Wed, September 16, 2026

شادی کا کھانا اور رس گلوں پر لڑائی

شادی کا کھانا اور رس گلوں پر لڑائی

چوپال سجی ہوئی تھی، سب محوگفتگو تھے۔ چپ سائیں اخبار کا مطالعہ کررہے تھے، اچانک ا ن کی زبان سے کچھ اقوال نکلے، سب چونک گئے کہ کیا ہوا؟۔ اس پر چپ سائیںنے کہاکہ بچو اور  دوستومجھے اخبار میں شائع ایک خبر نے چونکا دیا ۔ یہ خبر پڑھ کر مجھے کچھ افسوس بھی ہوا لیکن میں یہ بھی کہوں گا کہ ہم نجانے کونسے دور میں جی رہے ہیں۔ اس پر سب یک زبان ہوکر بولے۔۔ سائیں جی کیا ہوا؟۔ آپ کس خبر پر چونکے اور کونسی خبر کی بات کررہے ہیں؟۔
چپ سائیںنے کہاکہ دوستو!اخبار میںخبر شائع ہوئی ہے کہ بہار کے ضلع بودھگیا میں ایک شادی کے دوران دلہا اور دلہن کے خاندان کے درمیان لڑائی ہوئی کیونکہ کھانے میں رس گلے کم تھے۔ شادی کی ابتدائی رسومات کے بعد، دلہا اور دلہن منڈپ کی طرف جا رہے تھے کہ یہ جھگڑا شروع ہو گیا۔اہل خانہ  نے ایک دوسرے پر کرسی اور برتن پھینکے، گھونسے مار ے  وغیرہ وغیرہ۔بعد ازاں دلہن کے اہل خانہ نے دلہا کے خاندان کے خلاف جہیز کا مقدمہ درج کرا دیا۔ دوستو! یہ بھی کتنی عجیب بات ہے۔ دنیا چاند پر جاپہنچی ہے اور ہم وہیں جہیز، بینڈ باجے ،نمود ونمائش اور ایک دوسرے کو زیر کرنے کے چکروں میں ہیں۔ یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ شادی کے دوران معمولی باتیں بھی جذباتی تنازعے کا سبب بن سکتی ہیں، اور کبھی کبھار چھوٹی باتیں بڑے جھگڑوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔تاہم شادی کی تقریب کو میدان جنگ بنادینا بھی انتہائی عجیب ہے دوستو!۔
شادی کے دن کو عام طور پر خوشی، جشن اور محبت کا موقع سمجھا جاتا ہے، لیکن حالیہ برسوں میں جنوبی ایشیا میں ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جہاں شادی کے دوران چھوٹی باتیں، جیسے کھانے کی کمی یا پسندیدہ میٹھا نہ ملنا، مہمانوں کے درمیان شدید جھگڑوں کا سبب بن جاتی ہیں۔ ایسے واقعات صرف بہار تک محدود نہیں ہیں۔ پاکستان میں مٹن ، چکن کی کمی پر، دہلی میں پنیّر نہ ملنے پر مہمانوں میں جھگڑے اور چپقلش ہوتی  رہتی ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ شادی کے دوران چھوٹی باتیں بھی جذباتی کشمکش میں بدل سکتی ہیں۔شادی کے کھانے کی اہمیت صرف جسمانی نہیں بلکہ ثقافتی اور جذباتی بھی 
ہے۔ مہمان نوازی، روایتی پکوان، اور خاندان کی ساکھ سب اس سے جڑے ہوتے ہیں۔ جب توقعات پوری نہیں ہوتیں تو ناخوشی، غصہ اور کبھی کبھار تشدد سامنے آ جاتا ہے۔
دوستو! بات کھانے پر ختم نہیں ہوتی بلکہ اگرغور کیاجائے تو کچھ علاقوں میں بارات کی تقریب میں شہرت اور چرچے کے لیے لوگ ڈالر کی برسات کرتے ہیں اور کچھ تو کڑک کڑک نوٹوں کو ایسے نچھاور کرتے ہیں جیسے ناجائز کمائی ہوئی۔ یہ بھی درست ہے کہ خوشی کا موقع ہے، سب جائز ہے لیکن اگر یہی پیسے کسی ضرورت مند کودینے کی نوبت آجائے توہم سب کہتے ہیں کہ ابھی حالات ٹھیک نہیں ہیں۔صاحبو!اصراف یا زیادتی کے واقعات جہاں پر ہوتے ہیںوہیں کچھ لوگ سخاوت میں بھی آگے نکل جاتے ہیں۔نتھواور پھتو مجھے کچھ روز قبل ایک واقعہ سنا رہے تھے۔ ان کے ایک صاحب حیثیت عزیز  نے الیکٹریشن سے کچھ کام کرایا۔۔۔ الیکٹریشن ان کا محلہ دار تھا۔ ان صاحب نے اس اللہ کے بندے کو دس گنا مزدوری دے دی اور کہا کہ یہ لو بھائی۔۔۔ میں دراصل نیا گھر بنوارہا ہوں، وہاں  مجھے آپ کی  ضرورت پڑے گی۔ آپ نے اتنی ایمانداری سے کام کیا ہے کہ میں وہاں پر سارا کام آپ سے کرائوں گایہ تھوڑا سا ایڈوانس رکھیں۔اس کے ساتھ ہی وہ صاحب بولے۔۔۔ بھائی ٹھہریںمیں اور میری بیوی کل پرسوں شہر سے باہر جارہے ہیں،ہمارے پاس مہینے بھر کا راشن ہے وہ خراب ہوجائے گا۔ لہٰذا وہ بھی لیتے جائیں۔۔ الیکٹریشن تو چلتا بنا۔۔۔ بعد میں ان صاحب سے کسی نے پوچھا یہ کیا ماجرا ہے؟۔۔ اس پر وہ صاحب بولے۔۔ بھائی جان کچھ کام خاموشی اور اللہ کی رضا کے لیے بھی کرنے چاہئیں۔ اس بندے کے پاس نا تو کام تھا اور نہ گھر میںراشن۔۔ اہل خانہ۔۔راشن کو ترس رہے تھے۔۔۔ میں نے صبح ایک دکاندار سے بات کرتے ہوئے اس کی بات سنی تو یہ سب خاموشی سے کردیا جو اس کی طبیعت پر گراں بھی نہیں گزرا ہوگا۔۔ کیوں بھائی پھتو۔۔ مجھے یہی واقعہ سنا یا تھا۔۔۔ اس پر پھتو بولا جی سائیں جی ۔۔۔ آپ نے فضول خرچی  کے ساتھ سخاوت کو بھی بہت اچھے بیان کردیا۔۔۔ یہ ہم سب کے لیے سبق ہے۔۔ ہم خوشی کے موقع پر بڑھ چڑھ کر خرچ کرتے ہیں لیکن ارد گرد نظر کیوں نہیں دوڑاتے۔۔یہ واقعی سوچنے والی بات ہے۔
چپ سائیں نے کہا دوستو! سوشل میڈیا کے اس کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ وائرل ویڈیوز تنازع بڑھا دیتی ہیں، طنز و تبصرے اور سماجی دباؤ پیدا کرتے ہیں، اور شادی کی اصل خوشیوں کو پسِ منظر میں ڈال دیتے ہیں۔لہٰذا ہمیں کسی صورت میں بھی صبر، برداشت اور تعلقات کی قدر کوفراموش نہیں کرنا چاہئے۔  شادی کی تقریب میں کھانااگرچہ اہم ہے، لیکن خاندان، عزت اور محبت کہیں زیادہ قیمتی ہیں۔ شادی کو جشن بنائیں، متنجن نہیں۔صاحبو!شادی خوشی کا موقع ہے، لیکن اس میں اکثر فضول خرچی بھی شامل ہو جاتی ہے۔ نئے کپڑے، مہنگے کیٹرنگ آرڈر، بڑے ہال، اور ڈیکوریشن،یہ سب مہنگائی میں اضافہ کرتے ہیں اور خاندانوں پر مالی دباؤ ڈال سکتے ہیں۔کبھی کبھار رس گلے یا مرغی کی بوٹیوں پر جھگڑا صرف مہنگے انتخاب یا محدود بجٹ کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اگر منصوبہ بندی اور بچت ہو، تو مہمان بھی خوش، خاندان بھی خوش، اور خرچ بھی قابو میں رہتا ہے۔سماج میں ''پرفیکٹ شادی'' کا دباؤ اکثر فضول خرچی کی وجہ بنتا ہے۔ مہنگی تقریبات، برانڈڈ کپڑے اور لگژری کیٹرنگ دکھانے کے لیے ہوتی ہیں، جبکہ اصل مقصد خاندان کی خوشی اور رشتوں کی مضبوطی ہوتا ہے۔چھوٹی بچتیں شادی کے بعد مالی سکون دیتی ہیں۔ مہمانوں کو خوش کرنے کے بجائے، خاندان کی ضروریات اور مستقبل پر سرمایہ کاری زیادہ فائدہ مند ہے۔
صاحبو!سوشل میڈیا پر مہنگی شادیوں کی تصویریں اکثر خاندانوں کو دباؤ میں ڈالتی ہیں۔ لوگ دوسروں کی شادی کے معیار کو اپنا معیار سمجھ لیتے ہیں، جس سے غیر ضروری خرچ بڑھتا ہے۔شادی میں سب سے بڑی سرمایہ کاری رشتوں، صبر اور محبت ہے۔ خوبصورت کھانا، بڑے ہال اور مہنگے کپڑے خوشی کے اضافے کا ذریعہ ہو سکتے ہیں، لیکن اصل خوشی تعلقات اور یادگار لمحات سے آتی ہے، نہ کہ فضول خرچی سے۔اخلاقی رویہ یہ سکھاتا ہے کہ تعلقات اور محبت سب سے بڑی دولت ہیں۔خوشی کے مواقع پر کھانے یا محض رسم و رواج پر جھگڑا کرنا، اخلاقی اصولوں کے خلاف ہے اور خاندان کے تعلقات پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔۔۔۔رہے نام اللہ کا!

ٹیگز: