Wed, September 16, 2026

رب کوراضی کر لیں

رب کوراضی کر لیں

شہر کے جاگیرداروں کا نہیں پتہ لیکن گاؤں کے غریب کسان اور زمیندار جب تک گندم، مکئی اور چاول سمیت زمین میں ہونے والی دیگر فصلوں سے زکوٰۃ، صدقات اور خیرات نہ نکالتے تب تک وہ حشر والی میدان نما کھیت سے فصل نہیں اٹھاتے تھے۔ ہمیں اچھی طرح یاد ہے نہ صرف ہمارے آبائی گاؤں جوز، ڈھیری بلکہ آس پاس کے تمام چھوٹے بڑے علاقوں میں بھی جب لوگ مکئی، گندم یا چاول کی فصل کاٹ اور صاف کر کے ایک جگہ جمع کرتے تو پھر اٹھانے اور گھر لے جانے سے پہلے وہیں پر گاؤں کے امام، مستری اور نائی کا حصہ بھی نکال کر اپنا کام اور فرض پورا کر دیتے تھے۔ ایسا کوئی کسان اور زمیندار نہیں ہوتا تھا جس کی فصل چاہے وہ گندم کی ہو، مکئی یا پھر چاول کی اس میں زکوٰۃ، صدقات اور خیرات کے ساتھ گاؤں کے امام، مستری اور نائی کا حصہ نہ ہو۔ غریب سے غریب کسان اور زمیندار بھی زکوٰۃ، صدقات اور خیرات نکالے بغیر دانے گھر نہیں لیکر جاتے تھے۔ اللہ سے ڈر و خوف اور اپنوں و غریبوں سے محبت کا نتیجہ تھا کہ کوئی کسان اور زمیندار بدحال اور پریشان نہیں تھا۔ جب تک کسانوں اور زمینداروں کو خدا، اقرباء اور غریب یاد رہے تب تک یہ خوشحال رہے لیکن جب یہ زکوٰۃ اور خیرات بھول گئے تو ان کی زمینوں اور فصلوں سے برکت کیا؟ برکت کے سائے بھی اٹھ گئے۔ آج وہی زمینیں، گندم، مکئی اور چاول کی وہی فصلیں ہیں لیکن برکت اور خوشحالی کا نام و نشان نہیں۔ گندم، مکئی اور چاول کے وہ دانے جو کسانوں اور زمینداروںکے علاوہ کئی اور لوگوں اور خاندانوں کیلئے کافی ہو جاتے تھے وہی دانے اب کسانوں اور زمینداروں کے اپنے بچوں اور خاندان کے لئے پورے نہیں ہو رہے۔ آج کھیتوں میں پہلے سے بڑھ کر چاول، مکئی و گندم کی فصل اور سبزیاں کاشت کرنے کے باوجود کسان اور زمیندار رو رہے ہیں۔ بڑے بھائیوں جیسے ہمارے ایک دوست ہیں۔ ڈاکٹرخرم جو ایوب میڈیکل کمپلیکس ایبٹ آبادکے اس وقت ڈی ایم ایس ہیں جن سے ہمارا بھائیوں جیسا پیار اور محبت والا تعلق ہے۔ وہ اکثر کہا کرتے ہیں کہ جولوگ زکوٰۃ، صدقات اور خیرات کی مد میں اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں پھر کھڑی فصلوں کی تباہی کے ساتھ کورٹ کچہریوں، تھانوں اور ہسپتالوں میں ایک کی جگہ دو نہیں بلکہ تین تین اور چار چار لگانا و خرچ کرنا پڑتے ہیں۔ اپنے آبائی ضلع بٹگرام میں طوفانی بارش اور ژالہ باری سے مکئی اور چاول کی کھڑی تیار فصلوں کو تباہ ہوتے دیکھ کر ڈاکٹر خرم کی باتیں بار بار یاد آنے لگتی ہیں۔ امسال طوفانی بارش، سیلاب اور ژالہ باری سے جس طرح لوگوں کی کھڑی فصلیں تباہ ہو گئی ہیں اس میں عقل والوں کے لئے ایک نہیں کئی بڑی نشانیاں ہیں۔ جب تک لوگ اپنے مال اور فصلوں سے غرباء اور اقربا کو زکوٰۃ، صدقات اور خیرات دیا کرتے تھے تب تک ان کے مال اور فصلوں کو سیلاب، بارش، ژالہ باری، آندھی اور طوفان سے کچھ نہیں ہوتا تھا۔ جب سے ہم نے خدا کا خوف دل سے نکال کر اپنے مال اور فصلوں سے زکوٰۃ، صدقات اور خیرات نکالنا و دینا چھوڑ دیا ہے تب سے سیلاب، بارش اور طوفان ہم اور ہمارے مال و فصلوں پر ایسے طاقتور ہو گئے ہیں کہ اللہ کی پناہ۔ کھیتوں میں مکئی اور چاول کی کھڑی پکی فصلوں کو تباہ ہوتے دیکھ کر اپنی حرص، لالچ اور کم عقلی پر افسوس ہوتا ہے۔ نادان سیلاب، طوفان اور بارش کو اللہ کا عذاب کہتے ہیں لیکن یہ حقیقت میں ہمارے ہاتھوں کی وہ کمائی ہے جو ہم برسوں سے جانے و انجانے میں اپنے ان گنہگاروں ہاتھوں سے بار بار کما رہے ہیں۔ جب سے ہم نے اپنے دلوں سے اللہ کا ڈر و خوف نکال کر اللہ کی غریب مخلوق کو بھلا دیا ہے تب سے سیلاب، بارش، آندھی و طوفان کو ہم سے بھی کوئی ڈر اور خوف نہیں رہا ہے۔ پہلے بارش اور طوفان ہمارے گھروں اور کھیتوں کو دیکھ کر راستہ بدل دیتے تھے لیکن اب وہی بارش ہم پر اس طرح قہر بن کر برسنے لگتی ہے کہ اکثر اوقات خوف آنے لگتا ہے۔ آزمائش پر آزمائش اور طوفان کے بعد ایک نیا طوفان، لگتا ہے ہمارا رب کہیں ہم سے بہت ناراض ہے۔ رب راضی ہو تو موسم، بارش، طوفان اور سیلاب کی کیا مجال کہ یہ کسی کی طرف مڑ کر بھی دیکھیں۔ موسمیاتی تبدیلی اپنی جگہ لیکن ہمیں اپنی تبدیلیوں پر بھی ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ غور کرنا ہو گا۔ کسان ہے یا زمیندار، جاگیردار ہے یا کوئی سرمایہ دار ہر شخص اور فرد کو اپنے گریبان میں جھانک کر صرف ایک بار اپنے آپ سے یہ سوال ضرور کرنا چاہیے کہ کیا ہم تبدیل نہیں ہوئے۔؟ ہمار ے آباء و اجداد اور بزرگ کیا کرتے تھے اور اب ہم کیا کرنے لگے ہیں۔ کیا ہمارے بزرگ اور بڑے انہی کھیتوں سے گندم، مکئی، چاول، سبزیوں اور فروٹ میں غریبوں اور رشتہ داروں کو حصہ نہیں دیتے تھے۔؟ ہمارے بزرگ اگر معمولی فصل میں یہ حصے نکال سکتے تھے تو پھر ہم کیوں نہیں نکال سکتے؟ مال و زر پہلے سے کوئی کم نہیں، پہلے جن لوگوں کے پاس کچھ نہیں تھا آج ان کے پاس بھی سب کچھ ہے، بات زمین میں فصل نہ ہونے کی بھی نہیں، پہلے تو بہت ساری زمینیں بنجر تھیں اب وہ بنجر زمینیں بھی فصل کاشت کرنے لگی ہیں۔ مسئلہ صرف دلوں کا ہے۔ دنیا وسیع ہو گئی ہے مگر دل ہمارے سکڑ گئے ہیں۔ ایک دوسرے کے لئے ادب، احترام اور احساس کا جو رشتہ اور جذبہ پہلے دلوں میں ہوتا تھا آج وہ نہیں۔ سچ یہ ہے کہ ہم دنیا کی مستی میں اس قدر ظالم اور اندھے ہو گئے ہیں کہ ہم نے دوسروں پر رحم کرنا ہی چھوڑ دیا ہے اور یہ قانون فطرت ہے کہ جو دوسروں پر رحم نہیں کرتا اللہ پھر اس پر بھی رحم نہیں کرتا۔ اس لیے ہم سب کو سچے دل سے توبہ کر کے اپنے رب سے معافی مانگنی چاہیے۔ رب کی ذات بڑی رحمت و شفقت والی ہے وہ ستر مائوں سے بھی زیادہ اپنے ایک بندے سے پیار کرتے ہیں وہ ہمیں معاف کر دیں گے۔ ان آزمائشوں، تکلیفوں، پریشانیوں اور بلائوں سے بچنے کے لیے موسم نہیں ہماری اپنی تبدیلی ضروری ہے۔ جب تک ہم خود کو تبدیل نہیں کرتے تب تک اس رونے اور دھونے سے کچھ نہیں ہو گا۔

ٹیگز: