Wed, September 16, 2026

جموں و کشمیر کا الحاق: ایک تاریخی جائزہ

جموں و کشمیر کا الحاق: ایک تاریخی جائزہ

1947 میں برطانوی راج کے خاتمے کے ساتھ ہی برصغیر کے دو بڑے حصے، پاکستان اور بھارت، وجود میں آئے۔ تقسیم ہند کا اصول سادہ تھا: مسلم اکثریتی علاقے پاکستان میں شامل ہوں گے اور ہندو اکثریتی علاقے بھارت میں۔ اسی اصول کی روشنی میں 562 دیسی ریاستوں کو اختیار دیا گیا کہ وہ پاکستان یا بھارت کے ساتھ الحاق کریں یا آزاد رہیں، لیکن انہیں مشورہ دیا گیا کہ وہ عوام کی خواہش، جغرافیائی قربت، ثقافت اور اقتصادی مفادات کو مدنظر رکھیں۔ جموں و کشمیر برصغیر کی سب سے بڑی ریاست تھی، جس کا رقبہ 84 ہزار مربع میل سے زائد تھا۔ 1941 کی مردم شماری کے مطابق اس کی آبادی کا تقریباً 77 فیصد حصہ مسلمان تھا۔ خاص طور پر وادی کشمیر میں مسلمانوں کی تعداد 93 فیصد سے زیادہ تھی۔ جغرافیائی لحاظ سے کشمیر کی سرحدیں پاکستان، بھارت اور چین سے ملتی تھیں، جبکہ پاکستان کی زرعی معیشت کا انحصار انہی دریاؤں پر ہے جو کشمیر سے گزر کر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی ’’شہ رگ‘‘ قرار دیا۔ 19 جولائی 1947 کو آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس نے سردار محمد ابراہیم خان کی رہائش گاہ پر ایک اہم اجلاس میں ریاست کے پاکستان سے الحاق کی قرارداد منظور کی۔ اس اجلاس میں 59 نمائندے شریک تھے اور قرارداد کو ’’اللہ اکبر‘‘ اور ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کے نعروں کے ساتھ متفقہ طور پر منظور کیا گیا۔ اس قرارداد میں ریاست کے پاکستان سے مذہبی، ثقافتی، جغرافیائی اور معاشی روابط کو الحاق کی بنیاد بنایا گیا۔ یہ فیصلہ نہ صرف کشمیری عوام کی اکثریتی رائے کا عکاس تھا بلکہ تقسیم ہند کے اصولوں سے بھی مطابقت رکھتا تھا۔اس کے باوجود مہاراجہ ہری سنگھ، جو خود ہندو تھا، نے کشمیری عوام کی مرضی کے برعکس بھارت سے الحاق کا راستہ اپنایا۔ مہاراجہ کی حکومت نے ریاست کے مسلمانوں پر شدید مظالم کیے، ان کے خلاف ٹیکس اور جبر کی پالیسیاں نافذ کیں، جس کے نتیجے میں پونچھ بغاوت نے جنم لیا۔ مہاراجہ نے بغاوت کو دبانے کے لیے مسلمانوں کے خلاف منظم ہتھیار بندی کی، جبکہ ریاستی مشینری نے ہندو اور سکھ شدت پسندوں کو ہتھیار فراہم کیے۔ ستمبر اور اکتوبر 1947 کے دوران جموں کے کئی علاقوں میں مسلمانوں کا قتل عام ہوا۔ آزاد ذرائع کے مطابق بیس ہزار سے پانچ لاکھ کے درمیان مسلمان یا تو قتل کر دئیے گئے یا لاپتا ہوئے۔ یہ سب کچھ بھارت سے الحاق کے دعوے سے پہلے ہو چکا تھا۔ اس نسل کشی کی کوشش کا مقصد ریاست کی مسلم اکثریتی شناخت کو تبدیل کرنا تھا۔ مہاراجہ ہری سنگھ نے ابتدا میں پاکستان کے ساتھ سٹینڈ سٹل معاہدہ کیا تھا، جس کا مطلب یہ تھا کہ ریاست کی حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔ لیکن جب عوامی بغاوت زور پکڑ گئی، تو مہاراجہ نے بھارت سے فوجی مدد حاصل کرنے کے لیے مبینہ طور پر الحاق کا معاہدہ کیا۔ لیکن معروف برطانوی مؤرخ ایلسٹر لیمب کے مطابق اس معاہدے کے اصل وجود پر سوالات اٹھتے ہیں۔ ان کی تحقیق کے مطابق بھارتی فوجیں کشمیر میں اس وقت داخل ہو چکی تھیں جب الحاق کا کوئی ثبوت بھی موجود نہ تھا۔ اس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ الحاق ایک ’’جبری فیصلہ‘‘ تھا، نہ کہ عوام کی مرضی پر مبنی۔ بھارت کے وزیراعظم جواہر لعل نہرو نے متعدد مواقع پر رائے شماری کا وعدہ کیا۔ 2 نومبر 1947 کو انہوں نے ریڈیو پر اعلان کیا کہ کشمیر کا مستقبل کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق طے کیا جائے گا۔ نہرو نے پاکستان کے وزیراعظم کو بھی خطوط کے ذریعے یقین دہانی کرائی کہ جیسے ہی امن قائم ہو گا، اقوام متحدہ کی نگرانی میں رائے شماری کرائی جائے گی۔ اقوام متحدہ کی قرارداد 47 (21 اپریل 1948) میں بھی یہی مطالبہ کیا گیا۔ تاہم بھارت وقت گزرنے کے ساتھ اپنے وعدوں سے مکر گیا۔ وقت کے ساتھ بھارت نے کشمیر میں فوجی قبضہ مستحکم کیا، انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں ہوئیں، جن میں جبری گمشدگیاں، ماورائے عدالت قتل، جنسی تشدد اور اظہار رائے کی آزادی پر پابندیاں شامل تھیں۔ آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ (AFSPA)  کے تحت بھارتی فورسز کو کھلی چھوٹ دی گئی، جسے انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ عالمی ادارے بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ کشمیر ایک انسانی بحران سے دوچار ہے۔ 2019 میں بھارت نے آئینی ترمیم کے ذریعے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی اور وہاں غیر کشمیریوں کو آباد کرنے کے لیے لاکھوں جعلی ڈومیسائل جاری کیے۔ اس اقدام کا مقصد ریاست کی مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنا ہے۔ یہ اقوام متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قوانین اور بنیادی انسانی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔ پاکستان مسلسل کشمیری عوام کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔ پاکستان نے اس مسئلے کو اقوام متحدہ، او آئی سی اور یورپی یونین جیسے بین الاقوامی فورمز پر بارہا اٹھایا ہے۔ پاکستان کا یہ مؤقف رہا ہے کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی رائے کے مطابق حل ہونا چاہیے۔ کشمیر کے عوام نے ہمیشہ پاکستان سے اپنی وابستگی کو کھلے انداز میں پیش کیا ہے۔ سید علی گیلانی جیسے رہنما ’’ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے‘‘ کا نعرہ لے کر جدوجہد کرتے رہے۔ کشمیر کی نئی نسل بھی بھارت کی پالیسیوں سے نالاں ہے اور اپنے مستقبل کے فیصلے کا اختیار خود چاہتی ہے۔ آج کشمیر کا مسئلہ صرف ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ انسانی حقوق اور عالمی ضمیر کا امتحان بن چکا ہے۔ جب تک کشمیری عوام کو حق خود ارادیت نہیں دیا جاتا، جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں۔ عالمی برادری کو اس مسئلے پر عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کشمیریوں کو ان کا بنیادی حق مل سکے۔

ٹیگز: