پاکستان کرکٹ ٹیم کو بنگلہ دیش کے ہاتھوں دو ٹیسٹ میچز کی سیریز میں 0-2 سے بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا جو نہ صرف شائقینِ کرکٹ بلکہ پوری قوم کیلئے انتہائی مایوس کن اور لمحہ فکریہ ہے۔ ایک وقت تھا جب ٹیم پاکستان دنیا کی خطرناک ترین ٹیموں میں شمار ہوتی تھی، خصوصاً فاسٹ باو¿لنگ کے میدان میں پاکستان کا کوئی ثانی نہ تھا، مگر آج صورتحال یہ ہے کہ ایک نسبتاً کمزور سمجھی جانے والی ٹیم نے پاکستان کو ہر شعبے میں آو¿ٹ کلاس کردیا۔
اس سیریز میں پاکستان کی بیٹنگ اور باو¿لنگ دونوں بری طرح ناکام رہیں، تاہم سب سے زیادہ مایوس کن کارکردگی باو¿لرز کی رہی۔ شاہین شاہ آفریدی، حسن علی، محمد عباس اور خرم شہزاد اپنی صلاحیتوں کے مطابق کارکردگی نہ دکھا سکے جبکہ سپنرز ساجد خان اور نعمان علی بھی بہتر پرفارم نہیں کرسکے۔ بنگلہ دیشی بیٹرز نے پاکستانی باو¿لرز کو نہایت اعتماد اور دباو¿ کے بغیر کھیلا۔
بیٹنگ میں اگرچہ اویس اذان، عبداللہ فضل، بابر اعظم اور محمد رضوان نے کسی حد تک مزاحمت کی، لیکن مجموعی طور پر بیٹنگ لائن بھی غیر مستحکم دکھائی دی۔ کپتان شان مسعود اور سلیمان علی آغا ابتدائی تین اننگز میں بری طرح ناکام رہے، البتہ آخری اننگز میں دیگر کھلاڑیوں کے ساتھ کچھ بہتر کھیل پیش کیا جبکہ اس سیریز میں سعود شکیل بری طرح ناکام ہوئے۔
اس پوری سیریز میں دونوں ٹیموں کے درمیان سب سے بڑا فرق باو¿لنگ اٹیک کا تھا۔ بنگلہ دیش کے پاس 145 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کرنے والے فاسٹ باو¿لرز موجود تھے جبکہ ان کا سپن اٹیک بھی نہایت مو¿ثر ثابت ہوا۔ دوسری جانب پاکستان نے ایک بار پھر انہی پرانے اور گھسے پٹے باو¿لرز پر انحصار کیا جو نہ رفتار رکھتے ہیں اور نہ ہی مستقل مزاجی۔ سوال یہ ہے کہ آخر 130 کی رفتار والے باو¿لرز کو کب تک ٹیم پر مسلط رکھا جائے گا؟ ٹیسٹ کرکٹ میں کم سپیڈ والے باو¿لرز کو کوئی گھاس نہیں ڈالتا ایک فاسٹ پیراڈائز وکٹ پر ہمارے پیسرز کی سپیڈ پہلے سپیل کے بعد مزید کم ہورہی تھی۔ ان کی فٹنس اور کارکردگی پر سلیکٹرز کو نظر رکھنی چاہئے۔
شاہین آفریدی اور حسن علی جیسے سینئر باو¿لرز نے ڈومیسٹک کرکٹ میں ایسی کون سی غیر معمولی کارکردگی دکھائی جس کی بنیاد پر انہیں مسلسل ٹیم میں شامل کیا جارہا ہے؟ اگر سلیکشن میرٹ اور حالیہ کارکردگی کی بنیاد پر ہو تو نوجوان اور باصلاحیت فاسٹ باو¿لرز عاکف جاوید اور علی رضا کو ضرور موقع ملنا چاہئے تھا، جو رفتار اور جارحانہ باو¿لنگ کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسی طرح ڈومیسٹک کرکٹ کے ہرفارمرز نوجوان وکٹ کیپر سعد بیگ، بیٹر شاہزیب خان اور باو¿لر علی عثمان اور ثاقب خان کو بھی گروم کریں یہ سب بہترین کرکٹرز ہیں۔
