پاکستان کی معیشت کئی برسوں سے توانائی بحران، گردشی قرضوں، بجلی چوری، لائن لاسز اور ناقص انتظامی ڈھانچے جیسے سنگین مسائل کا شکار رہی ہے۔ انہی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حکومتِ پاکستان نے فیصل آباد،اسلام آبادسپلائی کمپنیوں اور گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی کی نجکاری کا عمل شروع کرتے ہوئے مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں سے اظہارِ دلچسپی طلب کرلیا ہے۔ حکومت اسے توانائی کے شعبے میں اصلاحات، سرمایہ کاری اور بہتر کارکردگی کی جانب ایک اہم قدم قرار دے رہی ہے، تاہم اس فیصلے کا جائزہ لیتے وقت پاکستان میں پہلے سے نجی شعبے کے تحت کام کرنے والی کے الیکٹرک کے تجربے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔کے الیکٹرک پاکستان میں بجلی کی تقسیم اور فراہمی کا واحد بڑا نجی ادارہ ہے، جسے ماضی میں کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن (کے ای ایس سی) کے نام سے جانا جاتا تھا۔ 2005 میں اس کی نجکاری اس امید کے ساتھ کی گئی تھی کہ نجی انتظام کے ذریعے کراچی جیسے بڑے اور معاشی اعتبار سے اہم شہر میں بجلی کی فراہمی بہتر ہوگی، لوڈشیڈنگ میں کمی آئے گی اور ادارہ مالی طور پر مستحکم ہوگا۔ ابتدا میں کے الیکٹرک کو شدید تنقید اور مالی بحران کا سامنا رہا، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ اس کمپنی نے اپنے انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کی، بجلی پیداوار کے منصوبے لگائے، جدید ٹرانسمیشن نظام متعارف کرایا اور کئی علاقوں میں لوڈشیڈنگ میں واضح کمی لائی۔اگر کے الیکٹرک کی کارکردگی کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے تو اس کی نجکاری کو مکمل ناکامی بھی قرار نہیں دیا جاسکتا اور نہ ہی اسے سو فیصد کامیاب ماڈل کہا جاسکتا ہے۔ کامیابی کے پہلو¶ں میں دیکھا جائے تو کراچی کے کئی صنعتی اور تجارتی علاقوں میں بجلی کی فراہمی ماضی کے مقابلے میں زیادہ مستحکم ہوئی، ریکوری بہتر ہوئی، بجلی چوری میں کچھ حد تک کمی آئی اور کمپنی نے اربوں روپے کی سرمایہ کاری بھی کی۔ خاص طور پر صنعتی صارفین کے لیے نسبتاً بہتر سپلائی نے معاشی سرگرمیوں میں مدد فراہم کی۔دوسری جانب صارفین کی ایک بڑی تعداد آج بھی کے الیکٹرک کے خلاف شکایات رکھتی ہے۔ مختلف علاقوں میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، زائد بلنگ، خراب کسٹمر سروس، اوور بلنگ اور بلند نرخ عوامی ناراضی کا سبب بنتے رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ نجی شعبہ بنیادی طور پر منافع پر توجہ دیتا ہے، اس لیے اگر مضبوط ریگولیٹری نگرانی موجود نہ ہو تو عوامی مفاد متاثر ہوسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کے الیکٹرک کی نجکاری کا تجربہ پاکستان میں نجکاری کے ہر نئے منصوبے کے ساتھ بطور مثال پیش کیا جاتا ہے۔فیسکو، گیپکو اور آئیسکو کی نجکاری کے تناظر میں کے الیکٹرک کا ماڈل کئی اہم اسباق فراہم کرتا ہے۔ سب سے اہم سبق یہ ہے کہ صرف نجکاری خود مسائل کا مکمل حل نہیں ہوتی بلکہ اس کے ساتھ مضبوط ریگولیٹری نظام، شفاف معاہدے، سخت نگرانی، صارفین کے حقوق کا تحفظ اور کارکردگی کی واضح شرائط ضروری ہوتی ہیں۔ اگر حکومت ان پہلو¶ں پر توجہ نہیں دیتی تو نئی نجکاری بھی عوامی تنقید کا شکار ہوسکتی ہے۔
کے الیکٹرک میں نئی قیادت، خصوصاً چیئرمین شہریار علی ملک اور سی ای او سید محمدطحہ کی تقرری کو توانائی شعبے میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔ دونوں شخصیات مالیاتی، توانائی اور کارپوریٹ مینجمنٹ کے وسیع تجربے کی حامل ہیں، اس لیے توقع کی جارہی ہے کہ وہ ادارے میں کئی بنیادی اور اسٹریٹجک تبدیلیاں متعارف کراسکتے ہیں۔سب سے اہم تبدیلی ادارے کی انتظامی اور آپریشنل کارکردگی میں بہتری ہوسکتی ہے۔ سید محمد طحہٰ اس سے قبل پاور ڈسٹری بیوشن، آئل اینڈ گیس اور انٹرنیشنل انرجی مارکیٹس میں کام کرچکے ہیں، جبکہ وہ ماضی میں کے الیکٹرک کے چیف ڈسٹری بیوشن آفیسر بھی رہ چکے ہیں۔شہریار علی ملک اورسید محمد طحہ اپنے تجربے کی بنیاد پر قوی امکان ہے کہ بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے نظام کو زیادہ م¶ثر، جدید اور صارف دوست بنانے پر توجہ دیں گے۔ اور جن تبدیلیوں کی توقع کی جارہی ہے ان میں لوڈشیڈنگ میں کمی اور اسمارٹ گرڈ سسٹم تکنیکی خرابیوں کو کم کرسکتی ہیں ۔ کے الیکٹرک کا سب سے بڑا مسئلہ بجلی چوری اور ریکوری کا رہا ہے۔ توقع ہے کہ کے ای کی نئی انتظامیہ ٹیکنالوجی بیسڈ مانیٹرنگ، اسمارٹ میٹرز اور خصوصی انفورسمنٹ ماڈل متعارف کرائیں گے جبکہ کراچی کے صارفین کی سب سے بڑی شکایت خراب کسٹمر سروس، زائد بلنگ اور شکایات کے تاخیر کے مسائل بھی حل کئے جانے کی توقع ہے تاکہ ادارے کا امیج بہتر ہوسکے۔ چیئرمین شہریار چشتی کا تعلق سرمایہ کاری اور مالیاتی شعبے سے رہا ہے، اس لیے امکان ہے کہ وہ مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس کے نتیجے میں نئے گرڈ اسٹیشنز، ٹرانسمیشن لائنز اور قابلِ تجدید توانائی منصوبوں میں سرمایہ کاری بڑھ سکتی ہے۔ دنیا بھر میں سولر اور ونڈ انرجی کی جانب رجحان بڑھ رہا ہے۔ نئی انتظامیہ کراچی میں گرین انرجی منصوبوں، سولر انٹیگریشن اور بیٹری اسٹوریج سسٹمز کی طرف پیش رفت کرسکتی ہے تاکہ مہنگے فرنس آئل پر انحصار کم ہو۔ کے الیکٹرک ماضی میں نیپرا، وفاقی حکومت اور صوبائی اداروں کے ساتھ ٹیرف اور سبسڈی معاملات پر تنازعات کا شکار رہی ہے۔ نئی قیادت بہتر پالیسی رابطوں اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کے ذریعے ان مسائل کو کم کرنے کی کوشش کرسکتی ہے۔تاہم اصل چیلنج صرف انتظامیہ کی تبدیلی نہیں بلکہ کراچی کے پیچیدہ زمینی حقائق ہیں۔ بجلی چوری، کُنڈا کلچر، سیاسی دبا¶، پرانا انفراسٹرکچر اور بڑھتی ہوئی طلب جیسے مسائل اب بھی موجود ہیں۔ اگر نئی قیادت شفافیت، ٹیکنالوجی، میرٹ اور صارفین کے اعتماد پر توجہ دیتی ہے تو کے الیکٹرک نہ صرف اپنی ساکھ بہتر بناسکتی ہے بلکہ پاکستان کے دیگر ڈسکوز کے لیے بھی ایک کامیاب ماڈل بن سکتی ہے۔تاہم اصل سوال یہ ہے کہ کیا حکومت ماضی کی غلطیوں سے سیکھ پائے گی؟ کے الیکٹرک کے تجربے نے ثابت کیا کہ نجکاری کے بعد بھی حکومتی نگرانی، نیپرا جیسے اداروں کی خودمختاری اور صارفین کے تحفظ کا نظام انتہائی اہم ہوتا ہے۔ اگر حکومت صرف مالی بوجھ کم کرنے کے لیے نجکاری کرتی ہے اور عوامی مفاد کو ثانوی حیثیت دیتی ہے تو نتائج متنازع ہوسکتے ہیں۔ لیکن اگر اس عمل کو مکمل شفافیت، مضبوط پالیسی، واضح احتساب اور قومی مفاد کے تحت آگے بڑھایا جائے تو یہ پاکستان کے توانائی شعبے میں ایک حقیقی انقلاب ثابت ہوسکتا ہے۔بلاشبہ پاکستان کا توانائی شعبہ اس وقت ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ فیسکو، گیپکو اور آئیسکو کی نجکاری نہ صرف معاشی اصلاحات کا امتحان ہوگی بلکہ یہ بھی طے کرے گی کہ آیا پاکستان نجی شعبے کی شمولیت کے ذریعے واقعی م¶ثر، جدید اور عوام دوست توانائی نظام قائم کرسکتا ہے یا نہیں۔ کے الیکٹرک کا تجربہ اس راستے میں ایک اہم سبق بھی ہے اور ایک تنبیہ بھی۔