Thu, September 17, 2026

جنگ اور امن سٹہ بازوں کیلئے مارکیٹ پراڈکٹ

جنگ اور امن سٹہ بازوں کیلئے مارکیٹ پراڈکٹ

عالمی سیاست میں بعض اوقات ایسے مناظر سامنے آتے ہیں جہاں بظاہر سفارت کاری، امن اور مذاکرات کی بات ہو رہی ہوتی ہے، مگر پس منظر میں ایک اور دنیا بھی سرگرم ہوتی ہے.... ایک ایسی دنیا جہاں نتائج پر اندازے لگائے جاتے ہیں، اور انہی اندازوں پر اربوں ڈالر دا¶ پر لگ جاتے ہیں۔ آج کل اسلام آباد میں جاری ایران-امریکہ امن مذاکرات بھی اسی دوہری حقیقت کی عکاسی کر رہے ہیں۔اطلاعات یہ ہیں کہ امریکہ کے بڑے سرمایہ دار صبح شام بدلے جانے والے بیانات سے سٹہ بازوںکو سہولت پہنچا رہے ہیں اور خود بھی کروڑوں ڈالر کما رہے خاص طور جب سے پاکستان نے مثبت انداز میںد نیا کو تباہی سے بچانے کیلئے اورپاکستانی قیادت دن رات محنت کررہی ہے فیلڈ مارشل عاصم منیر ، وزیراعظم شہباز شریف ، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار تاریخی کام انجام د ے رہے ہیں اور پاکستان کو ایک مضبوط ،امن پسند ملک کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہیں جس سے عالمی ادارے ، عالمی شخصیات اور دنیا کے عوام پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا رہے ہیںبادی النظر میں یہ مذاکرات ایک سنجیدہ سفارتی عمل ہیں، جہاں ایران اور امریکہ کے نمائندے کشیدگی کم کرنے، جنگ بندی کو مستحکم کرنے اور ممکنہ امن معاہدے کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پاکستان اس عمل میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، جو اس کے عالمی تشخص کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔ لیکن دنیا کے سٹہ باز جو دنیا کے ہر مسئلے پر ، چاہے کرکٹ ہو ، چاہے جنگیں وہ سٹہ بازی کا کام جاری رکھ کر کروڑوںڈالر کماتے ہیں ایسے میں کسی مسئلے کی غیر یقینی صورتحال سٹہ بازوں کیلئے مثبت ہوتی ہے حالیہ ایران ، امریکہ ، اسرائیل اختلافات دنیا کے سٹہ بازوںکیلئے اضافی اور بڑے کمائی کا ذریعہ ہے حقیقت یہ ہے کہ عالمی مالیاتی منڈیاں اور جدید ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اس سارے عمل کو ایک مختلف زاویے سے دیکھ رہے ہیں۔ ”پریڈکشن مارکیٹس“ نامی آن لائن پلیٹ فارمز پر ہزاروں افراد اور سرمایہ کار اس بات پر پیسہ لگا رہے ہیں کہ آیا یہ مذاکرات کامیاب ہوں گے یا نہیں، جنگ بندی برقرار رہے گی یا ٹوٹ جائے گی، اور آیا خطہ مزید کشیدگی کی طرف بڑھے گا یا امن کی جانب۔سٹہ بازی کے اس کھیل میں پس پشت بڑے سرمایہ دار ہوتے ہیں جبکہ سامنے کوئی غیر معروف شخص ہوتا ہے یہ کوئی روایتی جوا نہیں جہاں کسی کمرے میں بیٹھ کر سٹہ لگایا جا رہا ہو، بلکہ یہ ایک جدید مالیاتی کھیل ہے جسے ”ٹریڈنگ“ کا نام دیا گیا ہے۔ مگر حقیقت میں یہ بھی ایک طرح کی شرط ہی ہے.... فرق صرف اتنا ہے کہ اس کا اندازبظاہر زیادہ مہذب اور ڈیجیٹل ہے مگر اسے کوئی اخلاقی کام نہیں کہا جاسکتا ۔ایران، نہ امریکہ اور نہ ہی پاکستان کی حکومتیں اس ”شرط بازی“ میں شامل ہیں ہاں سٹہ بازی ہندوستان اور امریکہ کا پسندیدہ مشغلہ ہے جس میں نامی گرامی شخصیات ملوث ہوتی ہیں۔ یہ سب کچھ نجی سطح پر ہو رہا ہے، جہاں سرمایہ کار عالمی حالات کو ایک موقع کے طور پر دیکھتے ہیں۔تاہم اس کے اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ جب کسی امن عمل پر مالی مفادات جڑ جائیں تو خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ کہیں یہ قیاس آرائیاں عالمی بیانیے کو متاثر نہ کریں۔خاص طور پر میڈیا کی بعض رپورٹس، تجزیے اور حتیٰ کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی افواہیں بھی بعض اوقات انہی مالی مفادات کا عکس بن جاتی ہیں۔الیکٹرانک میڈیاکے ٹاک شوکی بات چیت بھی سٹہ بازوںکو شرطیں لگانے کی TIP دیتے ہیں ٹاک شوز میں تجزیہ کار بلکہ اب انہیں نہ جانے کن بنیادوں پر ”سینئر “ کے لفظ ساتھ کہا جاتا ہے وہ ایسے مناظر اور تجزیہ نگاری کرتے ہیں جیسے وہ ابھی متعلقہ لوگوں کے ساتھ ملکر آئے ہیں جنہوں نے انہیںیہ تفاصیل بتائی ہیںیہ عمل غیراخلاقی عمل ہے کہ انسانی جانوں ، جنگ اورامن سنجیدہ معاملات جہا ن انسانی جانوں، املاک کا شدید نقصان کو اپنے مالی معاملات کو فروغ دینے کیلئے استعمال کیا جائے مگر یہ سوال بھی بہت اہم ہے کہ اب انسانیت ، اخلاق کہاںپایا جاتا ہے یہ سب چیزیںاب دنیا میں ناپید ہوچکی ہیں اس لئے کسی بھی زیر بحث معاملے کو مارکیٹ کا حصہ بنادیا گیا ہے اسلام آباد میں جاری یہ مذاکرات جہاں ایک طرف عالمی امن کی امید بنے ہوئے ہیں، وہیں دوسری طرف یہ ہمیں جدید دنیا کی اس پیچیدہ حقیقت سے بھی روشناس کرا رہے ہیں جہاں سفارت کاری اور معیشت ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ یہاں فیصلے صرف بند کمروں میں نہیں ہوتے، بلکہ ڈیجیٹل مارکیٹس، سرمایہ کاروں اور عالمی رجحانات بھی ان پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ امن کی کوششیں اپنی جگہ مقدس اور ضروری ہیں، مگر دنیا کو یہ بھی سوچنا ہوگا کہ کیا ہم نے ہر چیز کو منافع کے پیمانے پر ناپنا شروع کر دیا ہے؟ اگر ایسا ہے، تو یہ صرف سیاست نہیں بلکہ ہماری اجتماعی ترجیحات کا بھی عکاس ہے۔متحارب ممالک کے سربراہان کے ہر گھنٹے تبدیل ہونے والے بیانات دنیا کی معیشت کو نقصان پہنچانے ، سٹہ بازوںکیلئے جنت ،مہنگائی سے نبرد آزما عوام کیلئے بلڈ پریشر اور شوگر سے ہسپتالوں کی کمائی ، جس طرح کووڈ کی عالمی وبا کے دوران، پہلے کووڈ، پھر اسکی دوائی کی فروخت سے اربوںڈالر کی آمدنی یہ سب آمدن غیر اخلاقی اور مجرمانہ عمل سے کم نہیں۔ پاکستانیوںکو فخر ہے آج پاکستان کی مدبرانہ قیادت نے ایمانداری سے دنیا کو تباہی سے بچانے کیلئے اپنے امن پسندانہ اور غیر جانبدارانہ عمل سے متحارب ممالک کی ایک میز پر لایا ہے جسے دنیا قابل تحسین کہہ رہی ہے اور بھارت کے چولہے بجھ گئے ہیں اسے خوف ہے پاکستان اپنی خارجہ پالیسی اور صاحب رائے 
لیڈران سے قربت کو کل کشمیر کی آزادی کیلئے بھی اپنے تعلقات کو استعمال کرسکتا ہے دنیا اس وقت ایک انتہائی نازک اور بے یقینی کے دور سے گزر رہی ہے، جہاں بحران صرف حالات کا نہیں بلکہ عالمی نظام کی کمزوری اور قیادت کی ناکامی کا بھی آئینہ دار ہے۔ مشرقِ وسطیٰ سے لے کر یورپ، ایشیا اور افریقہ تک ہر خطہ کسی نہ کسی شکل میں کشیدگی، تنازع اور عدم استحکام کا شکار ہے۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا عالمی قیادت واقعی امن چاہتی ہے یا صرف اپنے شیطانی مفادات کو سامنے رکھ کر طاقت کے کھیل میں مصروف ہے؟بڑی طاقتوں کی سیاست اب کھل کر مفادات کی جنگ بن چکی ہے۔ عملی میدان میں طاقتور ممالک اپنے سٹرٹیجک عالمی قوانین کا مذاق اڑاتے ہوئے مفادات کے لیے ہر اصول کو پسِ پشت ڈالنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں تنازعات کم ہونے کے بجائے مزید شدت اختیار کر رہے ہیں۔ایک حالیہ مثال حالیہ ”غزہ بحران“ ہے، جہاں ہزاروں بے گناہ شہری، خصوصاً عورتیں اور بچے، شدید انسانی المیے کا شکار ہوئے۔ عالمی برادری کی غیر م¶ثر اور اکثر خاموش پالیسی نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ انکے نزدیک کیا انسانی جانوں کی کوئی قیمت بھی ہے یا نہیں؟ یہ صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کھلا چیلنج ہے۔

ٹیگز: