Wed, September 16, 2026

بھارتی آبی دہشتگردی کا رونا رونا بند کریں

بھارتی آبی دہشتگردی کا رونا رونا بند کریں

ملائیشیا میں بارشیں سال بھر ہوتی رہتی ہیں مگر وہاں پاکستان کی طرح تباہی نہیں ہوتی اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں پلاننگ، ڈرینج سسٹم، پانی کے بہاؤ کے راستے اور شہری منصوبہ بندی اتنی مضبوط ہے کہ بڑے نقصانات کبھی نہیں ہوتے، وہاں کی حکومتوں نے برساتی نالوں، دریاؤں اور گرین بیلٹس پر کبھی قبضہ نہیں ہونے دیا، جبکہ ہمارے ملک کا مسئلہ یہ ہے کہ نالے اور دریاؤں کے قدرتی راستوں پر بھی قبضے کر لیے جاتے ہیں مون سون سے قبل کاغذوں میںنالوں کی صفائی کی جاتی ہے اور فنڈز کھائے جاتے ہیںجس سے پانی کا بہائو رکا رہتا ہے پانی کے نکاس کے لیے کہیں بھی جدید سسٹم نہیں بنایا گیا، اسی لیے بارشیں ملک میں سیلابی صورتحال پیدا کر دیتی ہیں، اصل میں کرپشن اور ناقص نظام ہمیں ڈبوتا چلا آ رہا ہے وہاں پر بھی کبھی کبھی سیلاب سے نقصان ہو جاتا ہے لیکن فرق صرف اتنا ہے ان کے پاس مہاتیر محمد تھا جس نے ملک کے لیے بہت کام کیا ہمارے پاس سیاستدانوں کا پورا ایک مینا بازار لگا ہے لیکن عقل سلیم رکھنے والا کوئی نہیں بارشوں کے بعد دریائے راوی، چناب اور ستلج میں شدید سیلاب اور اس کے نتیجے میں تباہ کاریوں کا سلسلہ جاری ہو جاتا ہے جس سے سیکڑوں بستیاں، ہزاروں ایکڑ اراضی زیر آب آنے سے فصلیں تباہ ہو جاتی ہیں، ڈیم نہ بنانے کا خمیازہ ہمیشہ عوام بھگتتے ہیں جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف سیلابی صورت حال سے نمٹنے کے لیے قلیل، درمیانی اور طویل المدت پالیسیاں وضع کرنے پر زور دے رہے ہیں، بقول وزیر اعظم پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کیے بغیر ملک قدرتی آفات سے محفوظ نہیں ہو سکتا، لیکن افسوس اس بات پر ہے کہ ہم ملکی مفاد کے منصوبوں کو بھی سیاست کی نذر کر دیتے ہیں، اگر ہم ابھی سے ڈیم اور چھوٹے ذخائر کی تعمیر کی جانب توجہ دیں تو مستقبل کے نقصانات سے بچا جا سکتا ہے اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ زلزلے اور سیلاب ہمارے لیے قدرت کی جانب سے آزمائش ہوتے ہیں، انہیں ٹالنا یا مزید تباہ کاریوں کا باعث بنانا دستِ قدرت ہی میں ہے، تاہم انسان ان قدرتی آفات میں نقصانات سے بچاؤ کی تدبیر تو کر سکتا ہے جو ہم نہیں کر رہے ہر سال کھربوں روپے کا پانی ہم اپنی نااہلیوں کی وجہ سے ضائع کر دیتے ہیں، بدقسمتی ہے ماہرین کہہ رہے ہیں کہ آنے والے برسوں میں دنیا پانی کی بوند بوند کو ترسے گی۔ دنیا نے اپنے اپنے ممالک میں ہزاروں ڈیم بنا لیے ہیں جبکہ جنگ سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے افغانستان نے بھی چار سال میں اپنے ملک میں چار ڈیم بنا لیے۔ افسوس پاکستان میں چند لوگوں کی وجہ سے ڈیمز نہیں بن رہے ڈیم اب ہماری شہ رگ بن چکے ہیں جس پر پوری پاکستانی قوم متحد ہو کر چند مفاد پرست لوگوں کی وجہ سے اس اہم مسئلے کو نظر انداز نہ کرے ورنہ سیلاب کی تباہ کاریاں ہر سال قیمتی جانیں اور کھربوں روپے کا پانی ضائع ہونے کے ساتھ ساتھ لوگوں کے مال مویشی بھی سمندر میں غرق کر دے گا۔ اس لیے سب کو مل کر جدوجہد کرنا ہو گی دوسری طرف ہمیں موسمیاتی تبدیلیوں کے علاوہ بھارت کی مسلط کردہ آبی دہشت گردی کا بھی سامنا ہے جو کشمیر کے راستے پاکستان آنے والے دریاؤں کے پانی کو کنٹرول کر کے کبھی ہمیں بھوکا پیاسا مارنے کی سازش کرتا ہے اور کبھی ہمیں سیلاب میں ڈبونے کی سازش بروئے کار لاتا ہے لیکن بھارتی آبی دہشت گردی کا رونا رونے کے بجائے ہمیں خود احتسابی کی طرف آنا ہو گا کہ ہمارے ادارے کیا کر رہے ہیں۔ این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے کیا تیر مار رہا ہے، کیا اس کا کام صرف یہ رہ گیا ہے کہ صرف اطلاع دے کہ بارشیں زیادہ ہو نگی جبکہ اداروں میں بیٹھے افسران کی پوسٹنگ مظفرآباد، ایبٹ آباد میں ہے جبکہ ڈیوٹی لاہور میں کر رہے ہیں اور کروڑوں کے فنڈز ہڑپ کر رہے ہیں ان کا تو کام انسانی جانوں کے بچائو کے ساتھ ساتھ فلڈ ریلیف کیمپوں کا قیام ہے ان میں کھانے پینے کی اشیاء سمیت ادویات فراہمی کی لوگوں کو اطلاع کرنا ہونا چاہیے تاکہ سیلاب کی صورتحال میں مصیبت زدہ افراد کو معلومات تک رسائی ہو سکے لیکن یہ دونوں ادارے بارشوں کی اطلاع دیکر بری الزمہ ہو جاتے ہیں جبکہ انتظامی ادارے صرف بیانات تک محدود رہتے ہیں اور اگر پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہمارے پاس نہیں ہو گی تو ہم جتنی بھی کوششیں کر لیں یہ نامکمل ہوں گی، ہمیں وسائل خود جمع کرنا ہوں گے اگر سرجوڑ کے بیٹھیں گے تو اس کا حل ڈھونڈ لیا جائے گا۔ پاکستان ایک بار پھر شدید سیلاب کی لپیٹ میں آ گیا ہے جس سے زرعی شعبہ بری طرح متاثرہوا ہے اور غذائی بحران جنم لینے کا خدشہ ہے۔ گندم، چاول، کپاس، سبزیاں اور لائیو سٹاک جیسی بنیادی غذائی اشیا کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ کپاس کی پیداوار میں کمی کے باعث ٹیکسٹائل صنعت دباؤ میں آئے گی اور کپاس کی درآمدات بڑھیں گی، جس سے ملک کا درآمدی بل اور زرمبادلہ کے ذخائر مزید کمزور ہوں گے۔ خدشہ ہے کہ چاول کی فصل کا ایک شدید بحران آنے والا ہے، آلو، پیاز، ٹماٹر، دودھ اور انڈے جیسی اشیا سب سے زیادہ متاثر ہوں گی ہمیں بھارتی آبی جارحیت کا رونا رونے کے بجائے اپنے گھر کو ٹھیک کرنے کیلئے سوچ بچار کرنا ہو گی تاکہ ملک میں سیلاب سے جو تباہی ہوئی آئندہ سے اس کا سدباب کیا جا سکے۔ سکول، کالجز اور یونیورسٹیوں کے طلبا کو قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے تربیت دی جانی چاہیے تاکہ مشکل وقت میں لوگوں کی مدد کی جا سکے جب ہر کام سسٹم کے تحت ہو گا تو کسی پر الزام لگانے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔

ٹیگز: