Wed, September 16, 2026

قومی حکومت ہی واحد حل؟

قومی حکومت ہی واحد حل؟

ویسے اب یہ محض کوئی سازشی تھیوری نہیں رہی بلکہ پورا عقدہ تو طشتِ ازبام ہو چکا ہے کہ خطے میں شروع ہونے والی ’’گریٹ گیم‘‘ کا بظاہر ہدف تو چاہے کوئی بھی ہو سکتا ہے تاہم یہ امر اب روزِ روشن کی طرح عیاں ہو چکا ہے کہ اس ’’گریٹ گیم‘‘ کے پیچھے پوشیدہ اصل مقاصد پاکستان کو داخلی اور خارجی محاذوں پر ناقابل تلافی نقصان پہنچانا ہے۔
اس مذموم مقصد کے حصول کے لیے بڑی عرق ریزی سے جو سازش رچائی جا چکی ہے اس کے تحت دشمنانِ پاکستان وطن عزیز کو لیبیا، شام، عراق اور یمن کی مانند ایک ایسی جنگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں جو پاکستان کے معاشی، دفاعی اور داخلی نظام کو ناکارہ کر کے اسے خانہ جنگی میں دھکیل دے۔ اہم بات یہ ہے کہ اس وقت بڑی منصوبہ بندی سے افغانستان سے میدان جنگ پاکستان میں شفٹ کیا جا رہا ہے۔ خدانخواستہ اگر پاکستان کے دشمن اس مقصد میں کامیاب ہوتے ہیں تو ایسی جنگ پاکستان کو معاشی طور پر بدحال اور سکیورٹی کے حوالے سے ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتی ہے۔ یوں فلسطین کے علاقے غزہ سے شروع ہونے والی یہود و نصاریٰ کہ یہ سازش جس کا یقینا ایک مقصد گریٹر اسرائیل کے قیام کو یقینی بنانا بھی ہے، اپنے اہداف کی طرف بڑھ جائے گی۔
بلوچستان اور خیبر پختون خوا میں دہشت گردی کی حالیہ لہر میں غیر معمولی تیزی اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ افغانستان کی جانب سے بھارتی سرپرستی میں باقاعدہ ایک گوریلا وار پاکستان میں شروع کرائی جا چکی ہے۔ دہشت گردی کی اس جنگ میں باقاعدہ طور پر افغانی اور افغان عسکری اداروں کے اہلکار ملوث نظر آتے ہیں۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ ایسے میں کچھ اپنے نظر آنے والے بھی اغیار کا ساتھ دیتے نظر آتے ہیں۔ خیبر پختون خوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور اور پاکستان تحریک انصاف کے بعض اہم رہنما جو زبان بول اور درون پردہ جو 
کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں وہ یقینا کسی مخلص پاکستانی کا طرز عمل تو نہیں ہو سکتا۔ ایسے میں یہ حقیقت بھی ناقابل تردید ہے کہ جنگ محض فوجیں نہیں بلکہ قومیں لڑتی ہیں۔ یہاں یہ سوال بھی ذہن کے نہاں خانوں میں جنم لیتا ہے کہ کیا موجودہ معاشی، اقتصادی اور سکیورٹی کی دگرگوں حالات سے نکلنے کا کوئی راستہ بچا ہے یا نہیں؟
ادارہ منہاج القران و یونیورسٹی کے ڈپٹی چیئرمین بورڈ آف گورنرز حسین محی الدین کی جانب سے دئیے گئے ایک افطار ڈنر میں ملاقات ہوئی۔ ڈاکٹر حسین محی الدین ایک نفیس، بردباد اور صاحب علم شخصیت ہیں جو اپنا نقطہ نظر پُر اثر انداز میں پیش کرنے کی صلاحیت سے مالا مال ہیں۔ گفتگو کا سلسلہ شروع ہوا تو ڈاکٹر حسین محی الدین کہنے لگے کہ پاکستان عوامی تحریک کے بانی شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے سیاست سے مکمل طور پر کنارہ کشی کر لی ہے اور آئندہ وہ پاکستان اور پاکستانی قوم کی مزید خدمت اس طرز عمل سے چاہتے ہیں جس سے علمی و عملی میدان میں جہد مسلسل سے آگے بڑھا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ منہاج یونیورسٹی کا قیام و ترویج اور مختلف ترقیاتی پراجیکٹس کی شروعات نے انقلابی تبدیلیاں رونما کی ہیں۔ خاص طور پر بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ میں ان کا کردار اسکا منہ بولتا ثبوت ہے ملک و قوم کی ترقی میں کردار ادا کرنے کے لیے سیاست ہی واحد ذریعہ نہیں ہے۔
ڈاکٹر حسین محی الدین کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی عمران خان کے مستقبل کے حوالے سے انہیں گہری تشویش ہے تاہم عمران خان آج جن مشکل حالات سے دو چار ہیں وہ اسکے خود بھی کافی حد تک ذمہ دار ہیں۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن کو بطور وزیر اعظم پاکستان انہوں نے تب تک پس پشت ڈالے رکھا جب تک اقتدار میں آنے کے بعد ان کے مقتدرہ کے ساتھ تعلقات اچھے رہے۔ تاہم جب انہیں اسکا احساس ہوا تو تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ ان کی فاش غلطی اقتدار سے نکلنے کے بعد یہ ہے کہ انہوں نے اپنی ہی فوج اور عسکری اداروں کے خلاف جو منفی طرزِ عمل اپنایا اس سے عوام اور افواج پاکستان میں دوریاں پیدا کرنے کی ارادتاً کوشش کی گئی۔ بانی پی ٹی آئی اور ان کی جماعت نے فوج کے خلاف نفرت پھیلانے کے جس راستے کو اپنایا وہ ناقابل فہم ہے۔ بھلا کوئی اپنے ہی اداروں کے خلاف ایسا کیسے کر سکتا ہے؟ کسی بھی ملک کی افواج اس کی حفاظت کی آخری ’’ڈیٹرنس‘‘ ہوتی ہے۔ اگر فوج ہی ختم ہو جائے تو پھر وہی حالات ہوتے ہیں جو اس وقت شام، لیبیا، عراق یا پھر یمن کے ہیں۔ منہاج یونیورسٹی اس حوالے سے بھی سر فہرست ہے کہ یہاں دہشت گردی سے نمٹنے اور میری ٹائم سکیورٹی کی تعلیم کے لیے خصوصی شعبے رکھے گئے ہیں۔ ڈاکٹر محی الدین کا کہنا تھا کہ موجودہ نظام میں پاکستان کے مسائل کا حل موجود نہیں۔ یہ ایک ایسا کرپٹ نظام ہے جس سے ملک کی طاقتور حکمران اشرافیہ اسی طرح طاقتور ہوتی رہے گی اور غریب پاکستانی اسی طرح پستے رہیں گے۔ نظام کی تبدیلی کے لیے پہلے آٹھ دس سال تک ایک قومی حکومت لانا پڑے گی جو دیانت دار سیاست دانوں اور ٹیکنوکریٹس پر مشتمل ہونی چاہیے اسی طرح ایک نیشنل کونسل بنانا ہو گی جس کے تحت قومی اداروں کو فعال بنایا جا سکے۔
قارئین! ایسے میں ارباب اختیار نے گویا عوام کو فاطر العقل سمجھنا شروع کر دیا ہے۔ بشمول وفاقی وزیر علی پرویز ملک سرکاری شخصیات ان دنوں ایک نئی منطق لے کر سامنے آئے ہیں کہ مہنگائی سنگل ڈیجٹ سے نیچے آ گئی ہے تو دوسری طرف سینہ ٹھونک کر عوام کی ننگی پیٹھوں پر پٹرول اور گیس کی ہوشربا قیمتوں کے نہ تھمنے والے تازیانے برسائے جا رہے ہیں۔ ایسے میں ستم رسیدہ عوام کو بجلی کی قیمتوں میں کمی کے سہانے خواب دکھا کر ان کی جیبوں پر ایک اور شب خون مارنے کی تیاریاں اپنے آخری مراحل میں ہیں۔

ٹیگز: