22 اپریل 2025 کا پہلگام واقعہ محض ایک سکیورٹی واقعہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسے پرانے اور آزمودہ بھارتی طریقہ واردات کی کڑی تھا جس کے ذریعے ہر بڑے سیاسی موڑ پر ایک نیا بیانیہ تراشا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ پہلی بار ہوا؟ ہرگز نہیں۔ تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو 2001 کا پارلیمنٹ حملہ، 2008 ممبئی واقعات، 2016 اڑی حملہ اور 2019 پلوامہ، ہر واقعے کے فورا بعد بغیر مکمل تحقیقات کے پاکستان پر انگلی اٹھائی گئی، میڈیا ٹرائل شروع ہوا اور پھر اسی بیانیے کو بنیاد بنا کر سیاسی فائدہ اٹھایا گیا۔ پہلگام 2025 بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی دکھائی دیتا ہے، جہاں چند گھنٹوں میں ملزم بھی طے ہو گیا اور فیصلہ بھی سنا دیا گیا۔
23 اپریل 2025 کو پاکستان نے واضح طور پر ایک شفاف، غیر جانبدار اور بین الاقوامی تحقیقات کی پیشکش کی، مگر بھارت نے اسے مسترد کر کے خود اپنے موقف کو مشکوک بنا دیا۔ اگر واقعی ثبوت موجود تھے تو پھر تحقیقات سے خوف کیوں؟ اسی روز مودی نے سلامتی کے حوالے سے کابینہ کمیٹی کا اجلاس بلا کر براہ راست پاکستان پر الزام دھر دیا، جبکہ بھارتی میڈیا نے بغیر تصدیق کے چار افراد کی تصاویر نشر کیں جو بعد میں غلط ثابت ہوئیں۔ یہ محض غلطی نہیں بلکہ ایک منظم پروپیگنڈا مشین کی ناکامی تھی جو جلد بازی میں اپنی ہی کہانی میں پھنس گئی۔
25 اپریل کو بھارت نے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کی دھمکی دے کر ایک اور خطرناک مثال قائم کی۔ یہ وہی معاہدہ ہے جو
1960 سے لے کر آج تک جنگوں کے باوجود قائم رہا، مگر مودی حکومت نے اسے بھی سیاسی ہتھیار بنانے سے گریز نہیں کیا۔ اسی دن بھارتی فضائیہ کا شیوپوری میں اپنے ہی علاقے پر بم گرانا اس بات کا ثبوت تھا کہ جارحانہ بیانیہ بنانے والے خود کتنے غیر تیار اور غیر سنجیدہ ہیں۔
26 اور 27 اپریل کو لائن آف کنٹرول پر فائرنگ، اوڑی ڈیم سے پانی چھوڑ کر دباو ڈالنا، اور بحریہ کے میزائل ٹیسٹ، یہ سب اقدامات ایک ہی سمت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ کشیدگی کو جان بوجھ کر بڑھانا۔ دوسری جانب پاکستان نے نہ صرف 71 دراندازوں کو ہلاک کیا بلکہ واہگہ بارڈر بند کر کے واضح پیغام دیا کہ وہ دفاع کے لیے مکمل تیار ہے، مگر جنگ کا خواہاں نہیں۔
29 اور 30 اپریل کے واقعات نے بھارتی حکمت عملی کو مزید بے نقاب کر دیا۔ پاکستان نے امبالہ ایئربیس سے رات 2 بجے ہونے والے ممکنہ فضائی حملے کا منصوبہ پہلے ہی بے نقاب کر دیا، اور جب بھارتی رافیل طیاروں نے دراندازی کی کوشش کی تو انہیں الیکٹرانک وارفیئر کے ذریعے واپس بھاگنے پر مجبور ہونا پڑا۔ سوال یہ ہے کہ ایک سپر پاور بننے کا دعویدار ملک اگر اس سطح کی منصوبہ بندی میں ناکام ہو رہا ہے تو اس کے بیانیے کی حقیقت کیا رہ جاتی ہے؟۔
7 مئی 2025 کو بھارت نے آپریشن سندور کے نام پر 24 حملے کیے، اسرائیلی HAROP اور دیگر ڈرونز کا استعمال کیا، مگر نتیجہ کیا نکلا؟ اسی دن پاکستان نے 7 بھارتی طیارے مار گرائے اور بھارت کا شاک اینڈ او بیانیہ خود اس کے گلے پڑ گیا۔ 8 اور 9 مئی کو 20 میزائل داغنے کے باوجود کوئی فیصلہ کن برتری حاصل نہ ہو سکی، اور بالآخر 10 مئی کو پاکستان نے آپریشن بنیان مرصوص کے تحت 26 فوجی اہداف کو نشانہ بنا کر واضح کر دیا کہ جواب صرف دفاعی نہیں بلکہ موثر اور متوازن بھی ہو سکتا ہے۔
یہ تمام واقعات ایک خطرناک مگر واضح پیٹرن کو ظاہر کرتے ہیں، بھارت داخلی سیاسی دباو،خصوصا انتخابات سے توجہ ہٹانے کے لیے بیرونی محاذ کو استعمال کرتا ہے، میڈیا کے ذریعے جنگی جنون پیدا کرتا ہے، اور پھر عالمی قوانین کو بھی نظر انداز کر دیتا ہے۔ چاہے وہ پلوامہ کے بعد انتخابی فائدہ ہو یا پہلگام کے بعد بہار انتخابات کا ماحول ہر بار کہانی ایک جیسی نظر آتی ہے، صرف کردار بدلتے ہیں۔
اختتاماً حقیقت یہ ہے کہ بیانیے بند کمروں میں بنائے جا سکتے ہیں، مگر تاریخ کھلے میدان میں لکھی جاتی ہے۔ پہلگام سے لے کر 10 مئی تک کے یہ 18 دن اس بات کا ثبوت ہیں کہ بھارت کا مقدمہ شور پر کھڑا ہے جبکہ پاکستان کا موقف حقائق پر۔
سوال آج بھی وہی ہے اگر ثبوت تھے تو تحقیقات سے انکار کیوں؟ اگر سچ ساتھ تھا تو غلط تصاویر کیوں جاری کی گئیں؟ اور اگر نیت صاف تھی تو بین الاقوامی معاہدوں کو ہتھیار کیوں بنایا گیا؟ سچ یہ ہے کہ جھوٹ جتنا بھی شور مچا لے، آخرکار وہ اپنے تضادات کے بوجھ تلے خود ہی دب جاتا ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں بھارتی بیانیہ لڑکھڑاتا ہے اور حقیقت اپنا راستہ خود بنا لیتی ہے۔