Wed, September 16, 2026

مصطفیٰ قتل کیس: ملزم ارمغان کے خلاف 11 مقدمات کا انکشاف، انٹیروگیشن رپورٹ میں مزید تفصیلات

مصطفیٰ قتل کیس: ملزم ارمغان کے خلاف 11 مقدمات کا انکشاف، انٹیروگیشن رپورٹ میں مزید تفصیلات

کراچی: مصطفیٰ عامر قتل کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس میں ملزم ارمغان کے خلاف 11 مقدمات کا انکشاف ہوا ہے۔ انٹیروگیشن رپورٹ کے مطابق، ارمغان خیابان مومن میں ایک بنگلے میں کال سینٹر چلاتا تھا اور وہاں 30 سے 40 افراد کام کرتے تھے۔ بنگلے میں غیر قانونی طور پر شیر کے تین بچے بھی رکھے گئے تھے۔

رپورٹ کے مطابق 2019 میں ارمغان کے خلاف کسٹمز حکام نے مقدمہ درج کیا تھا، مگر وہ ضمانت پر رہا ہو گیا تھا۔ ارمغان کے خلاف کراچی کے مختلف تھانوں میں مقدمات درج ہیں جن میں گذری، کلفٹن، درخشاں اور بوٹ بیسن شامل ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ارمغان کی ماہانہ آمدنی کروڑوں روپے تھی اور وہ منشیات کا استعمال بھی کرتا تھا۔

ارمغان کا بچپن کا دوست شیراز تھا، جس کے ساتھ اس نے نیو ایئر نائٹ پر پارٹی رکھی تھی۔ اس دوران زوما نامی خاتون نے بھی شرکت کی تھی، مگر تلخ کلامی کے بعد وہ وہاں سے چلی گئی۔ 5 جنوری کو مصطفیٰ اور ارمغان کے درمیان ذاتی وجوہات پر جھگڑا ہوا، اور 6 جنوری کو ارمغان نے شیراز اور زوما کو دوبارہ اپنے بنگلے پر بلایا۔ اس دوران ارمغان نے زوما کو لوہے کی راڈ سے تشدد کا نشانہ بنایا۔

6 جنوری کی رات ارمغان نے مصطفیٰ کو بھی بنگلے پر بلایا، جہاں جھگڑے کے دوران ارمغان نے مصطفیٰ کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس کے بعد ملزمان نے مصطفیٰ کو گاڑی کی ڈِگی میں ڈال کر حب لے جانے کا منصوبہ بنایا اور وہاں پیٹرول چھڑک کر گاڑی کو آگ لگا دی۔ بعد میں مصطفیٰ کی والدہ نے ارمغان سے رابطہ کیا، جس پر اس نے جھوٹ بولا کہ مصطفیٰ اپنے دوست کے ساتھ گیا ہے۔ جب مصطفیٰ کی والدہ نے شک کیا، ارمغان اور شیراز اسلام آباد فرار ہو گئے۔

انٹیروگیشن رپورٹ کے مطابق، ارمغان پولیس کے چھاپے سے تین دن قبل کراچی واپس پہنچا۔ پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج سے اس کی نشاندہی کی اور پھر ارمغان کو حراست میں لے لیا۔ پولیس تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے اور دیگر ملزمان کی تلاش میں چھاپے مار رہی ہے۔

ٹیگز: