Wed, September 16, 2026

پاکستان سمیت دنیا بھر میں ارتھ آور، روشنیوں کی بندش کے ذریعے آگاہی مہم

پاکستان سمیت دنیا بھر میں ارتھ آور، روشنیوں کی بندش کے ذریعے آگاہی مہم

اسلام آباد: دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی ارتھ آور بھرپور جوش و خروش سے منایا گیا، جس کے دوران مختلف شہروں میں ایک گھنٹے کے لیے غیر ضروری روشنیوں کو بند کر دیا گیا۔ اس اقدام کا مقصد ماحولیاتی تحفظ، توانائی کی بچت اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کرنے کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا تھا۔


پاکستان کے مختلف شہروں میں ارتھ آور کی تقریبات منعقد کی گئیں، جن میں عوام، سرکاری ادارے اور نجی تنظیمیں شریک ہوئیں۔ اسلام آباد، لاہور، کراچی، کوئٹہ، پشاور اور دیگر بڑے شہروں میں مشہور عمارتوں اور تاریخی مقامات کی روشنیاں علامتی طور پر بند کر دی گئیں۔

پارلیمنٹ ہاؤس، مزارِ قائد، مینارِ پاکستان، فیصل مسجد، لاہور فورٹ، وزیرِاعلیٰ ہاؤس کراچی، کے پی اسمبلی اور دیگر اہم مقامات ایک گھنٹے کے لیے اندھیرے میں ڈوب گئے۔ مختلف مقامات پر عوام نے بھی اس مہم میں حصہ لیتے ہوئے اپنے گھروں اور دفاتر میں غیر ضروری بجلی بند رکھی۔


ارتھ آور دنیا بھر میں ہر سال مارچ کے آخری ہفتے میں منایا جاتا ہے، جس کا مقصد عوام میں ماحولیاتی تحفظ، کاربن کے اخراج میں کمی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے مضر اثرات سے نمٹنے کے لیے شعور بیدار کرنا ہے۔ یہ مہم 2007 میں ورلڈ وائیڈ فنڈ فار نیچر (WWF) نے شروع کی تھی، جو اب ایک عالمی تحریک کی شکل اختیار کر چکی ہے۔

پاکستان میں ورلڈ وائیڈ فنڈ فار نیچر (WWF) پاکستان، حکومتی اداروں، سول سوسائٹی اور مختلف کارپوریٹ اداروں نے اس مہم میں شرکت کی۔ ماحول دوست سرگرمیوں کے فروغ کے لیے مختلف مقامات پر سیمینارز، آگاہی واکس اور میڈیا کیمپین بھی چلائی گئی۔


ارتھ آور کی مناسبت سے مختلف حکومتی شخصیات اور ماحولیاتی ماہرین نے پیغامات جاری کیے۔ وفاقی وزیر برائے ماحولیات نے اپنے بیان میں کہا کہ "پاکستان کو ماحولیاتی چیلنجز کا سامنا ہے، اور ہمیں توانائی کے بچاؤ اور گرین انرجی کے فروغ کے لیے مشترکہ اقدامات کرنا ہوں گے۔"

WWF پاکستان کے نمائندوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے ہمیں بجلی اور دیگر وسائل کے دانشمندانہ استعمال کو یقینی بنانا ہوگا۔


ارتھ آور صرف ایک گھنٹے کے لیے بجلی بند کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ ماحول دوست طرزِ زندگی اپنانے کی ترغیب دیتا ہے۔ اس موقع پر ماحولیاتی ماہرین کا کہنا تھا کہ اگر ہم توانائی کے مؤثر استعمال کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنا لیں، تو نہ صرف بجلی کے بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے بلکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو بھی کم کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان میں ارتھ آور منانے کے بعد ماحولیاتی تنظیموں اور عوام نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ توانائی کے متبادل ذرائع کو فروغ دیا جائے، درختوں کی کٹائی روکی جائے اور گرین انرجی منصوبوں میں مزید سرمایہ کاری کی جائے۔

یہ عالمی مہم دنیا کو یہ پیغام دیتی ہے کہ اگر ہر فرد اور ہر قوم ماحول کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرے تو موسمیاتی بحران سے نمٹا جا سکتا ہے اور زمین کو بہتر مستقبل دیا جا سکتا ہے۔
 

ٹیگز: