Wed, September 16, 2026

بھارت میں مسلم دشمنی عروج پر، مودی سرکار کے ہندوتوا وژن کے تحت اقلیتوں کا منظم استحصال جاری؛ مدھیہ پردیش کی تاریخی مسجد ہندو انتہا پسندوں کے حوالے، عالمی میڈیا پکار اٹھا

بھارت میں مسلم دشمنی عروج پر، مودی سرکار کے ہندوتوا وژن کے تحت اقلیتوں کا منظم استحصال جاری؛ مدھیہ پردیش کی تاریخی مسجد ہندو انتہا پسندوں کے حوالے، عالمی میڈیا پکار اٹھا

نئی دہلی : بھارت میں مودی سرکار کی ہندوتوا پالیسیوں اور کٹھ پتلی عدالتوں کے گٹھ جوڑ نے مسلمانوں کی تاریخ اور شناخت پر بڑا حملہ کر دیا ہے۔ معروف عالمی جریدے "الجزیرہ" کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق، بھارتی عدالت نے مسلم کش پالیسیوں کو آگے بڑھاتے ہوئے مدھیہ پردیش میں واقع تاریخی "کمال مولا مسجد" کو مندر قرار دے دیا ہے، جس کے بعد بھارت میں اقلیتوں کے حقوق اور سیکولرازم کا جنازہ نکل گیا ہے۔

عالمی مبصرین اور الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، مودی حکومت کے دور میں بھارتی عدالتیں انصاف کے بنیادی تقاضوں کو پسِ پشت ڈال کر آر ایس ایس (RSS) کے ہندوتوا ایجنڈے کی کٹھ پتلی بن چکی ہیں، جس کا واحد مقصد مسلمانوں کو سماجی اور مذہبی طور پر دیوار سے لگانا ہے۔

عالمی جریدے الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ  مودی سرکار کے تحت بھارت مسلمانوں کے منظم استحصال کی ریاست بن چکا ہے۔ بابری مسجد کے بعد اب مدھیہ پردیش کی تاریخی کمال مولا مسجد کو نشانہ بنانا مسلم شناخت کو مٹانے اور تاریخ کو مسخ کرنے کی ایک گہری مہم کا حصہ ہے۔ 
اس متعصبانہ عدالتی فیصلے پر عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں اور مسلم ممالک میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مودی سرکار سوچی سمجھی تزویراتی سازش کے تحت بھارت کو خالص ہندو ریاست میں تبدیل کر رہی ہے، جہاں مسلمانوں کی صدیوں پرانی عبادت گاہیں اور ثقافتی ورثہ اب محفوظ نہیں رہا۔

ٹیگز: