Mon, September 21, 2026

اسی کی دہائی کا ٹرینڈ

اسی کی دہائی کا ٹرینڈ

چپ سائیں چوپال میں براجمان تھے۔ نتھواورپھتو بھی خاموش تھے۔۔چاچا رفیق کے ساتھ ان کے دوپوتے آئے ان کی عمریں لگ بھگ پندرہ اور سولہ برس کی تھیں۔ چاچا رفیق نے باآواز بلند اسلام علیکم کہا۔۔۔ چپ سائیں سمیت سب نے ان کوبھرپور انداز میں جواب دیا۔۔۔ چاچا رفیق نے بات کرنے سے قبل چپ سائیں سے اجازت طلب کی۔ چپ سائیں نے کہا جی بھائی ضرور بتائیں ماجرا کیا ہے؟ چاچارفیق بولے۔۔۔ سائیں جی۔۔ میرے پوتوں نے مجھے دوبارہ اسی کی دہائی کی یاد تازہ کرادی ہے۔ چپ سائیں سمیت سب بیک زبان بولے۔۔۔ بھئی وہ کیسے بھلا۔۔۔ چاچا رفیق نے کہا کہ سائیں جی۔۔۔ دراصل۔۔۔ میرے پوتوں نے سوشل میڈیا پر بہت سے لوگوںکی تصاویر دکھائیں جو اسی کی دہائی کی تھیں ، یہ سب ٹیکنالوجی کا کمال تھا۔۔۔۔ چاچا رفیق فی البدیہہ بولے
آتا ہے یاد مجھ کو گزرا ہوا زمانہ۔۔۔
 اس پر نتھو اور پھتو بولے۔۔۔ چاچا رفیق آپ غالبا بلکہ یقینا اسی کی دہائی کے وائرل ٹرینڈ کی بات کررہے ہیں۔۔۔ دونوںبیک زبان بولے۔۔ سائیں  جی۔۔۔ آج کل سوشل میڈیا پر سب اسی کی دہائی کے ٹرینڈ کی تصاویر لگارہے ہیں۔۔۔ ویسے ہم نے تو وہ دہائی نہیں دیکھی بہت چھوٹے تھے لیکن ان تصاویر کو دیکھ کر لگتا ہے کہ واقعی بہت شاندار وقت ہوگا۔۔۔ سب لوگوں کے بالوں کے انداز، ملبوسات  الغرض سب کچھ انتہائی جاذب نظر ہے۔۔۔۔ نتھو بولا۔۔بھائی پھتو یہ ٹیکنالوجی بھی کمال کی ہے۔۔۔ سائیں جی اس پر آپ کچھ بات کریں۔۔
چپ سائیں نے گفتگو کا آغاز کیا اور کہا بھائی رفیق۔۔۔۔ سچ تو یہ ہے کہ جو وقت گزر جائے وہی اچھا اور جو زمانہ بیت گیا وہی بہترین۔۔۔۔چوپال میںہم دونوں سمیت اور بہت سے لوگ ایسے ہوںگے جنہوں نے اسی کی دہائی کو قریب سے دیکھا ہوگا۔۔ اب ان  بچوں کو کیا علم کہ وہ وقت انتہائی شاندار تھا۔۔۔ لوگ انتہائی سادہ تھے لیکن جب باری لباس کی آتی تو رنگوں سے لے کر سلائی تک اس کا جواب نہیں ملتا۔۔۔ چپ سائیں بات کرتے کرتے چپ کرگئے۔۔۔
توقف کے بعد چپ سائیں بولے۔۔۔شاید ہر نسل اپنے ماضی کے بارے میں یہی کہتی ہے، مگر اسی کی دہائی والوں کے لیے یہ صرف ماضی نہیں ،ان کی جوانی، ان کے خواب اور ان کے عہد کی پہچان ہے۔بھائیو !آج فیشن میں ونٹیج کا رجحان دوبارہ نظر آتا ہے۔ بڑے چشمے، ڈھیلے لباس، کلاسک جیکٹس ، یہ سب باتیں نئی نسل کو بھی اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔شاید اس کی وجہ صرف فیشن نہیں بلکہ اسل مدعا تو یہ ہے کہ انسان جب بہت تیز رفتار حال سے تھک جاتا ہے تو ماضی کی طرف دیکھتا ہے۔ وہ اپنے گزرے وقت کو یاد کرتے خوش ہوتا ہے۔
دوستو!اسی کی دہائی ہمیں شاید اسی لیے اچھی لگتی ہے کہ وہ ہماری یادداشت میں محفوظ ہے۔وہ ایک ایسا زمانہ تھا جب فیشن کپڑوں سے شروع ہو کر موسیقی تک جاتا تھا۔نتھو اور پھتو سچ ہے کہ کیا زمانہ تھا، انتہائی سادہ واقعی گزر گیا کیونکہ وقت  نے تو گزر ہی جانا ہوتا ہے ۔ اسی کی دہائی  ہماری تصویروں میں، ہمارے فیشن میں  اور ہماری یادوں میں زندہ ہے۔بھائیو!اسی کی دہائی کو صرف "فیشن کی پرانی دہائی" کہنا اس کے ساتھ ناانصافی ہے۔ یہ دراصل پاکستانی شہری ثقافت کے ایک ایسے مرحلے کی کہانی تھی جہاں نوجوان نسل نے دستیاب محدود ذرائع کے باوجود اپنی پسند، اپنی موسیقی اور اپنا سٹائل پیدا کیا۔
نتھو اور پھتو ایک دلچسپ بات بتائوں۔۔ آج کے دور  میں تو موسیقی سننے کے لیے مختلف پلیٹ فارمز ہیں لیکن اس دور میں موسیقی سننا بھی آج کی طرح آسان نہیں تھا۔ نہ سٹریمنگ پلیٹ فارم نہ یوٹیوب، نہ سوشل میڈیا بلکہ ایک کیسٹ، ریڈیو پروگرام، ٹیلی ویژن پر چند منٹ کی پیشکش ہی موسیقی کو پھیلانے کا ذریعہ ہوتی تھی۔ پی ٹی وی کے ڈراموں نے خاص طور پر خواتین کے لباس اور گھریلو ثقافت پر گہرا اثر ڈالاتھا اور لوگ اخبارات اور میگزینز کو سٹال پر دیکھ کر نت نئے فیشن سٹائل کو ڈھالتے تھے۔آج جب اسی کی دہائی کا فیشن دوبارہ دکھائی دیتا ہے تو ہمیں شاید سب سے پہلے لمبے بال، شوخ رنگ اور بہت منفرد باتیں یاد آتی ہیں۔ مگر اس دور کی اصل کہانی ان چیزوں سے کہیں بڑی تھی۔ یہ ایک ایسے معاشرے کی کہانی تھی جہاں فیشن، موسیقی اور ٹیلی ویژن محض تفریح نہیں تھے بلکہ سماجی تبدیلی کے اشارے تھے۔لوگ ایک دوسرے سے دور نہیں بلکہ ایک دوسرے کے انتہائی قریب تھے۔ لوگوںکے پاس پیسہ اگرچہ کم تھا لیکن دل اور دسترخوان اتنے وسیع تھے کہ کھانا پکاکر ہمسائیوں کے گھر بھی بھجوادیاجاتا تاکہ محبت بڑے اور اس سے احساس کا جذبہ بھی بیدار ہوتا۔۔
چپ سائیں بولے۔۔۔ بھائی رفیق آپ کو یاد ہوگا کہ اس دور میں بوتیکس نہیں ہوتی تھیں۔کپڑا بازار سے آتا، ڈیزائن ذہن میں بنتا، اخبار یا رسالے سے کوئی تصویر کاٹ کر درزی کو دی جاتی اور پھر ایک نیا لباس تیار ہوتا۔ عید سے پہلے درزیوں کے پاس اتنا رش ہوتا اور گھر کی خواتین کپڑے، لیس، بٹن اور کڑھائی کے نمونے لے کر بیٹھ جاتیں۔ لباس صرف پہننے کی چیز نہیں  ہوتا تھا بلکہ اسے بنانے میں بھی ایک خوشی شامل تھی۔ 
بھائیو اور دوستو!آج جب ہم اسی کی دہائی کو یاد کرتے ہیں تو شاید ہمیں سب سے زیادہ اس زمانے کی سادگی اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ زندگی میں سہولتیں کم تھیں، مگر چیزوں کے ساتھ تعلق گہرا تھا۔ ایک کیسٹ بار بار سنی جاتی تھی، ایک لباس کئی برس تک سنبھال کر رکھا جاتا تھا۔ 
آج ہم نے بہت زیادہ ترقی کرلی ہے، زندگی ہاتھ میں سمٹ آئی ہے اور ایک انگلی کی مدد سے ہم دنیا بھر کے لوگوں سے رابطہ کرلیتے ہیں۔زندگی کی رفتار بہت تیز ہوگئی ہے اوراسی رفتار میں اپنائیت پیچھے رہ گئی ہے۔ اسی لیے جب کوئی پرانی دھن اچانک سنائی دیتی ہے یا کسی الماری سے اسی دور کا لباس نکل آتا ہے تو دل چند لمحوں کے لیے موجودہ زمانے سے نکل کر ماضی کی طرف چلا جاتا ہے۔بھائی رفیق آپ کے ساتھ بھی یہی ہوا اور آپ نے جب اسی کی دہائی کی تصاویر دیکھیں تو آپ واپس اسی دہائی  اور اسی زمانے میںکھوگئے حتی کی چوپال میں بھی  بات کرنے کے لیے آگئے۔
صاحبو!وقت نے اسی کی دہائی کو ہم سے بہت دور پہنچا دیا، مگر یادوں نے اسے آج بھی ہمارے قریب رکھا ہوا ہے ، وہ لوگ جنہوں نے اس دہائی کو دیکھا تک نہیں۔۔ ٹیکنالوجی کی مدد سے خود کو اس میں ڈھال رہے ہیں ، وہ یہ دیکھنا چاہتے ہیںکہ وہ کیسے دکھتے ہیں۔۔۔پھر سچ تو یہ ہے کہ ماضی لوٹ کر نہیں آتا لیکن یادیں ہمارے ذہن میں زندہ رہتی ہیں۔۔۔ رہے نام اللہ کا!۔

ٹیگز: