پی ٹی آئی کی ڈوبتی کشتی سے چھلانگیں مارنے والے گروپ کی نیشنل ڈائیلاگ (ڈھکوسلا) کمیٹی نے تازہ تجویز دی ہے کہ پاکستان میں تین سال کے لیے قومی سرکار بنائی جائے تاکہ ملک میں سیاسی درجہ حرارت نیچے لایا جاسکے۔اس ڈھکوسلا کمیٹی کے ایک روح رواں سابق وزیراطلاعات جناب فواد بھائی چودھری نے کہا ہے کہ اگر میاں نوازشریف اور آصف علی زرداری قومی حکومت کے قیام پر راضی ہوجائیں تو جناب عمران خان کو اس قومی حکومت کے لیے راضی کرنا ان کا کام ہے یعنی وہ اس درجہ پراعتماد ہیں کہ عمران خان کو راضی کرلیں گے ۔ٹھیک ہوگیا ۔ویسے ایک طرح چودھری صاحب کا اعتماد جائز بھی ہے کہ ان کوبھی معلوم کہ عمران خان جیل سے جان چھڑانے کے لیے اس گھڑی کچھ بھی کرسکتے ہیں وہ ڈیل چاہتے ہیں جو ا ن کو نہیں مل رہی ۔اسی فیصد بینائی کا چلے جانا اور پھر معجزانہ طورپردستی واپس آجانا بھی اسی ڈیل کے اسکرپٹ کا ہی ایک پارٹ معلوم ہوتا تھا لیکن ظالموں نے وہ بھی نہیں ہونے دیا اور آنکھوں کے بہترین ڈاکٹر علاج کے لیے ان کو پیش کرکے یہ موقع بھی ضائع کردیا۔
ہم قومی حکومت ،کبھی ٹیکنوکریٹ حکومت اور کبھی صدارتی نظام جیسی آوازیں بڑے عرصے سے مختلف اوقات میں سنتے آرہے ہیں ۔جو اقتدار سے باہر ہوتے ہیں یا الیکشن ہارجاتے ہیں ان کو قومی حکومت جیسے ارینجمنٹ سے پیار ہوجاتا ہے وہ کسی نہ کسی بہانے سے اقتدار کی راہداریوں کے مسافر بننا چاہتے ہیں اس لیے ایسے نسخہ ہائے کیمیا پیش کرتے رہتے ہیں کہ کسی طرح سیاسی بے روزگاری ختم ہوجائے ۔کچھ روز قبل سینئر صحافی اور کالم نگار جناب سہیل وڑائچ صاحب نے بھی ایک کالم لکھ کر قومی حکومت بنانے کے لیے میٹھی میٹھی لوری سنانے کی کوشش کی تھی اور اب جناب ڈھکوسلا کمیٹی نے کھل کر پریس کانفرنس میں قومی حکومت بنانے کی تجویز پیش کردی ہے۔قومی حکومت ہوتی ہے کیا ہے اور کیا یہ پاکستان میں بنائی جاسکتی ہے ؟ یہ ایسا سوال ہے جس کا جواب سب جانتے ہیں لیکن پھر بھی خواہشوں کے انبار میں ڈوب جانے جیسی خود فریبی کا شکار رہتے ہیں ۔پاکستان ایک پارلیمانی جمہوری ملک ہے جس کا ایک آئین ہے اور یہ ملک کا سارا نظام اسی آئینی بندوبست کے تابع چل رہا ہے ۔اس آئین میں کسی بھی جگہ کسی ایسی سرکار کی گنجائش نہیں جس کا اظہار یا تجویز قومی ڈھکوسلا کمیٹی والے کر رہے ہیں۔دراصل اس کمیٹی میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جو عام انتخابات میں اپنی سیٹ تک نہیں بچا سکے تھے وہ چاہے شاہد خاقان عباسی ہوں، فواد چودھری صاحب ہوں ،مصطفی نوازکھوکھر ہوں یا پھر مفتاح اسماعیل اور محمود مولوی ہوں۔
اس کمیٹی کی تجویزکردہ قومی حکومت بنانے کے لیے پاکستان میں رائج آئین کو معطل کرنا پڑے گا یا توڑنا پڑے گا وہی کام کرنا پڑے گا جو اس ملک میں ڈکٹیٹر آئین کے ساتھ کرتے آئے ہیں۔ایوب خان نے آئین توڑا اور اپنی پسند کی قومی حکومت بناکر حکومت کرنے لگے ۔اس کے بعد ضیاالحق نے مارشل لانافذ کیا آئین توڑا اور اپنی مرضی کی قومی حکومت بناکر ملک چلانا شروع کردیا ۔آخری کام مشرف صاحب نے کیا تھا کہ آئین معطل کرکے اپنے چنیدہ لوگوں کی کابینہ بناڈالی اور خود چیف ایگزیکٹو بن گئے گویا کہ کوئی ملک نہ ہوا ایک پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی ہوگئی کہ آپ اس کے چیف ایگزیکٹو بن جائیں؟اب بھی اگر کسی کو قومی حکومت بنانے کا شوق چراتا ہے تو آئین کی وہی حالت کرنا پڑے گی جو فوجی آمروں نے ماضی میں کی تھی اس کے علاوہ دوسرا راستہ اس آئین میں ترمیم کرکے اس میں غیرمنتخب شدہ ’’ہینڈ پکڈ‘‘ قومی حکومت بنانے کی شق شامل کرنا پڑے گی ۔اگر تو آئین میں ترمیم کرکے قومی حکومت بنانے کا طریقہ کار آئین میں لکھ دیا جاتا ہے تو کسی کو اس قومی حکومت کے بننے یا بنانے پر اعتراض نہیں ہوگا ،جب تک یہ دونوں شرائط پوری نہیں ہوجاتیں کسی بھی طرح کی قومی حکومت کی کوئی گنجائش نہیں بن سکتی چاہے وہ خواہش سہیل وڑائچ کی ہو یا فوادچودھری صاحب کی۔
یہ تو تھا قومی حکومت بنانے کا طریقہ کار اور آئینی گنجائش ۔اب آتے ہیں اس طرف کہ اس ڈائیلاگ (ڈھکوسلا) کمیٹی کی تجویز پر قومی حکومت کیوں بنائی جائے اور کیوں ایسے تمام بے روزگاروں کو حکومت میں خواہ مخواہ شامل کرلیا جائے جو الیکشن تک نہیں جیت سکے یا اپنے کردہ جرائم کی سزا جیلوں میں قید کی صورت بھگت رہے ہیں۔تجویز دینے والے کہتے ہیں کہ اس لیے قومی حکومت بنادی جائے کیوں کہ ملک میں سیاسی درجہ حرارت بڑا اوپر ہے تو اس ملک میں ایسا کونسا لمحہ آیا ہے جب سیاسی درجہ حرارت نیچے تھا؟یہاں تو ہمیشہ ہی سیاسی درجہ حرارت نقطہ عروج پر رہا ہے تو کیا اس کا حل قومی حکومت بناکر نکالا جاتا رہا ہے؟کیا اس لیے قومی حکومت بنائی جائے کہ ملک اس وقت ٹھیک چل رہا ہے؟اس وقت ملک معاشی طورپر بہتر راستے پر ہے۔حکومتی سسٹم بہترین چل رہا ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائز بہتر ہورہے ہیں۔ پاکستان ڈیفالٹ سے نکل کر ترقی کی سڑک پر آچکا ہے۔برآمدات میں بڑھوتری ہے۔سٹاک مارکیٹ تاریخی بلند ی پر ہے۔وزیراعظم شہبازشریف بہترین طریقے سے پرفارم کررہے ہیں۔سفارتی سطح پر پاکستان دنیا کے لیے ناگزیر ہوگیا ہے۔سپر پاور کا صدر ہمارے وزیراعظم کو ’’جپھیاں‘‘ڈال رہا ہے ۔ہمارے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تعریفوں کے پل باندھ رہا ہے ۔امریکا اور پاکستا ن کے تجارتی مراسم تاریخ کے بہترین دور سے گزررہے ہیں۔مشرق وسطی کے ممالک کے سربراہان شہبازشریف کے دیوانے ہیں۔ہماری ڈیفنس ایکسپورٹ تاریخی بلندی کو چھورہی ہیں۔کیا یہ سب کچھ چھوڑ کر ملک میں بان متی کے کنبے کی صورت میں ایک قومی حکومت بناکر مزید سیاسی لڑائیوں اور سیاسی حصے داری کا پینڈوراباکس کھول دیا جائے ؟کیا اس لیے یہ تماشا ملک میں لگادیا جائے کہ چند سیاسی بے روزگار برسرروزگار لائے جائیں؟یا پھر عمران خان صاحب کو جیل سے نکال کر دوبارہ اقتدار دے دیا جائے ؟۔
دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس وقت حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ایسا کوئی تنازع نہیں ہے کہ اس حکومت کا چلنا مشکل ہورہا ہو ۔اس وقت حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان بہترین تعلقات اور کوارڈینیشن موجود ہے ۔ہائبرڈ سسٹم اس ملک میں ڈیلیور کررہا ہے دہشت گردی سے لے کر معیشت تک ہر لڑائی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ مل کر لڑرہی ہے اور نتائج آرہے ہیں۔تو پھر حکومت کی ایسی کیا مجبوری ہے کہ وہ نیانظام ملک میں لے آئے؟
آخری پہلو بھی بڑا مزیدار ہے کہ مسلم لیگ ن نے ملک کو سنبھالنے کے لیے اپنا سیاسی سرمایہ جھونک دیا ۔ملک کو ڈیفالٹ سے نکالنے کے لیے مشکل ترین فیصلے شہبازشریف نے کیے اور عوام کے غصے کا سامنا کیا اب جب عوام کی دعائیں لینے کا وقت آیا ہے تو شہبازشریف اس میں سیاسی بے روزگارو ںکو شامل کرلیں؟ شہبازشریف بھولے ہیں لیکن اتنے بھی بھولے نہیں ہیں۔۔!