ایف کا نہیں ہے۔ ایسے حالات آئی ایم ایف نے نہیں ہم نے خود پیدا کرنے ہیں کہ ملک میں فلم انڈسٹری دوبارہ زندہ ہو سکے۔ 

ٹیگز: