Wed, September 16, 2026

اک ممتا کا قتل

اک ممتا کا قتل

کچھ دن پہلے لاہور کی فضاو¿ں میں ایک ایسا نوحہ گونجا جس نے ملک بھر میں ہر حساس دل کو لرزا کر رکھ دیا۔ تین معصوم بچوں کی بے جان لاشیں صرف ایک گھر کا المیہ نہیں تھیں بلکہ یہ پورے معاشرے کے ضمیر پر ایک ایسا سوالیہ نشان تھیں جس کا جواب ڈھونڈتے ہوئے روح کانپ اٹھتی ہے۔ ماں، تو وہ ہستی ہے کہ جس کے قدموں تلے جنت رکھی گئی، جس کی گود کو دنیا کی سب سے محفوظ پناہ گاہ اور بچوں کی اولین تربیت گاہ کہا گیا، جب وہی ماں سنگدل بن جائے اور اپنی ہی پیدا کردہ اولاد کی قاتل بن جائے تو انسان سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ آخر ہم کس سمت جا رہے ہیں؟ کیا یہ قرب قیامت کی نشانی ہے؟ لاہور میں پیش آنے والا یہ لرزہ خیز واقعہ، جہاں ایک ماں نے اپنے محض اپنے آشنا کی خوشنودی کے لیے اپنے تین کمسن بچوں کو بے رحم موت کے حوالے کر دیا، صرف ایک جرم نہیں بلکہ اخلاقی تباہی کی بھی انتہا ہے۔ ان معصوم بچوں کی سانسیں تو شاید چند لمحوں میں ہی خاموش ہو گئی ہوں گی، مگر ان کی بے بسی کی بازگشت مدتوں اس معاشرے کا پیچھا کرتی رہے گی۔ وہ ننھے ہاتھ، جو ماں کے گلے میں بانہیں ڈال کر پیار اور تحفظ ڈھونڈتے ہوں گے، اسی ماں کے ہاتھوں کس اذیت سے گزرے ہوں گے؟ یہ سانحہ اس حقیقت کا بھی منہ بولتا ثبوت ہے کہ ہمارا معاشرہ اندر سے کھوکھلا ہو چکا ہے۔ مادہ پرستی، بے حیائی، ناجائز تعلقات اور مغربی تہذیب کی اندھی تقلید نے انسان سے حیا، خوفِ خدا اور رشتوں کا تقدس تک چھین لیا ہے۔ آج محبت خلوص نہیں بلکہ خواہش بن چکی ہے اور خواہش جب نفس کی غلام ہو جائے تو پھر انسان درندگی کی آخری حدیں بھی پار کرنے سے نہیں کتراتا۔ ماں کا رشتہ دنیا کا سب سے مقدس، قیمتی اور بے لوث رشتہ سمجھا جاتا ہے۔ ماں تو سراپا رحمت ہوتی ہے۔ ماں تو اپنی اولاد کے لیے خود تکلیف سہہ لیتی ہے مگر اپنے بچوں پر آنچ نہیں آنے دیتی۔ وہ راتوں کو جاگتی ہے، اپنی نیندیں قربان کرتی ہے، اپنی خوشیاں اپنے بچوں پر نچھاور کر دیتی ہے۔ اگر بچہ بیمار ہو جائے تو ماں کی آنکھوں سے نیند اور دل سے سکون چھن جاتا ہے۔ لیکن جب یہی ماں اپنی خواہشات کی اسیر ہو کر اپنی اولاد کی جان لینے پر آمادہ ہو جائے تو یہ صرف ایک عورت کی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی اخلاقی موت ہے۔ اسلام نے ماں کو بے مثال عزت و مرتبہ عطا کیا ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا کیونکہ والدین سراپا رحمت ہوتے ہیں۔ جبکہ حضور اکرمﷺ نے فرمایا کہ جنت ماں کے قدموں تلے ہے۔ ایک شخص نے آپﷺ سے پوچھا کہ میرے حسنِ سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟ آپﷺ نے تین مرتبہ فرمایا: تمہاری ماں۔ یہ وہ مقام ہے جو اسلام نے ماں کو دیا، کیونکہ ماں صرف بچے کو جنم نہیں دیتی بلکہ اس کی شخصیت، اس کے اخلاق اور اس کی پوری نسل کی بنیاد رکھتی ہے۔ افسوس کہ آج کی دنیا میں بہت سی خواتین کو آزادی اور روشن خیالی کے نام پر اس راستے پر دھکیلا جا رہا ہے جہاں حیا کمزوری اور اپنے خاوند اور خاندان سے وفاداری پرانی سوچ بتائی جاتی ہے۔ ڈراموں، فلموں اور سوشل میڈیا نے ناجائز تعلقات کو ایک فیشن بنا کر پیش کرنا شروع کر رکھا ہے۔ نئی نسل کو یہ نہیں بتایا جا رہا کہ بے راہ روی وقتی خوشی تو دے سکتی ہے، مگر اس کا دنیاوی انجام، تباہی، ذلت اور بربادی اور آخری انجام جہنم کی دہکتی آگ ہے۔ اس سانحے نے ہر ماں کو بھی جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ اولاد صرف ایک ذمہ داری نہیں بلکہ والدین اور بالخصوص والدہ کو اللہ کی امانت بھی ہے۔ ماں اگر نیک ہو تو نسلیں سنور جاتی ہیں، اور اگر اس کا کردار بگڑ جائے تو خاندان تباہ ہو جاتے ہیں۔ ایک عورت جب ماں بنتی ہے تو اس کی گود صرف ایک بچے کی پرورش نہیں کرتی بلکہ ایک پورے معاشرے کی تعمیر کرتی ہے۔ اسی لیے اسلام نے بار بار عورت کو حیا، پاکدامنی اور اعلیٰ کردار کا درس دیا ہے۔ کیونکہ وہ اپنی اگلی نسل کے لیے رول ماڈل بھی ہے۔ یہ بھیانک واقعہ ہمیں یہ سوچنے پر بھی مجبور کرتا ہے کہ آخر ہماری تربیت میں کہاں کمی رہ گئی ہے؟ کیوں ہمارے گھروں سے دینی تعلیم، اخلاقی اقدار اور خوفِ خدا ختم ہوتا جا رہا ہے؟ کیوں والدین بچوں کو دنیاوی تعلیم تو دے رہے ہیں مگر کردار سازی بھولتے جا رہے ہیں؟ جب گھروں میں قرآن کی آوازیں خاموش ہو جائیں اور موبائل سکرینیں تربیت کا ذریعہ بن جائیں تو پھر ایسے سانحات جنم لیتے اور ایسی ہی سوچ پنپتی ہے۔ کسی بھی مہذب دنیا میں معاشرے کی اصلاح صرف سخت قوانین سے ممکن نہیں۔ اگرچہ ایسے سفاک جرائم پر کڑی سزا ناگزیر ہے، مگر اصل علاج دلوں اور سوچ کی اصلاح ہے۔ ایسے سانحات سے بچنے کے لیے ہمیں اپنے گھروں کو دوبارہ دین، محبت، احترام اور اخلاقیات کا گہوارہ بنانا ہو گا۔ ماں کو یہ احساس دلانا ہو گا کہ ان کی گود انسانیت کی پہلی درسگاہ ہے۔ اگر ماں اپنے کردار کی حفاظت کرے گی تو نسلیں محفوظ رہیں گی۔ دوسری طرف اس ایک واقعے کو بنیاد بنا کر یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ آج بھی لاکھوں مائیں اپنی اولاد کے لیے عظیم قربانیاں دے رہی ہیں۔ وہ غربت، بیماری اور مشکلات کے باوجود اپنے بچوں کی خوشیوں کے لیے جیتی ہیں۔ اسی لیے ایک عورت کے انفرادی جرم کو تمام ماں پر منطبق نہیں کیا جا سکتا۔ مگر یہ واقعہ ایک خطرے کی گھنٹی ضرور ہے کہ اگر ہم نے اپنی اخلاقی بنیادوں کو مضبوط نہ کیا تو آنے والی نسلیں مزید اندھیروں میں ڈوبتی جائیں گی اور نتیجہ تباہی ہو گا۔ آج وقت کا تقاضا ہے کہ تمام مرد و زن بحیثیت قوم اپنے گریبان میں جھانکیں اور دیکھیں کہ کہاں کمزوری رہ گئی ہے۔ ہمیں اپنے گھروں، اپنے تعلیمی اداروں، اپنے میڈیا اور اپنی سوچ کو بدلنا ہو گا۔ کیونکہ جب ماں جیسا مقدس رشتہ کمزور ہو جائے تو معاشرہ صرف جرائم کا گڑھ نہیں بنتا بلکہ اپنی روح اور بنیاد بھی کھو دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر ماں کو اپنی عظمت اور ذمہ داری کا شعور عطا فرمائے، ہمارے گھروں کو محبت اور ایمان کا مرکز بنائے، اور ہماری نسلوں کو بے راہ روی اور اخلاقی تباہی سے محفوظ رکھے۔ آمین۔

ٹیگز: