Wed, September 16, 2026

ناانصافی اور گلاب جامن

ناانصافی اور گلاب جامن

جب آپ کسی کے ساتھ ہونے والی ناانصافی پر اس قدر خوش ہوں کہ ایک ہی بار میں پورے کا پورا گلاب جامن یوں منہ میں ڈال لیں کہ اسے چبانے کے لیے جبڑا ہلانا ہی مشکل ہو جائے تو پھر اپنے ساتھ ہونے والے انصاف کو ناانصافی کہنا اچھا نہیں لگتا۔ ناانصافی کسی کے ساتھ بھی نہیں ہونی چاہیے اور نہ ہی کسی ناانصافی کا دفاع کیا جا سکتا ہے۔ غلط کو غلط کہنا ہی انصاف کا تقاضا ہے۔ البتہ کسی عمل کو ناانصافی کہنے سے پہلے اس بات کا تعین ضروری ہے کہ وہ ناانصافی ہے بھی یا نہیں اور اگر ناانصافی ہے تو کہیں اس کی بنیاد بھی کوئی ناانصافی تو نہیں۔ بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ کو توشہ خانہ ٹو کیس میں جو سترہ سترہ سال کی سزا اور ڈیڑھ کروڑ فی کس سے ز ائد کے جرمانے ہوئے ہیں، بانی کا حامی طبقہ انہیں ناانصافی قرار دے رہا ہے۔ ان لوگوں کا خیال ہے کہ بانی کی توشہ خانہ ٹو کیس میں سزائیں سیاسی انتقام کی بدترین شکل ہے۔ اس طبقے کی طرف سے بانی کو ملنے والی سزاؤں کو ناانصافی کہنا بجائے خود بہت بڑی ناانصافی ہے کیونکہ تحریک انصاف نے ماضی میں اپنے مخالفین کے خلاف ہونے والے عدالتی فیصلوں کو ہمیشہ حق و انصاف پر مبنی فیصلے قرار دیا۔ انہیں اس وقت کبھی یہ خیال نہ آیا کہ یہ فیصلے بھی ناانصافی پر مبنی ہو سکتے ہیں۔ آج اگر وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے قائد کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے تو انہیں ناانصافیوں کی اس طویل فہرست کو بھی ایک بار ضرور یاد کر لینا چاہیے جو ان کے مخالفین کے ساتھ ہوتی رہی ہیں اور جن میں یا تو ان کی قیادت براہ راست ملوث رہی ہے یا پھر خوشی کے شادیانے بجاتی رہی ہے۔ تحریک انصاف کی پیدائش سے عروج، عروج سے زوال اور پھر زوال سے لمحہ موجود تک کے سفر کا ایک سرسری سا جائزہ لیا جائے تو واضح طور پر نظر آتا ہے کہ اس نے خود کو ہمیشہ اپنے مخالفین کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں اور ناانصافیوں کو عملی جامہ پہننانے کے لیے رضا کارانہ طور پر پیش کیا۔ آج کے دور میں جبکہ اسٹیبلشمنٹ نے اپنی سمت کو بڑی حد تک درست کر لیا ہے، تحریک انصاف اسے بُرا بھلا کہتی نہیں تھکتی حالانکہ اسی تحریک انصاف نے اس وقت اسٹیبلشمنٹ کو اپنا کندھا پیش کیا جبکہ وہ اپنے دائرہ کار سے باہر نکل رہی تھی اور اسے اس کے آئینی دائرہ کار میں محدود کرنے کے لیے سیاسی قوتوں کے درمیان میثاق جمہوریت طے پایا تھا۔ بانی پی ٹی آئی کی طرف سے اس تاریخ ساز معاہدے کو محض اس لیے چوروں کا مک مکا قرار دیا گیا کیونکہ اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ کا منشا یہی تھا اور بانی اس کا ساتھ دے کر خود کو وزیر اعظم کا بہترین امیدوار ثابت کرنا چاہتے تھے۔ بانی پی ٹی آئی اس کوشش میں اس حد تک چلے گئے کہ انہوں نے 2014 میں اس وقت کی حکومت کے خلاف تاریخ کا طویل ترین دھرنا دیا۔ بانی کے اس اقدام کے نتیجے میں سیاسی قوتیں دیوار سے جا لگیں اور اس خدمت کے صلے میں بانی کو صادق و امین قرار دیا گیا اور ان کا ایک ایسا بت تراشا گیا جسے سادہ لوح لوگوں نے واقعی دیوتا مان لیا۔ یہ اتنی بڑی ناانصافی تھی جس نے ملک کے جمہوری نظام کو کئی دہائیاں پیچھے دھکیل دیا۔ اگر بانی نے اس وقت احساس کر لیا ہوتا کہ اس تمام تر مشق کا انجام کیا ہو سکتا ہے تو انہیں کبھی ان حالات کا سامنا نہ کرنا پڑتا جن سے وہ آج دوچار ہیں۔ پھر سابق وزیر اعظم نواز شریف کو جب پاناما کیس میں نااہل کیا گیا تو تحریک انصاف اور اس کے حامیوں نے بھر پور انداز میں جشن منایا، بھنگڑے ڈالے گئے، مٹھائیاں تقسیم کی گئیں۔ بانی پی ٹی آئی کی اس موقع پر مٹھائی کھاتے ہوئے تصاویر آج بھی انٹرنیٹ پر دستیاب ہیں جن میں سابق صدر عارف علوی سمیت پی ٹی آئی دور کے متعدد وزرا بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ پاناما کیس بعد میں جھوٹ کا پلندہ ثابت ہوا اور نواز شریف ان تمام مقدمات سے بری ہو گئے۔ جب یہ مقدمات بنائے جا رہے تھے تو بانی پی ٹی آئی کو پوری طرح ادراک تھا کہ یہ مقدمات درست نہیں۔ وہ چاہتے تو اس وقت یہ بات کہہ سکتے تھے کہ نواز شریف کے ساتھ ناانصافی کی جا رہی ہے لیکن انہیں وزیر اعظم کی کرسی نظر آ رہی تھی، اس لیے انہوں نے سچائی کا ساتھ دینے کی بجائے ناانصافی کا ساتھ دینا مناسب سمجھا اور دل کھول کر اس ناانصافی کا جشن منایا۔ اگر انہوں نے ایسا نہ کیا ہوتا اور سچائی کا ساتھ دیا ہوتا تو شاید آج حالات مختلف ہوتے۔ یہی نہیں بانی نے اپنے دور حکومت میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی سمیت مخالف جماعتوں کی کم و بیش ساری کی ساری قیادت پر مقدمات بنائے۔ انہیں بدترین حالات میں قید رکھا گیا، عدالتوں میں گھسیٹا گیا۔ اس وقت بھی معتوب لوگ اسے سیاسی انتقام قرار دیتے تھے اور پھر وقت نے ثابت کیا کہ وہ سیاسی انتقام ہی تھا لیکن بانی کے خلاف تو بیشتر مقدمات کی ٹھوس بنیادیں بھی موجود ہیں اس کے باوجود وہ اور ان کے حامی انہیں سیاسی انتقام اور ناانصافی قرار دیتے ہیں۔ سیاست سے وابستہ لوگوں کے خلاف مقدمات اور فیصلوں پر ہمیشہ اسی قسم کا رد عمل دیکھنے میں آتا ہے جیسا آج کل بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سزا پر دیکھنے میں آ رہا ہے سو یہ بحث تو قانونی ماہرین کا کام ہے کہ فیصلہ قانونی طور پر درست ہے یا نہیں البتہ یہاں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کیا ایسا فیصلہ پہلی بار آیا ہے۔ اگر یہ فیصلہ قانونی طور پر درست ہے تو بہت اچھی بات ہے اور اگر سیاسی ہے تو بھی کوئی غیر معمولی چیز نہیں کہ یہ سلسلہ تو ماضی سے چلا آ رہا ہے۔ آج اگر پی ٹی آئی کے حامی اسے سیاسی فیصلہ کہتے ہیں تو وہ اس وقت کو یاد کریں جب ان کے دورِ اقتدار میں حریف سیاسی رہنما اپنے خلاف بننے والے مقدمات کو سیاسی قرار دیتے تھے تو تحریک انصاف کے لوگ 
ان مقدمات کو عین قانون کے مطابق کہا کرتے تھے۔ بانی کی بہن علیمہ خان نے حالیہ سزا پر رد عمل دیتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ انہیں دو ماہ سے اسی فیصلے کی توقع تھی۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ وہ اس فیصلے کی توقع دو ماہ قبل نہیں بلکہ کم و بیش بارہ سال قبل کر لیتیں۔ یادش بخیر جن دنوں پی ٹی آئی کا طویل ترین دھرنا جاری تھا اور سیاسی جماعتیں اسے اسٹیبلشمنٹ کی سازش قرار دیتی تھیں تو علیمہ خان کہا کرتی تھیں کہ اسٹیبلشمنٹ بھی تو ہماری اپنی ہی ہے۔ آج علیمہ خان اسی اسٹیبلشمنٹ کو تنقید کا نشانہ بناتی ہیں۔ بانی پی ٹی آئی کی سزا کے فیصلے کو کوئی ناانصافی اور سیاسی انتقام کہے یا عین انصاف اور آئین و قانون کے مطابق کہے، یہ ایک حقیقت ہے کہ یہ مکافات عمل ہے۔ آدمی کسی کے لیے اگر کوئی گڑھا کھودتا ہے تو خود ہی اس میں گرتا ہے۔ اسی لیے کسی کے ساتھ ہونے والی ناانصافی پر گلاب جامن سوچ سمجھ کر کھانے چاہئیں۔ اقبال نے کیا خوب کہا ہے:
تقدیر ہے اک نام مکافات عمل کا
دیتے ہیں یہ پیغام خدایانِ ہمالہ

ٹیگز: