Wed, September 16, 2026

سیلاب : درخت دریاﺅں کے بچے ہوتے ہیں 

سیلاب : درخت دریاﺅں کے بچے ہوتے ہیں 


کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ درخت دریاﺅں کے بچے ہوتے ہیں جن کو دیکھنے وہ ہر سال پلٹ کر آتے ہیں اورجب اپنے بچوں کو موجود نہیں پاتے تو غضبناک ہو جاتے ہیں اور پھر کسی کے بچے محفوظ نہیں رہتے ۔ممکن ہے درخت دریاﺅں کے بچے نہ ہوں لیکن میں ایسا ہی سوچتا ہوں کہ یہ درخت ہی ہیں جنہوں نے زمین پر زندگی کو محفوظ کر رکھا ہے ۔قرآن کے مطابق تو درخت خدا کی مخلوق ہے جو اُسے سجدہ کرتی ہے لیکن جب سے پیدا ہوا ہوں سیلابوں کی زد میں ہوں۔ والدہ مرحومہ بتایا کرتی تھیں کہ 50 کی دہائی میں انتہائی خوفناک سیلاب آیا تھا اور اُس وقت چونکہ سندھ طاس معاہدہ بھی نہیں تھا تو پانی لاہور کے علاقوں میں پھیل گیا تھا جس کی تصدیق اسلام پورہ (کرشن نگر ) کے ایک مہاجر بزرگ نے بھی کی ۔1970 ءکی مشرقی پاکستان کی سونامی مجھے خواب کی طرح یاد ہے کہ میں سکول میں داخل ہو ا تھا لیکن اخبارات کے صفحات خوفناک رپورٹنگ سے اٹے پڑے تھے ۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے مشرقی پاکستان ہم سے الگ ہو گیا۔ 1988ءمیں سب نے کہا کہ عورت کی حکمرانی کی وجہ سے سیلاب آیا ہے اورہم نے شاہدرہ اور گردو نواح کو ڈوبے دیکھا بلکہ اپنا عزیز ترین دوست ڈاکٹر ساجد ظہیر گولڈ میڈلسٹ جسے سیلاب زدگان کی امداد کرتے ہوئے سانپ نے ڈس لیا تھا اپنی ایم بی بی ایس کے دوسرے سال ہی غرق ہو گیا۔ 2010 ءکے سیلاب میں خود سیلاب زد ہ علاقے تک پہنچے تو بتایا گیا کہ یہ اس خطے کی تاریخ کا سب سے بڑا سیلاب ہے ۔سیلاب اُس کے بعد بھی آتے رہے ¾2023 کے سیلاب میں عبد العلیم خان فاﺅنڈیشن کے پلیٹ فارم پر سیلاب زدگان کی امداد کیلئے بڑے وسیع پیمانے پر انتظامات کیے گئے اور کوہ سیلمان سے آنے والے ریلوں سے لے کر دریا ئے سندھ کے دوسرے کنارے اور بلوچستان تک کام ہوتے دیکھا اور اب پھر ایک سیلاب نہیں آفات نے کے پی کے کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔ 
انسان روز اول سے ہی فطرت کے مقابل ہے اور آج کی ساری ترقی کو اگر فطرت پر فتح نہ کہا جائے تو غلط ہو گا۔ سیلاب سے انسان کا سامناروز اول سے ہے ۔ تقریباً دنیا کے ہر مذہب میں ایک بڑے سیلاب کا ذکر ہے قصہ گل گامش میں بھی ہمیں ایک عظیم سیلاب کا ذکر ملتا ہے جب دیوتاﺅں کی ناراضی نے سب کچھ ڈبو کر رکھ دیا تھا لیکن انسان نے اس دنیا کو پھر بسالیا ۔ طوفانِ نوح کا ذکر تو ہمارے بچوں تک کو یاد ہے کہ جب نافرمانوں کو سزاد دینے کیلئے زمین اور آسمان کے سوتے کھول دیئے گئے ۔عہد نامہ قدیم و جدید میں بھی اس کا ذکر ملتا ہے جبکہ ہندومذہب میں بھی بڑے سیلاب کو شدومد سے یادرکھا گیا ہے ۔انگنت وبائی بیماریاں جو ابتدائی انسان کو لگ جاتی تھیں اہلِ عقل نے اُن کا حل نکال لیا اور پھر وہ آفات جن سے ہزاروں لاکھوں انسان موت کے منہ میں چلے جاتے تھے ¾ نہ صرف اُن پر قابوپا لیا بلکہ انہیں زمین سے ہی ختم کردیا گیا ۔ انسان تو دریا کو دیوتا سمجھ کر اس کی عبادت بھی کرتا رہا ہے اور اِس میں سیلابوں کو روکنے کیلئے اپنی جوان بیٹیاں اِن دریاﺅں میں پھینکتا رہا ہے ۔ جناب ِ عمر رضی اللہ عنہ کا دریائے نیل کو رقعہ لکھنے کا واقعہ بھی کتابو ں میں ملتا ہے لیکن اُس میں کہاں تک صداقت ہے نہیںجانتا لیکن اس سے ایک بات تو واضح ہو جاتی ہے کہ مسلمان بھی دریاﺅں کے حوالے سے پریشان ضرور رہے ہیں ۔
پاکستان جان سے عزیز ہے لیکن ہر پاکستانی بارڈر پر جا کر جان نہیں دے سکتا لیکن ایسے واقعات انسان کی رو ح کو زخمی ضرور کر دیتے ہیں ۔سانحہ بو نیر ¾ گلگت ¾ سوات ¾ مانسہر ہ ¾ دربن ¾ اُگی ¾ تاہ کوٹ ¾ جھپہ ¾ ناران ¾ کاغان ¾ گڑھی حبیب اللہ کون کون سے علاقوں کا نام لکھوں جس کو اِس آفت نے اپنی لپیٹ میں نہ لیا ہو لیکن سوائے آنسوﺅ ں اور افسوس کے ہم اپنے بھائیوں ¾ بہنوں ¾ بزرگوں ¾ بیٹوں اور بچوں کو کچھ نہیں دے سکتے۔ کتنا کربناک ہو تا ہے جب انسان ایک ایک کرکے اپنے ہاتھوں سے پھسلتے ہوئے رشتوں کو سیلاب کی خونی لہروں اور بے رحم پتھروں کے سپرد کرے ۔ جان سے عزیز بچوں کو ڈوبتا دیکھنا قیامت نہیں تو اور کیا ہے ؟غربت تو اِن علاقوں کا زیور ہے لیکن ٹمبر مافیا ¾ نالائق قیادت ¾ بے رحم حکومت ¾ ریاستی مشینری اور بے حس پختون بھائی جو ہر سال اپنے بچوں کا قتل دیکھتے ہیں ¾ اُس کا ماتم کرتے ہیں اور پھر اگلے ماتم کیلئے تیار ہو جاتے ہیں ۔ دنیا میں ہر ریاست کے وسائل میں پانی پہلے نمبر پر آتا ہے لیکن ہماری بدبختی دیکھیں کہ ہم ہر سال اُسی رحمت کے نیچے آ کر ہلا ک ہو جاتے ہیں ۔2013ءکے بعد اُس علاقے میں ایک ہی سیاسی جماعت حکومت کر رہی ہے او ر اس کے کنگلے ایم پی ایز ¾ ایم این ایزاور منسٹر اربوں روپیہ بنا چکے ہیں لیکن اگر نصیب نہیں بدلا تو میرے اُن پختون بھائیوں کا نہیں بدلا جو کبھی دہشتگردی ¾ کبھی زلزلے ¾ کبھی سیلابوں ¾ کبھی بیروزگاری اور کبھی منشیات کے معاملا ت میں الجھ کر جان سے ہاتھ دھوتے رہتے ہیں ۔پختونوں کو اپنے بچوں کے مستقبل اور اُن کی زندگیوں کیلئے اپنی قیادت سے پوچھنا چاہیے کہ یہ سب کیا ہے ؟ کیوں ہے ؟ اور کب تک ہے ؟ دریاﺅں کے کنارے تعمیر محلات نما مکانات اورہوٹل جب سیلاب کی نذرہو جاتے ہیں تو کوئی بھی ذمہ داردی لینے کیلئے تیار نہیں ہوتا لیکن جب حالات ساز گا ر ہوتے ہیں تو پھر یہی قیمتی زمینیں بیچ دی جاتی ہیں ۔ دنیا کی سب سے بڑی سیرگا ہ جو کسی جنت سے کم نہیں کے پی کے حکمرانوں نے جہنم بنا کر رکھ دی ہے ۔ گزشتہ 78 سال میں ہم نے ہر حکومتی اور ریاستی تجربہ کر لیا ہے سوائے پاکستان میں غربت کے خاتمے اوربے یقینی کی فضا کو ختم کرنے کے۔ میرے لئے وہ منظر جان لیوا تھا جب ایک بڑے پتھر کے نیچے سے ایک ماں اور بیٹے کی لاش برآمد ہو ئی جسے ماں نے آخری دم تک سینے سے 
لگا رکھا تھا ¾ کسی بہن نے بھائی کا بازو پکڑ رکھا تھا اور کوئی باپ اپنے بچوں کے ساتھ اس اجتماعی قبر میں سکون سے لیٹا تھا ۔ برادرم عبد العلیم خان کو فوری طور پر امدادی کارروائیوں میں حضہ لیتے دیکھا تو اِس بات کی خوشی ہوئی کہ چلیں پنچاب سے وزیر اعظم اور اُن کے ساتھیوں میں سے کوئی تو پختونوںکی مدد کو پہنچا ۔ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان سے ملاقات اور وہاں میسر سہولیات اور فوری طور پر راستوں کی بحالی کے حوالے سے بات چیت اور این ایچ اے کونئے پلوں اور سٹرکوں کی تعمیرات کا حکم دینا عبد العلیم خان کی برق رفتاری کا منہ بولتا ثبوت ہے لیکن کیا کے پی کے حکومت کا احتساب ہو گا؟ کیا جنت دکھا کر جہنم میں دھکیلنے والوں سے باز پرُس ہو گی یا پھر اگلے سال جب دریا لوٹیں گے تو اپنے بچوں کو نہ پا کر غضب ناک ہوجائیں گے؟۔

ٹیگز: