بحیرہ احمر اور باب المندب کی موجوں پر تیرتی بارود کی بو نے یمن کے دیرینہ تنازع کو عالمی جیو پولیٹکس کے ایک انتہائی حساس اور باریک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے ان بڑھتے ہوئے بحری خطرات اور سٹریٹیجک ہلچل کے درمیان سعودی عرب نہایت تدبر اور حکمتِ عملی کے ساتھ توازن برقرار رکھے ہوئے ہے ایک طرف جہاں ریاض اپنی سرحدوں اور تجارتی راستوں کے دفاع کے لیے مستعد ہے وہیں یمن میں پائیدار اور مستقل امن کے قیام کی کوششوں کو کسی صورت اثر انداز نہیں ہونے دینا چاہتا سعودی سفارت کاری اس وقت ایک نازک ترین موڑ سے گزر رہی ہے جہاں وہ عسکری اشتعال انگیزی سے بچتے ہوئے پرامن مذاکرات کے راستے کو ترجیح دے رہی ہے تاکہ خطہ کسی بڑی جنگ کی لپیٹ میں نہ آ جائے۔ اگر خدانخواستہ باب المندب کی اس شاہراہِ حیات پر حوثیوں کا مکمل تسلط قائم ہو جاتا ہے تو عالمی اقتصادیات پر اس کے نتائج ایک تباہ کن زلزلے سے کم نہیں ہوں گے باب المندب دنیا میں خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی نقل و حمل کی سب سے اہم رگِ جاں ہے اس کی ناکہ بندی کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ سے مغرب کو روانہ ہونے والے تیل کے ٹینکرز کو برِاعظم افریقہ کے طویل، پرخطر اور انتہائی مہنگے راس امید کا چکر کاٹنا پڑے گا اس مسافت سے نہ صرف سفر کا دورانیہ ہفتوں بڑھ جائے گا بلکہ جہاز رانی کے اخراجات، بیمہ کی شرح اور ایندھن کی لاگت میں ایسا ہولناک اضافہ ہوگا جو بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں کو فوری طور پر آسمان تک پہنچا دے گا ۔
پاکستان اور سعودی عرب کے سکیورٹی تعلقات وقت کی کسوٹی پر پورا اترنے والی ایک ایسی لازوال داستان ہیں جس کی بنیادیں باہمی اعتماد پر قائم ہیں یمن کے پیچیدہ تنازع میں پاکستان کی جانب سے غیر جانبدارانہ ثالثی اور سعودی حدود کی مکمل پاسداری پر مبنی متوازن پالیسی ایک بے مثال سٹریٹیجک بصیرت کی آئینہ دار تھی نئی علاقائی صف بندیوں کی تیز تر ہوتی لہروں میں یہی مو¿قف پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک مضبوط اور باوقار بنیاد فراہم کر رہا ہے اسلام آباد نے ایک طرف ریاض کی سکیورٹی ضروریات اور دفاعی وقار کے ساتھ اپنی پختہ وابستگی کا اعادہ رکھا تو دوسری طرف خطے میں بڑھتی ہوئی خلیج کو پر کرنے کے لیے سفارتی راستے کھلے رکھے۔
اس متوازن خارجہ پالیسی کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ پاکستان خطے میں قائم ہونے والی نئی بلاک بندیوں میں تنہا یا کسی ایک طرف محدود ہونے سے بچ گیا سعودی عرب اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی برف پگھلنے کے بعد پاکستان کا وہ تاریخی غیر جانبدارانہ مو¿قف اب ایک حقیقت پسندانہ اور دور اندیشانہ فیصلے کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے اس طرز عمل نے پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ میں محض ایک عسکری اتحادی کے بجائے ایک معتبر اور سنجیدہ امن کے سفیر کے طور پر تسلیم کرایا ہے۔ آج کی تبدیل ہوتی جغرافیائی سیاست میں پاکستان اپنی اسی پالیسی کی بدولت سعودی عرب کے ساتھ نہ صرف اپنے روایتی دفاعی تعلقات کو برقرار رکھے ہوئے ہے بلکہ معاشی اور سٹریٹیجک شراکت داری کے نئے افق بھی تلاش کر رہا ہے یہ متوازن سوچ اسلام آباد کو یہ صلاحیت دیتی ہے کہ وہ خطے میں ابھرتے ہوئے نئے طاقت کے مراکز کے ساتھ آزادانہ بنیادوں پر اپنے قومی مفادات کا تحفظ کر سکے اور عالمی و علاقائی سطح پر ایک پرامن ملک کا تاثر قائم رکھے۔
مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی خطے کی تبدیل ہوتی جغرافیائی سیاست میں ترکیہ ایک انتہائی متحرک اور ناگزیر قوت بن کر ابھرا ہے دفاعی سائنس بالخصوص جدید ڈرون ٹیکنالوجی میں انقرہ کی بے مثال پیش رفت اور بحری سیکیورٹی کے شعبے میں اس کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں نے خطے کا سٹریٹیجک توازن یکسر بدل کر رکھ دیا ہے ترکیہ اب محض ایک روایتی طاقت نہیں رہا بلکہ وہ دفاعی خودمختاری فراہم کرنے والے ایک اہم شراکت دار اور سفارتی میدان میں ایک مو¿ثر ثالث کے طور پر اپنی شناخت قائم کر چکا ہے بحیرہ احمر اور خلیج کی اہم تجارتی شاہراہوں کی حفاظت ہو یا علاقائی تنازعات کا تصفیہ انقرہ کا متوازن اور جرات مندانہ طرزِ عمل بین الاقوامی برادری کی توجہ کا مرکز ہے۔ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ پر مشتمل ابھرتا ہوا یہ سٹریٹیجک اتحاد مسلم دنیا کے دفاعی اور معاشی وژن کو ایک نئی بیداری اور جلا بخش رہا ہے ان تینوں بااثر ممالک کا اشتراک نہ صرف اسلامی بلاک کی مجموعی سکیورٹی کو ناقابلِ تسخیر دفاعی ڈھال فراہم کرے گا بلکہ سی پیک اور بحیرہ احمر سے گزرنے والی اہم عالمی اقتصادی راہداریوں کی سلامتی کو بھی یقینی بنائے گا یہ سکیورٹی مثلث اس امر کی ضامن بنے گی کہ مسلم دنیا کی تجارتی شاہراہیں اور سمندری راستے غیر علاقائی طاقتوں کے مرہونِ منت نہ رہیں اور خطہ اپنی خودمختاری کی حفاظت خود کرنے کے قابل ہو جائے عالمی طاقتوں بالخصوص امریکہ اور چین کی اس خطے میں جاری کشمکش کے تناظر میں یہ سہ فریقی توازن کسی بھی ممکنہ یکطرفہ تسلط کو روکنے اور سفارتی توازن قائم رکھنے کے لیے ایک طاقتور محور ثابت ہوگا۔
اس تمام تر بین الاقوامی منظرنامے میں پاکستان کا کردار ایک مرکزی پل اور سفارتی ستون کا حامل ہے جس سے حالات کو بحال اور نارمل بنانے میں کلیدی پیش رفت ہو سکتی ہے پاکستان کو چاہیے کہ وہ اپنی روایتی دفاعی مہارت، تجربہ کار عسکری قوت اور بے مثال سفارتی بصیرت کو استعمال کرتے ہوئے ان تینوں طاقتوں کے مابین ایک مضبوط ربط قائم رکھے اسلام آباد کو بیجنگ اور واشنگٹن دونوں کے ساتھ اپنے متوازن تعلقات کو بروئے کار لاتے ہوئے اس سہ فریقی طاقت کو کسی عالمی بلاک بندی کی بھینٹ چڑھنے سے بچانا ہوگا اور اس اتحاد کو صرف اور صرف علاقائی امن، پائیدار ترقی اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے استعمال کرنا ہوگا۔ پاکستان کی مدبرانہ قیادت اور مصالحتی حکمتِ عملی اس ابھرتے ہوئے اتحاد کو ایسی سمت دے سکتی ہے جو نہ صرف مشرقِ وسطی میں امن کی ضمانت بنے گی بلکہ باب المندب سے لے کر بحرِ ہند تک تجارتی روانی کو بحال رکھ کر پورے خطے کو ایک پرامن اور خوشحال دور کی طرف گامزن کر دے گی۔