لاہور : چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں پی ایس ایل کے مداحوں کو بڑے جھٹکے دے دیے۔ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے اور معاشی بحران کے پیشِ نظر پی ایس ایل کے سیزن کو محدود کرنے اور سخت فیصلے لینے کا اعلان کیا گیا ہے۔
چیئرمین پی سی بی نے واضح کیا کہ موجودہ حالات میں پی ایس ایل کا روایتی جوش و خروش برقرار رکھنا ممکن نہیں۔ پی ایس ایل کے تمام میچز بغیر کراؤڈ کے ہوں گے۔ شائقین کو اسٹیڈیم آنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ جب تک بحران ہے، ہم بڑے اجتماعات کا خطرہ نہیں مول لے سکتے۔پی ایس ایل کی بڑی افتتاحی تقریب کو منسوخ کر دیا گیا ہے، ایونٹ سادگی سے شروع ہوگا۔
جن تماشائیوں نے ٹکٹ خریدے ہیں، ان کی رقم 72 گھنٹوں کے اندر واپس کر دی جائے گی۔لاجسٹک مسائل اور اخراجات میں کمی کے لیے میچز کے مقامات بھی بدل دیے گئے ہیں۔ اب تمام میچز صرف لاہور اور کراچی کے اسٹیڈیمز تک محدود رہیں گے۔
محسن نقوی نے پشاور کے شائقین سے معذرت کرتے ہوئے وعدہ کیا کہ اگلے برس وہاں زیادہ میچز دیے جائیں گے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اگر حکومت سبسڈی نہ دیتی تو ڈیزل 512 روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتا، جس سے ایونٹ کے اخراجات ناقابلِ برداشت ہو جاتے۔
تماشائیوں کے نہ ہونے سے فرنچائزز کو ہونے والے نقصان کا ازالہ پی سی بی خود کرے گا اور گیٹ منی کی رقم انہیں فراہم کی جائے گی۔
کھلاڑیوں کی آمد کا سلسلہ آج رات سے شروع ہو جائے گا۔ چیئرمین نے بتایا کہ 2 سے 3 غیر ملکی کھلاڑیوں کے دستبردار ہونے کا علم ہے، تاہم سکیورٹی کا کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہے۔
چیئرمین پی سی بی کا موقف ہے کہ عالمی حالات اور تیل کے بحران کی وجہ سے پی ایس ایل کو جاری رکھنا ہی سب سے بڑا چیلنج ہے، اسی لیے کٹھن فیصلے کرنے پڑے۔