اسی طرح سپن باو¿لنگ کے شعبے میں ابرار احمد اور سفیان مقیم جیسے باصلاحیت اسپنرز کو نظر انداز کرنا بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ دنیا کی کامیاب ترین ٹیمیں میرٹ اور پرفارمنس کی بنیاد پر کھلاڑی منتخب کرتی ہیں مگر پاکستان میں آج بھی سفارشی اور پرچی سسٹم ختم نہیں ہوسکا۔ یہی وجہ ہے کہ ڈومیسٹک سطح پر عمدہ کارکردگی دکھانے والے کئی باصلاحیت کھلاڑی مواقع سے محروم رہ جاتے ہیں۔ عثمان صلاح الدین ڈومیسٹک میں پرفارم کرتے کرتے بوڑھا ہوگیا لیکن افسوس کہ اسے سلیکشن کے قابل نہیں سمجھا گیا۔ عبد الرزاق کے بعد کوئی آل راونڈر ابھی تک نہیں بن سکا وجہ سسٹم جو فہیم اشرف اور شاداب خان کے گرد ہی گھومتا ہے۔ آل راونڈر مبصر خان اور مہران ممتاز جیسے بہت سے کرکٹرز کو پرفارمنس کے باوجود مسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے۔
عبداللہ فضل اور اویس اذان نے اگرچہ ایک ٹیسٹ میں اچھی اننگز کھیل گئے، لیکن تکنیکی اعتبار سے ان کی بیٹنگ میں واضح خامیاں موجود ہیں جنہیں دور کرنا ضروری ہے۔ دوسری جانب کامران غلام اور عبداللہ شفیق جیسے باصلاحیت بیٹرز کو مسلسل نظر انداز کرنا بھی سمجھ سے بالاتر ہے۔ ان دونوں کی پرفارمنس ٹیسٹ اور ون ڈے میں بہترین رہی۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ اس وقت شدید بحران کا شکار ہے۔ جب تک ٹیم میں سلیکشن میرٹ، فٹنس، فارم اور کارکردگی کی بنیاد پر نہیں ہوگی، تب تک ٹیم کی تنزلی کا سفر جاری رہے گا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کو فوری اور سخت فیصلے کرنا ہوں گے، ورنہ وہ دن دور نہیں جب پاکستانی ٹیم عالمی کرکٹ میں اپنی باقی ماندہ ساکھ بھی کھو بیٹھے گی۔ اب عوام اس کھیل میں دلچسپی نہیں لے رہے کیونکہ ٹیم کی مسلسل بری پرفارمنس سے ٹیم کی نہ صرف ریٹنگ نیچے جارہی ہے بلکہ آسٹریلیا، ساو¿تھ افریقہ، انگلینڈ اور نیوزی لینڈ جیسی بڑی ٹیمیں پاکستان کے ساتھ سیریز میں اپنے بڑے کھلاڑیوں کو ریسٹ دیکر نئے پلیئرز کو آزماتے ہیں لیکن ابھی تک ہم اپنے سلیکشن کے طریقے کار کو ہی ٹھیک نہیں کرسکے۔ ہم چھوٹی ٹیموں کے خلاف ابھی تک سٹرینتھ کھلاتے ہیں لگتا ہے کہ کرکٹ کا حال بھی ہاکی والا ہونیوالا ہے کیونکہ بدترین شکست کے بعد نہ تو کسی کا استعفی آتا اور نہ ہی کوئی ذمہ داری قبول کرتا ہے۔ باربار چلے کارتوس استعمال نہ کریں۔ خدارا میرٹ پر ٹیم کی سلیکشن کریں اور ایک وننگ کمبی نیشن تشکیل دیں باربار ناکام کھلاڑیوں کو چانس نہ دیں۔ اگر سلیکٹرز سے ٹیم سلیکٹ نہیں ہوتی تو عوام سے پوچھ لیں کہ کس کو کھلانا ہے وہ زیادہ بہتر مشورہ دے سکتے ہیں۔ جو کرکٹرز پچھلے 5سالوں سے کوئی میگا ایونٹ نہیں جتواسکے انہیں خداحافظ کہہ کر نئی ٹیم بنائیں، دوسال ہاریں گے پھر ایک تگڑی ٹیم بن جائے گی اور باصلاحیت کرکٹرز کو مواقعے فراہم کریں۔ خاص طور پر ڈومیسٹک کے پرفارمرز پر خاص نظر رکھیں انکی تکنیکی خامیاں دور کرنے کےلئے سابقہ کرکٹرز کا ایک تھنک ٹینک بنائیں جو نوجوان کرکٹرز کی غلطیاں دور کرکے انہیں انٹرنیشنل کرکٹ کے قابل بنائیں۔