Wed, September 16, 2026

پاکستان میں ڈیجیٹل تحفظ کیلئے گوگل کے ’ڈیجیٹل پاسبان‘ پروگرام کا آغاز

پاکستان میں ڈیجیٹل تحفظ کیلئے گوگل کے ’ڈیجیٹل پاسبان‘ پروگرام کا آغاز

گوگل نے پاکستان میں بچوں اور خاندانوں کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے اور ڈیجیٹل شعور اجاگر کرنے کے لیے ’ڈیجیٹل پاسبان‘ پروگرام متعارف کرا دیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت 2 لاکھ خاندانوں کو آن لائن سیفٹی ٹولز کے استعمال اور محفوظ ڈیجیٹل سرگرمیوں کے حوالے سے تربیت دی جائے گی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گوگل کے کلسٹر ڈائریکٹر فرحان ایس قریشی نے کہا کہ پاکستان میں گوگل کی موجودگی ملک کے ٹیکنالوجی اور کاروباری شعبوں کے لیے کھلے پن کا اظہار ہے۔ ان کے مطابق گوگل کا پاکستان میں آنا عالمی سطح پر ایک مثبت پیغام دے رہا ہے۔

گوگل کے نائب صدر برائے گورنمنٹ افیئرز اینڈ پبلک پالیسی ولسن وائٹ نے بتایا کہ کمپنی اس پروگرام پر 5 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل پاسبان کا مقصد لوگوں کو آن لائن دنیا میں محفوظ رہنے کے لیے قابلِ عمل ٹولز اور ڈیجیٹل لٹریسی سے متعلق وسائل فراہم کرنا ہے۔

ولسن وائٹ کے مطابق پروگرام کے ذریعے والدین کو اپنے بچوں کی آن لائن سرگرمیوں کو محفوظ بنانے میں مدد ملے گی اور وہ نامناسب مواد سمیت مختلف ڈیجیٹل خطرات سے بچوں کو بہتر انداز میں محفوظ رکھ سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ گوگل کی بنیادی مصنوعات میں بھی صارفین کے تحفظ کو ترجیح دی جاتی ہے۔

چیئرمین پی ٹی اے میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمٰن نے کہا کہ بچوں کی ڈیجیٹل تربیت اور حفاظت میں والدین اور اساتذہ کا کردار انتہائی اہم ہے۔ ان کے مطابق بچوں کے سوشل میڈیا استعمال سے متعلق پی ٹی اے کو روزانہ سیکڑوں شکایات موصول ہوتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کو نظر انداز یا روکا نہیں جاسکتا، بلکہ مناسب قوانین اور ضوابط کے ذریعے اس کے مثبت پہلوؤں سے فائدہ اٹھانا ضروری ہے۔ پی ٹی اے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ساتھ رابطے میں ہے اور انہیں صارفین کی شکایات اور ملکی قوانین سے آگاہ کرتا رہتا ہے۔

حفیظ الرحمٰن نے مزید کہا کہ پاکستان میں موصول ہونے والی شکایات پر گوگل کا کمپلائنس ریٹ سب سے زیادہ ہے۔ ان کے مطابق نئی ٹیکنالوجیز کے مثبت اور ذمہ دارانہ استعمال کے ذریعے نوجوان نسل کے مستقبل کو زیادہ محفوظ، بہتر اور ترقی پسند بنایا جاسکتا ہے۔

ٹیگز: