سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا دورہ امریکہ عالمی سطح پر خبروں کا موضوع بنا ہوا ہے۔ امریکہ دنیا کی سپریم طاقت ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کی اس حیثیت پر اصرار بھی کرتے ہیں اور منوانے کے لئے بھی ڈٹے اور تلے ہوئے ہیں۔ امریکہ سفید آدمی کی برتری اور تہذیب مغرب کی نمائندہ ریاست ہے۔ یہ ریاست پوری دنیا میں بسنے والوں کے لئے ارضی جنت کی حیثیت رکھتی ہے۔ ترقی و بڑھوتی کے لامحدود امکانات رکھنے والا ملک چین کے مقابلے میں پریشان ہے۔ دھونس دھاندلی کے ساتھ اپنی بڑائی پر اصرار کرتے رہنے نے اس ملک کی اخلاقی برتری میں خاصی کمی کر دی ہے۔ رہی سہی کسر صیہونیت کی سپورٹ کرنے اور اسرائیل کی بے جا حمایت نے امریکی عالمی برتری کی قبولیت میں کمزوری اور ضعف کے آثار نمایاں کرنا شروع کر دیئے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف 20سالہ جنگ نے امریکی برتری کے بت میں دراڑیں ڈال دی ہیں۔ رہی سہی کسر حماس کی اسرائیل کے خلاف حالیہ 2سالہ جدوجہد نے نکال دی ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ امریکہ کی بگڑتی اور اکھڑتی عالمی چودھراہٹ کو برقرار رکھنے میں مصروف ہیں۔ جنگ کی بجائے امن کی باتیں کرنے دکھائی دیتے ہیں۔ استحصال اور پابندیوں کی بجائے کاروبار کو فروغ دینے کی باتیں کر رہے ہیں۔ دوسری طرف عالم اسلام کی روحانی سپرپاور سعودی عرب ہے جو ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں سعودی عرب کو حقیقی اور اصلی مسلم قیادت ثابت کرنے کی جدوجہد کر رہا ہے۔ محمد بن سلمان سعودی عرب کو حقیقی اور اصلی مسلم قیادت ثابت کرنے کی جدوجہد کر رہا ہے۔ محمد بن سلمان سعودی عرب کو ماڈرن آﺅٹ لک دینے کے لئے کئی جوہری تبدیلیوں سے ہمکنار کر رہے ہیں۔ تیل کی دولت پر انحصار کرنے کی پالیسی سے انحراف کیا جا رہا ہے۔ معیشت کو کثیر جہتی انداز میں آگے بڑھانے اور مضبوط بنانے کی کاوشیں کی جا رہی ہیں۔ امریکہ کے ساتھ تعلقات کو نئے انداز میں استوار کیا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے امریکہ سعودی عرب کو اپنی طفیلی ریاست کے طور پر ڈیل کرتا تھا لیکن اب معاملات دو طرفہ اور برابری کی سطح پر آگے بڑھائے جا رہے ہیں۔ حماس اسرائیل جنگ کے دوران اور اس کے بعد امن معاہدے کے وقت سعودی عرب کا عالم اسلام کے قائد کے طور پر کردار سامنے آیا۔ سعودی قیادت نے کھل کھلا کر فلسطینی کاز پر بات کی۔ ایران پر اسرائیلی حملے کی مذمت کی، ایسا ہی رویہ حالیہ امریکی دورے کے دوران دیکھنے میں آیا ہے۔ امریکی صدر نے سعودی عرب کو نان نیٹو اتحادی قرار دیا ہے۔ سعودی عرب نے امریکہ سے 142 ارب ڈالر کا اسلحہ خریدنے کا کہا ہے۔ امریکہ سعودی عرب کو ایف35 لڑاکا طیارے دے گا۔ سعودی عرب ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ امریکی صدر کے ابراہام اکارڈ کرنے کے اصرار پر کہا کہ ایسا کرنا فلسطینی ریاست کے قیام کے ساتھ مشروط ہو گا۔ دو ریاستی فارمولے کے مطابق فلسطینیوں کی ایک آزاد ریاست کا قیام ہو گا تو پھر اسرائیل کے ساتھ بات ہو گی، اسے جانا جائے گا مانا جائے گا۔ یہ جرا¿ت کہ عالمی چودھری کے پہلو میں بیٹھ کر اس کے پسندیدہ بچے، اسرائیل کے خلاف بات کرنا، سعودی قیادت کا ہی خاصا ہے۔ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکہ میں، امریکی صدر کے ساتھ بیٹھ کر جس انداز میں بات کی اس سے نہ صرف ان کی ذاتی حیثیت کی بلندی کا سکہ جما بلکہ سعودی عرب کی عالم اسلام کی قیادت کا ایشو بھی طے ہو گیا ہے۔
اس بارے میں تو کسی کو شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ ریاست اسرائیل برطانیہ عظمیٰ کی تخلیق ہے۔ پہلی جنگ عظیم کے دوران صیہونیوں نے پلاننگ کے ساتھ برطانوی مقتدرہ کے ساتھ روابط استوار کئے اور اس کا نتیجہ باالغور ڈکلیئریشن کی صورت میں سامنے آیا یہی دستاویز 1948ءمیں اسرائیل کے قیام کی بنیاد بنا۔ دوسری جنگ عظیم برطانیہ عظمیٰ کے خاتمے اور امریکہ کے عالمی نقشے پر ابھرنے کا باعث بنی۔ اس نے اسرائیل کی تعمیر و حفاظت کا ذمہ لے لیا۔ امریکی خارجہ پالیسی میں یہ سب کچھ شامل ہے۔ اسرائیل کی بقائ، حفاظت اور تعمیر و ترقی امریکی پالیسی کے بنیادی پتھر ہیں۔ اسرائیل عربوں کے مقابلے میں ایک دن بھی کھڑا نہیں ہو سکتا ہے۔ اگر اسے برطانوی امریکی و دیگر عیسائی اقوام کی حمایت حاصل نہ ہو، حماس اسرائیل حالیہ جنگ کو دیکھ لیں۔ حماس کے فدائین نے اسرائیل کا جو حشر کیا کیا یہ اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ اسرائیل ہرگز ہرگز ناقابل تسخیر نہیں ہے۔ اگر اس جنگ میں امریکہ و اقوام مغرب اسرائیل کی مدد نہ کرتیں تو اسرائیل آج کہاں ہوتا پھر ایران اسرائیل جنگ کو دیکھ لیں ایرانی میزائلوں نے اسرائیل کے ساتھ جو کچھ کیا وہ کیا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ یہ ریاست ناقابل تسخیر نہیں ہے۔ ہر دو صورتوں میں امریکہ کو براہ راست میدان میں کودنا پڑا وگرنہ اسرائیل کا حشر نشر ہو چکا ہوتا۔ مصری صدر جمال عبدالناصر نے کہا تھا کہ ہم اسرائیل کے ساتھ لڑ سکتے ہیں، اسے شکست دے سکتے ہیں لیکن امریکہ کے ساتھ لڑنا ہمارے بس میں نہیں ہے۔ اسرائیل کے لئے امریکی حمایت و مدد اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ مشرق وسطیٰ اگر آج آتش و آہن کے مہیب گڑھے کے کنارے کھڑا ہے تو اس کی وجہ برطانیہ کے ہاتھوں اسرائیل کی تخلیق اور اس کے بعد امریکہ کا اس کی جائز ناجائز حمایت و مدد کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ صیہونیت کے امریکی نظام سیاست، صحافت، معیشت و معاشرت پر قبضے کے عالمی طاقت کو اپنی حمایت اور دیگر اقوام کے خلاف صف آرا کردیا ہے۔ تہذیبی جنگ کے فلسفے کے ذریعے امریکی طاقت مسلمانوں کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد تہذیبی جنگ کے اجراءنے مسلمانوں پر امریکی صیہونی گٹھ جوڑ بے نقاب کر دیا ہے۔ 2001ءمیں دہشت گردی کے خلاف شروع کی جانے والی نام نہاد جنگ نے اس گٹھ جوڑ کو مکمل طور پر بے نقاب کر دیا ہے۔ عالم عرب میں بھی اس حوالے سے بیداری پائی جاتی ہے، اس کا اظہار ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے امریکہ کے دورے کے دوران بھی ہوا ہے۔ انہوں نے امریکی صدر کی شدید خواہش کے برعکس ابراہام اکارڈ میں شمولیت سے انکار کر دیا حالانکہ عالمی میڈیا میں خبریں آرہی تھیں کہ پاکستان نے ابراہام اکارڈ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ پہلے سعودی عرب ایسا کرے گا اور پھر پاکستان اس کی تقلید کرے گا لیکن ایسا نہیں ہو سکا ہے۔ محمد بن سلمان نے اسے فلسطین کی آزاد ریاست کے قیام کے ساتھ مشروط کیا۔ دو ریاستی حل کا ذکر کیا ظاہر ہے ایسا امریکی خواہشات اور توقعات کے بالکل برعکس تھا۔
جہاں تک پاکستان کے موقف کا تعلق ہے تو وہ بالکل واضح ہے۔ پاکستان عالمی سطح پر جانے اور مانے گئے دو ریاستی فارمولے کے تحت 1967ءکے جغرافیے کے مطابق فلسطین کے قیام کا حامی ہے جس کا دارالحکومت القدس ہو۔ پاکستان کا یہ موقف کسی شک و شبے سے بالاتر ہے ، یہ پاکستان کا ریاستی و قومی موقف ہے جس سے کوئی بھی حکومت انکار نہیں کر سکی ہے اور نہ ہی آنے والی کوئی بھی حکومت انکار کر سکے گی۔