انقرہ : وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دنیا میں امن قائم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ تمام ممالک مل کر دہشت گردی کے خلاف ایک مؤثر حکمت عملی بنائیں۔
یہ بات انہوں نے ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کے ساتھ انقرہ میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہی۔ شہباز شریف نے ترکیہ میں اپنے پرتپاک استقبال پر شکرگزاری کا اظہار کیا اور کہا کہ انہیں صدر اردوان سے ملاقات کر کے بہت خوشی ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اردوان ایک دوراندیش لیڈر ہیں جن کی قیادت میں ترکیہ نے زبردست ترقی کی ہے۔
وزیراعظم نے یاد دلایا کہ 2010 کے سیلاب کے دوران طیب اردوان نے خود پاکستان آ کر متاثرین سے اظہارِ یکجہتی کیا تھا اور ترکیہ نے دل کھول کر مدد بھی کی تھی۔
شہباز شریف نے بتایا کہ پاکستان اور ترکیہ نے کئی شعبوں میں مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے جن میں توانائی، آئی ٹی، معدنیات اور کان کنی شامل ہیں۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف ترکیہ کے تعاون پر بھی شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے غزہ میں انسانی جانوں کے ضیاع پر شدید افسوس کا اظہار کیا اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ 50 ہزار معصوم جانوں کا ضیاع ناقابل قبول ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے مسئلہ کشمیر پر ترکیہ کی مسلسل حمایت پر بھی شکریہ ادا کیا اور شمالی قبرص پر ترکیہ کے مؤقف کی تائید کی۔
دوسری جانب صدر طیب اردوان نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے اور ترکیہ اس کوشش میں اس کا مکمل ساتھ دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملک دفاعی شعبے میں بھی مل کر کام کرنا چاہتے ہیں اور عالمی مسائل پر دونوں کا نقطہ نظر ایک جیسا ہے۔ اردوان نے آخر میں یہ بھی کہا کہ پاکستان اور ترکیہ دونوں فلسطینی ریاست کے قیام کے حامی ہیں۔