Wed, September 16, 2026

ورچوئل اثاثہ جات کی لائسنسنگ کا نظام مکمل، 10 کیٹیگریز متعارف

ورچوئل اثاثہ جات کی لائسنسنگ کا نظام مکمل، 10 کیٹیگریز متعارف

اسلام آباد: پاکستان نے چھ ماہ سے بھی کم عرصے میں ورچوئل اثاثہ جات کے لیے مکمل لائسنسنگ نظام تشکیل دے دیا ہے۔ پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی نے لائسنسنگ ریگولیشنز جاری کرنے کے ساتھ آن لائن لائسنسنگ پورٹل بھی فعال کردیا ہے۔

وزیر مملکت اور پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین بلال بن ثاقب کے مطابق ورچوئل اثاثہ جات ایکٹ 2026 کے تحت لائسنس کی 10 مختلف کیٹیگریز متعارف کرائی گئی ہیں۔ ان میں ایکسچینج، بروکر ڈیلر، ایڈوائزری، قرض دینے اور لینے کی خدمات سمیت مائننگ اور دیگر ورچوئل اثاثہ خدمات شامل ہیں۔

بلال بن ثاقب نے کہا کہ نئے نظام کا مقصد ورچوئل اثاثہ جات کے شعبے کو شفاف اور باقاعدہ ریگولیٹری فریم ورک فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے ورچوئل اثاثہ سروس فراہم کرنے والوں پر زور دیا کہ وہ لائسنس حاصل کرکے قانونی اور باقاعدہ مالیاتی نظام کا حصہ بنیں۔

اتھارٹی کے مطابق پاکستان میں پہلے سے کام کرنے والے ورچوئل اثاثہ آپریٹرز لائسنس کے حصول کے لیے 5 ستمبر 2026 تک درخواستیں جمع کراسکتے ہیں۔ مقررہ مدت کے بعد بغیر اجازت خدمات فراہم کرنا قانون کی خلاف ورزی تصور ہوگا۔

چیئرمین پیوارا نے کہا کہ نئے ریگولیٹری فریم ورک سے صارفین اور سرمایہ کاروں کے تحفظ کے ساتھ ڈیجیٹل معیشت میں ذمہ دارانہ جدت اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے بھی مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے مختصر مدت میں ریگولیٹر اور مکمل لائسنسنگ فریم ورک قائم کرکے ورچوئل اثاثہ جات کے شعبے میں اہم پیش رفت کی ہے۔

ٹیگز: