Wed, September 16, 2026

27 آئینی ترمیم کے لیے حکومت کو سینیٹ میں 64 اور قومی اسمبلی میں 224 ووٹ درکار

27 آئینی ترمیم کے لیے حکومت کو سینیٹ میں 64 اور قومی اسمبلی میں 224 ووٹ درکار

اسلام آباد: حکومت کو آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے سینیٹ اور قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کے لیے ضروری ووٹ مل گئے ہیں۔ سینیٹ میں 64 اور قومی اسمبلی میں 224 ووٹوں کی حمایت درکار ہے، اور حکومتی اتحاد کے پاس یہ تعداد پوری ہو گئی ہے۔

سینیٹ میں حکومتی اتحاد کے 96 ارکان کے ایوان میں 65 ارکان کی حمایت حاصل ہے، جس میں پیپلز پارٹی کے 26، مسلم لیگ ن کے 21، ایم کیو ایم اور اے این پی کے 3، 3 ارکان شامل ہیں۔ اس کے علاوہ نیشنل پارٹی، مسلم لیگ ق اور 6 آزاد ارکان بھی حکومت کے ساتھ ہیں۔ اپوزیشن کے پاس سینیٹ میں 31 ارکان ہیں، جن میں تحریک انصاف کے 22، جے یو آئی کے 7، اور ایم ڈبلیو ایم اور سنی اتحاد کونسل کا ایک ایک سینیٹر شامل ہیں۔

قومی اسمبلی میں حکومتی اتحاد کے پاس 326 ارکان میں سے 237 کی حمایت حاصل ہے۔ مسلم لیگ ن 125 ارکان کے ساتھ سب سے بڑی جماعت ہے، پیپلز پارٹی کے 74، ایم کیو ایم کے 22، ق لیگ کے 5 اور آئی پی پی کے 4 ارکان حکومت کے ساتھ ہیں۔ اپوزیشن میں 89 ارکان ہیں، جن میں جے یو آئی کے 10، سنی اتحاد کونسل، مجلس وحدت المسلمین، بی این پی مینگل اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کا ایک ایک رکن شامل ہے۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے تمام ضروری ووٹ مل گئے ہیں اور اس پر کام آگے بڑھ رہا ہے۔ تاہم، اپوزیشن کی طرف سے مخالفت کا امکان بھی موجود ہے، جو ایوان میں سیاسی بحث کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔

ٹیگز: