ورلڈ چیمپیئنز شپ آف لیجنڈز کا میچ پاکستان بھارت کشیدگی کی نذر ہو گیا، برمنگھم میں دونوں ٹیموں کے درمیان شیڈول میچ منسوخ کر دیا گیا۔ برمنگھم میں جاری ٹورنامنٹ کے منتظمین کے اعلامیہ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کھیلے جانے والے میچ کو منسوخ کرنے پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ کے لیے جن شائقین نے میچ کے ٹکٹ خریدے تھے ان کو پیسوں کی واپسی کا یقین دلایا گیا ہے۔ ورلڈ چیمپیئنز آف لیجنڈز کے پہلے میچ میں محمد حفیظ کی کپتانی میں پاکستان نے انگلینڈ کو شکست دی تھی۔ یہ مطالبہ کیا گیا کہ شاہد آفریدی کو پلیئنگ الیون کا حصہ نہ بنایا جائے، بھارتی کرکٹر شیکھر دھون اور ہربجھن سنگھ نے میچ کھیلنے کی مخالفت کی۔ بھارتی میڈیا میں بھی واویلا کیا گیا کہ آخر یہ میچ کھیلنے کی ضرورت کیا ہے۔ پریشر بڑھنے کے بعد منتظمین نے میچ منسوخ کرنے کو ہی مناسب سمجھا۔ ٹورنامنٹ کے باقی میچ شیڈول کے مطابق جاری رہیں گے۔ اس سے قبل سوشل میڈیا پر پاکستان کے کرکٹ سٹار شاہد آفریدی اور بھارتی اداکار اجے دیوگن کی سٹیڈیم میں ملاقات کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں۔ وائرل تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اجے دیوگن شاہد آفریدی سے گرم جوشی سے ملاقات کر رہے ہیں اور خوش مزاجی سے گفتگو کر رہے ہیں۔ جس پر بھارتی انتہا پسندوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے اور اجے دیوگن پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ یہ تصویر ایسے وقت میں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جب لندن میں ورلڈ چیمپیئنز شپ آف لیجنڈز کا میچ پاکستان بھارت کشیدگی کی نذر ہو گیا اور برمنگھم میں دونوں ٹیموں کے درمیان شیڈول میچ منسوخ کر دیا گیا۔ تاہم ان تصاویر کی حقیقت کچھ اور ہے اور پہلگام واقعے کے پیش نظر اسے صرف بھارتی عوام کو بھڑکانے کیلئے پراپیگنڈے کے تحت وائرل کیا گیا ہے۔ دراصل یہ تصویر گزشتہ برس کی ہے جب اجے دیوگن کی شاہد آفریدی سے برمنگھم میں ورلڈ چیمپیئن شپ آف لیجنڈز 2024 کے دوران ملاقات ہوئی تھی۔ جہاں کچھ انتہا پسند بھارتی سوشل میڈیا پر تصویر کو 2025 کی بتا کر بھارتی عوام کو بھڑکانے کی کوشش کر رہے ہیں وہیں کچھ بھارتی شہری ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس تصویر کی حقیقت بھی بیان کر رہے ہیں۔ اس طرح بھارت کا کھیل کے ساتھ کھلواڑ پھر کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ بھارت نے ہر میدان میں ہر موقع پر پاکستان کے خلاف سازش کی ہے۔ یہی کچھ برطانیہ میں سامنے آیا ہے جب بھارتی کھلاڑیوں نے صرف شاہد آفریدی کی موجودگی پر اعتراض کرتے ہوئے کھیل کا بائیکاٹ کر کے کھیل کی روح کو نقصان پہنچایا۔ اس عمل سے شائقین کرکٹ کو شدید مایوسی ہوئی ہے اور انتظامیہ نے بھی افسوس کا اظہار کیا ہے۔ میدان میں موجود میچ آفیشل کو آخری لمحات میں بتایا گیا کہ میچ منسوخ کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب کرکٹ ماہرین کے مطابق بھارت کا یہ عمل کوئی نئی بات نہیں۔ کرکٹ حلقوں میں بھارتی اثر رسوخ کی وجہ سے بھارت نوازی ہر جگہ نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انتظامیہ نے بھی میچ کو منسوخ کرنا زیادہ بہتر سمجھا۔ بھارتی کھلاڑیوں کے اس عمل کی وجہ صاف نظر آ رہی ہے کہ بھارتی ہندو انتہا پسند کھیل میں رکاوٹ
ہیں۔ شاہد آفریدی نے حالیہ پاک بھارت جنگ اور آپریشن کے دوران بھارت کو آئینہ دکھاتے ہوئے پاک فوج کی حمایت کی تھی اور حب الوطنی کا ثبوت دیا تھا۔ اسی وجہ سے بھارتی انتہا پسند شاہد آفریدی کے مکمل بائیکات کا مطالبہ کرتے رہے اور پھر وہی کچھ ہوا جس کی امید تھی بھارتی کھلاڑیوں نے انتہا پسندوں کے دباؤ کی وجہ سے شاہد آفریدی کی ٹیم میں موجودگی کا اعتراض اٹھایا اور کھیلنے سے بھی انکار کر دیا۔ غور طلب بات یہ ہے کہ اسی میدان میں بھارتی کھلاڑی یوراج سنگھ کی شاہد آفریدی سے ملاقات کی ویڈیو بھی وائرل ہوئی ہے جس میں دونوں کھلاڑیوں کو بغل گیر ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔ قوی امکان ہے کہ اب سابق بھارتی کھلاڑی یوراج سنگھ بھی انتہا پسندوں کے نشانے پر آ جائیں گے اور سخت تنقید کا سامنا کریں گے۔ بہرحال یہ تھا بھارت کا ہمیشہ کی طرح کھیل سے کھلواڑ۔ اور اس میں کمی کا کوئی امکان نظر نہیں آ رہا۔