کراچی کی گزشتہ سترہ سال سے اوپن ہارٹ سرجری چل رہی ہے، گڑھے ، کھدی سڑ کیں، سندھ میں سترہ سالہ دور اقتدار کو منہ چڑاتی ہیں پرانی بوسیدہ عمارتیں جنکی کوئی پلاننگ ہے اور نہ ہی بلڈنگ کنٹرول والو ں کی یہ توفیق کے پہلے تعمیر عماررتوںمیں کوئی احتیاطی طریقہ کااستعمال ہوا ہے ، کئی عمارت کو کوئی حصہ گرنے یا پوری عمارت گرنے سے کوئی قیمتی جان بچ سکے گی ایسا بد قسمتی سے کچھ نہیں۔ سالہا سال سے عمارتیں زمین بوس ہورہی ہیں ، لوگ اپنے پیاروںکی جانوں سے ہاتھ دھورہے ہیں۔ لوگوںکی جانیںضائع ہوتی ہیں کاروبار جل جاتے ہیں اسکے بعد سندھ بلڈنگ اتھارٹی میدان میں کودتی ہے، وزیراعلیٰ رپورٹ طلب کرتے ہیں ، کوتاہیوں پر آنسو بہائے جاتے ہیں دس دن کا شور پھر کسی اور عمارت میں آتش زنی کا واقع، عمارت گرنے کا سانحہ رونما ہوتا ہے متعلقہ ادارے حکومتی خرچ پر عیاشی کرتے ہوئے رپورٹیں بناتے ہیں ، مگر اسکا ہوتا کیا ہے ، صرف صاحب اقتدار لوگوںکی جانب سے افسوس کا اظہار ، کبھی نہ کوئی ذمہ دار کو سزا ، نہ ہی کوتاہی کرنے والے سے سوال جواب حکومتی سطح پر اظہارِ افسوس، نوٹس اور امدادی اقدامات اپنی جگہ، مگر اصل سوال یہ ہے کہ ایسے سانحات بار بار کیوں جنم لیتے ہیں؟گل پلازہ کا حالیہ واقع جس کے متعلق کہا جارہا ہے کہ تاحال 61 جانوںکے ضائع ہونے کی رپورٹ ہے اور نہ جانے کتنے اس ملبے میں تاحال زندہ دفن ہیں شائد اللہ تعالیٰ کسی کو زندگی دے دے ۔ گل پلازہ کا واقعہ کسی ایک عمارت یا صرف کراچی تک محدود نہیں۔ لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی، کوئٹہ اور ملتان جیسے بڑے شہروں میں بھی اس نوعیت کے واقعات بارہا پیش آ چکے ہیں۔ کہیں مارکیٹیں آگ کی لپیٹ میں آتی ہیں، کہیں فیکٹریاں جلتی ہیں اور کہیں رہائشی عمارتیں حادثات کا شکار ہو جاتی ہیں۔ ہر بار چند دن شور مچتا ہے، تحقیقات کے اعلانات ہوتے ہیں اور پھر معاملہ وقت کی گرد میں دب جاتا ہے۔ بنیادی مسئلہ وہی رہتا ہے: ناقص منصوبہ بندی، ایس او پیز کی کھلی خلاف ورزی، فائر سیفٹی انتظامات کی عدم موجودگی اور متعلقہ اداروں کی کمزور نگرانی۔عمارتوں کی تعمیر کے دوران حفاظتی اصولوں کو نظر انداز کرنا، فائر ایگزٹس کا فقدان، پانی اور فائر فائٹنگ نظام کی عدم دستیابی اور ذمہ دار اداروں کی غیر سنجیدگی ایسے عوامل ہیں جو کسی بھی لمحے بڑے سانحے کا سبب بن سکتے ہیں۔ گنجان آباد شہری علاقوں میں یہ خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے، جہاں آگ پر بروقت قابو پانا مشکل اور جانی نقصان کا خدشہ کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ یہ محض حادثات نہیں بلکہ ایک انتظامی ناکامی کی واضح علامت ہیں۔وزیر اعلی سندھ نے ایک مرتبہ کہہ دیا کہ اگر انکوائری میں تخریب کاری کے شواہد ملے تو اس پر ایکشن ہوگا، انکوائری میں اصل توجہ اپنی غلطیوں کو ٹھیک کرنے پر ہو گی، اگر ضرورت پڑی تو انکوائری کے لیے جوڈیشل کمیشن بھی بنائیں گے۔مسئلہ یہ ہے کہ تخریب کاری ہوتی کیا ہے میرے نزدیک معاملات کو حل نہ کرنا اپنی ذمہ داری پر توجہ نہ دینا جس بنا پر قیمتی جانیں ضائع ہوتی ہیں ، کروڑوں کی املاک ایک علیحدہ مسئلہ ہے نہ جانے عمارتوںکے مکیں کتنے سال کی محنت سے سرمایہ جمع کرکے کاروبار شروع کرتے ہیں ، فلیٹس خریدتے ہیں اور چشم ذن میں یا تو جان گنوا بیٹھتے ہیں یا خالی ہاتھ ہوکر سڑک پر آ بیٹھتے ہیں جسکا کسی حکومت کو ادراک نہیں کہ انکی زندگی بھر کی پونجی ان نااہل اور رشوت خور اداروں کی وجہ سے صفر ہوگئی ہے اسکا کون ذمہ دار ہے؟ وزیراعلیٰ کا فرمان آگیا کہ گل پلازا میں دکانداروں کے نقصانات پورے کرنے کے لیے اقدامات کریں گے( شائد پہلے کبھی ایسا ہوا ہو جو اب ہو جائے گا ) انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ انہوں نے کہا کہ جب ایسے واقعات ہوتے ہیں تو ہر کوئی اپنی ماہرانہ رائے دینا شروع کر دیتا ہے، ایسے واقعات کی صورت میں جس کا جو کام ہے اسے کرنے دیں، اس کے لیے رسائی مشکل نہ بنائیں۔ وزیراعلیٰ صاحب مسئلہ جنم تب ہی لیتا ہے جب جسکی ذمہ داری ہے وہ پوری نہیں کرتا۔ انہوں نے متعلقہ اداروںکی بے ایمانیاںچھپانے کیلئے نقصان سہنے والوںکودبی زبان سے یہ بھی کہہ دیا دکانداروں کی بھی ذمے داری ہوتی ہے، لیکن اس وقت یہ باتیں ٹھیک نہیں۔ ہم سب کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے، میں لوگوں کے سامنے جوابدہ ہوں۔یہ سراسر معاملات سے عدم دلچسپی کا اظہار ہے۔ مرادعلیٰ شاہ نے سانحہ گل پلازا میں جاں بحق افراد کے لواحقین کو ایک کروڑ روپے دینے کا اعلان کر د یا۔ وزیراعلیٰ نے قارون کے خزانے کا منہ کھول دیا ہے انہوںنے کہا ہے کہ متاثرین کو ایک کروڑ روپیہ حکومت ادا کرے گی، ( شائد اس سے مرنے والے زندہ ہوجائینگے ) وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ 2024 میں 145 عمارتوں کا فائر آڈٹ ہوا تھا۔ فائر سیفٹی آڈٹ 2024 میں کیا تھا اس پر فوراً کام کریں، یہ بات درست ہے کہ کراچی کی کئی عمارتوں میں سیفٹی مسائل ہیں۔انہوںنے یہ نہیںبتایا کہ ان مسائل کے باوجود بھی کیوںان عمارتوںکے رہایشیوںکو اس سے آگاہ نہیںکیا گیا ان کا کہنا تھا کہ کئی جگہ غلطی صرف حکومت کی نہیں ہوتی، دکانداروں کی بھی ذمہ داری ہوتی ہے، دکاندار اس وقت تکلیف میں ہیں، ان کو مورد الزام ٹھہرانا نہیں چاہتا، جو ادارے خود کو احتساب سے بالاتر سمجھتے ہیں، وہ بھی
اپنے گریبان میں جھانکیں۔انہوں نے کہا کہ صورت حال کا تقاضا ہے کہ انتشار پھیلانے سے گریز کیا جائے، میں کسی کا نام نہیں لوں گا کہ انہیں کیا کرنا چاہیے تھا، بس یہی کہوں گا کہ میری غلطی ہے، دنیا بھر میں ایسے واقعات ہوتے ہیں، ہمیں اپنی بہتری کے لیے کام کرنا ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ آگ بجھانے کی بات کریں، مزید آگ لگانے کی بات نہ کریں، میرا قائد حزب اختلاف سے کوئی مقابلہ نہیں، ان کا تو کام ہی یہی ہے، پاکستان میں فائر سیفٹی کے قوانین موجود ہیں، جیسے:ہر عمارت میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ ہونا ،فیکٹریوں اور شاپنگ مالز میں باقاعدہ فائر ڈرل کرنا، مگر یہ سب کاغذات میں ہے عملی طور پر کہیں نہیں۔ معائنے ہوتے ہیں مگر خطیر رقم کے عوض بقول ریاض ملک فائیلوںپر پہئے لگ جاتے ہیں عمارت غیر محفوظ ہوتی ہے مگر فائلیوں میں محفوظ ہوتی ہے آگ لگنے پر ابتدائی قابو پانے کے لیے فائر ایکسٹینگشر یا پانی کے ذخائر اکثر دستیاب نہیں ہوتے۔ذمہ داران کا یہ بھی کہنا درست ہے کہ اس کام اور انسانی جانوںکو تحفظ دینے کیلئے وسائل اور بجٹ مناسب نہیں، اگر جئے بھٹو والے کچھ نظر کرم کریںتو موجودہ فائر اسٹیشنز کی تعداد بڑھائی جائے، خاص طور پر صنعتی زونز اور گھنی آبادی والے علاقوں میں۔ہر اسٹیشن میں جدید فائر ٹینڈرز، ایمرجنسی گاڑیاں، اور اسپیشل آلات جیسے ہائی پریشر واٹر پمپ، ریسکیو کرینز وغیرہ رکھے جائیں۔