سینٹ کا الیکشن گزر گیا لیکن اپنے ساتھ عمران نیازی کی وہ بربادی بھی لے گیا جس کا آغاز اُس نے خو د 2010 ء کے سیلاب کے بعد کیا تھا ۔ وہی بانی چیئرمین تحریک انصاف جو اب چیف ایگزیکٹو بن چکا ہے اُس نے تحریک انصاف کے ورکروں کو 2002 ء کے انتخابات کے بعد یقین دلایا تھا کہ وہ آئندہ کبھی فوجی جنتا یا اسٹیبلشمنٹ کی طاقت کے بل بوتے پر اقتدار میں نہیں آئے گا لیکن عمران نیازی سے وعدوں کے وفا ہونے کی امید ایسے ہی ہے جیسے انسان ہیجڑے سے شادی کر کے اُس سے اولاد کی توقع رکھے ۔ 2008 ء کے انتخابات کے وقت وہ قاضی حسین احمد امیر جماعت اسلامی کے ہاتھ پر بیعت تھا سو جماعت اسلامی کے ساتھ ہی الیکشن بائیکاٹ میں چلا گیا ۔ حالانکہ اُس وقت پی ٹی آئی کے کسی امید وار نے کاغذاتِ نامزدگی ہی جمع نہیں کرائے تھے ۔ عمران نیازی کو سمجھایا گیا کہ بائیکاٹ امیدواروں کے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے بعد ہی ہو گا لیکن اب انہیں کون سمجھا ئے لیکن جماعت اسلامی کے امیدواروں نے باقاعدہ کاغذات جمع کرائے اور واپس لے کر اپنے بائیکاٹ کا اعلان کیا ۔ بائیکاٹ ہمیشہ وہ جماعتیں کرتی ہیں جن کے پاس سٹریٹ پاور ہو یا پھر بڑا ووٹ بنک ۔لیکن الیکشن کا بائیکاٹ سیاسی کارکنوں کیلئے ایسے امتحان کی طرح ہوتا ہے جو اپنے مقرر وقت پر ہوا لیکن آپ اُس امتحان میں شامل ہی نہیں ہوئے سو آپ نتائج میں بھی کہیں نہیں ہوتے ۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کو میں پاکستان کی سیاسی بصیرت کی ’’ عقل داڑھ ‘‘ مانتا تھا اور مانتا ہوں لیکن 1985ء کے انتخابات کے بائیکاٹ کو انہوں نے عمر بھر اپنی سیاسی غلطی کے طور پر ہی جاناکہ انہوں نے میاں محمد نواز شریف کیلئے میدان کھلا چھوڑ دیا تھا اور پھر وہی میاں محمد نواز شریف پاکستان کی وزارت ِ عظمی کے ریکارڈ ہولڈر بن گئے ۔
2002ء میں پی ٹی آئی کے پاس تو ٹکٹس لینے والے نہیں تھے اور 2008ء میں بائیکاٹ تھا سو اُس کے بعد پہلا الیکشن جس میں تحریک انصاف ایک حقیقی جماعت بن کر سامنے آئی (یہاں یہ بحث نہیں کہ اُس کے پیچھے کون کون تھا)وہ 2013ء تھا اور یہیں سے ٹکٹوںکی خریدو فروخت کا سلسلہ شروع ہو ا جو پھر کبھی نہیں روکا ۔ بڑے بڑے معتبر نام ٹکٹ فروشی میں ملوث پائے گئے لیکن ایک بات تو میں ذمہ داری سے لکھ رہا ہوں کہ 2013 ء کے الیکشن سے لے کر آج تک ایک بھی ٹکٹ عمران نیازی کی مرضی کے بغیر نہیں دیا گیا ۔ ہر الیکشن میں عمران نیازی نے ورکروں کو ’’بدھو‘‘ بنایا اور کہتا رہا کہ میں خود ٹکٹیں دے رہا ہوں تو آپ لوگ کیسے تصور کرسکتے ہیں کہ کسی ایسے شخص کو ٹکٹ دیا جائے گا جو ورکروں کیلئے ناپسندیدہ ہو گا ؟ اور ورکربیچارے ہر بارذلیل و خوار ہو کر الجھتے رہے ۔ تحریک انصاف اب صرف کے پی کے تک محدود ہو چکی تھی لیکن نا لائق اور موقع پرستوں نے انہیں صوبائی سیاسی جماعت بھی نہیں رہنے دیا ۔ ناراض ورکروں کا پارٹی کے سامنے کھڑا ہونا حقیقت میں اپنے حق کا مًطالبہ ہوتا ہے لیکن پاکستان میں جاری حقوق و فرائض کی جنگ میں ابھی تک سب سے زیادہ قتل ِ عام سیاسی ورکروںکا ہی ہوا ہے ۔جب سیاسی جماعت کا ورکراپنی ہی جماعت کے مخالف کھڑا ہو جائے تو یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب قیادت کے زوال کا وقت شروع ہو جاتا ہے۔
سیاسی ورکر سماج کا سب سے قابل ِعزت فرد ہوتا ہے کیونکہ وہ اُن حقوق کیلئے لڑ رہے ہوتے ہیں جو انہیں نہیں دیئے جا رہے ہوتے ۔ اُس عزت کا مطالبہ کررہے ہوتے ہیں جو سماج سے انہیں نہیں ملتی اور اگر سیاسی جماعت میں مکمل وفاداری اور جانثاری کے بعد اُس کی اپنی سیاسی جماعت بھی اُسے اُس عزت سے محروم رکھے جس کیلئے وہ سیاسی جماعت کو جوائن کرتا ہے تو پھر وہ وہاں ہر گز نہیں رہتا اوروہی سیاسی ورکر جو کل تک آپ کیلئے جان ٗ مال اور وقت سب کچھ لُٹا رہا ہوتا ہے جب آپ کے مخالف کھڑا ہوتا ہے تو پھر وہ چوک ٗ تھڑے ٗ سیاسی دفاتر ویران ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور آپ سماج میں اپنی حمایت کھو دیتے ہیں۔ تحریک انصاف جو کبھی بلاشبہ ہزاروں لاکھوں ورکروں کی جماعت تھی اب نالائق قیادت کی وجہ سے سکڑ چکی ہے اور رہی سہی کسر سینٹ کے الیکشن نے پوری کردی ہے جس کے اثرات عنقریب سارے کے پی کے میں دیکھے جائیں گے ۔ عمران نیازی کی چھائی نحوست آہستہ آہستہ ختم ہو تی جا رہی ہے ۔ پاکستان پھر پرواز کیلئے تیار ہے ۔کہیں ہمارے بچے بہترین ڈیجیٹل کانٹینٹ رائٹر بن کر سامنے آ رہے ہیں اور کہیں سنوکر کے عالمی چیمپئین بن رہے ہیں ۔ کہیں ہاکی کا زوال عروج کی طرف گامزن ہے تو کہیں بھارتی طیاروں کے گرنے کی اطلاع امریکی صدر دے رہا ہے ۔ پاکستان کی معیشت بہتری کی طرف گامزن ہے ۔ عمران نیازی 5 اگست کو پھر کوئی سانپ نکالنے والا ہے حالانکہ وہ بھی ایک 5 اگست ہی تھی جب بھارت نے کشمیر کو ریاست ہندوستان میں ضم کرلیا تھا اور پاکستانی وزیر اعظم کو سانپ سونگھ گیا تھا ٗ اُس کے ٹینکوں میں تیل تک نہیں تھا۔تحریک انصاف کی موجودہ سیاست دیکھ کر مغلیہ سلطنت کے زوال کے دن یاد آ جاتے ہیں ۔ اب کسی کو اُن کے خلاف کچھ بھی کرنے کی ضرورت نہیں ٗ یہ ایک دوسرے سے ہی دست و گریباں نظر آئیں گے ۔ جب آپ کا کوئی نظریہ نہیں ہوتا تو پھر لوگ دیر تک آپ سے دھوکا نہیں کھاتے ۔
وفاقی وزیرِ مواصلات برادرم عبد العلیم خان نے اپنی وزارت سے اب تک حکومت ِ پاکستان کو 50 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا ہے جس کو وہ اگلے کچھ سال میں 500 ارب تک لے جانے کا اعلان کر رہے ہیں ۔ ہمیں زندگی میں بہت کم لوگ ایسے ملتے ہیں جو اپنے پورے قد سے اپنے ساتھیوں کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں ۔ عبد العلیم خان نے ثابت کیا ہے کہ اس ملک میں اللہ کا دیا سب کچھ ہے اگر ہم اپنی نیتیں درست کر لیں تو پاکستان سے زیادہ زرخیر ملک ہی کوئی نہیں اور یقینا یہ بات درست ہے کہ ہر آنے والے نے جانے والے پر ذمہ داری ڈالی اور خود بری الزمہ ہو گیا لیکن عبد العلیم خان کی یہ خوبی ہے کہ وہ صرف اپنے کیے کا جوابد ہ ہوتا ہے اور کسی پر بے جا تنقید نہیں کرتا۔ یہ عبد العلیم خان کا ہی حوصلہ ہے کہ اُس نے آج تک بانی تحریک انصاف کے بارے میں کوئی بات نہیں کی اورخاموشی سے خدمت کے نئے سفر پر چل دیا اور یہی بہترین راستہ ہے اگر آپ کی نیتیں ٹھیک ہیں تو! ۔