وزیر اعظم شہباز شریف نے نا صرف پیٹرول کی قیمتوں میں74.28 روپے اور ڈیزل کی قیمتوں میں 67.31 روپے کمی کا اعلان کر دیا ہے (میں نے تو تبرک کے طور پر صبح صبح ہی سستا پیٹرول ڈلوا بھی لیا ہے) بلکہ انہوں نے ایک مشکل صورتحال میں حکومت کا ساتھ دینے پر عوام کا شکریہ بھی ادا کیا ہے۔ اچھی بات ہے کہ وزیر اعظم کو اپنا یہ وعدہ یا د رہا کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہونے پر انہوں نے اپنے عوام کو بھی ریلیف مہیا کرنا ہے۔ اس کے علاوہ وہ مشکل حالات میں ساتھ دینے پر عوام کا شکریہ ادا کرنا بھی نہیں بھولے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ اس موقع پر حکومت کچھ ایسا فارمولا بنانے کی بھی کوشش کرے کہ اگر خدا نخواستہ کبھی ملک کو کسی مشکل صورتحال کا سامنا ہو تو غریب اور امیر پر ایک جیسا بوجھ نہ پڑے۔ یعنی صاحب حیثیت لوگ زیادہ بوجھ برداشت کریں اور غریب آدمی پر اس کے اثرات کم از کم ہوں۔
گزشتہ روز حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کی جانے والی کمی بظاہر تو کافی بڑی معلوم ہوتی ہے۔اس سلسلہ میں سوشل میڈیا پر بھی مختلف تبصرے سامنے آرہے ہیں۔ کچھ لوگوں نے اسے حکومت کا بہترین فیصلہ قرار دے رہے ہیں جبکہ کچھ کا کہنا ہے کہ یہ حکومت کا کوئی احسان نہیں بلکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہونے کا نتیجہ ہے ۔ عوام کو صرف ان کا حق دیا گیا ہے۔ یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پاکستان اپنی ضرورت کا زیادہ تر خام تیل درآمد کرتا ہے۔ جب عالمی مارکیٹ میں خام تیل مہنگا ہوتا ہے تو حکومت بھی پیٹرول کی قیمتیں بڑھانے کا جواز پیش کرتی ہے۔ عوام کو بتایا جاتا ہے کہ چونکہ درآمدی قیمت بڑھ گئی ہے، اس لیے اضافہ ناگزیر ہے۔ اگر اسی اصول کو درست تسلیم کر لیا جائے تو پھر جب عالمی منڈی میں تیل سستا ہوتا ہے تو اس کا فائدہ بھی عوام تک پہنچنا چاہیے۔ یہی انصاف کا تقاضا ہے اور یہی معاشی اصول بھی ہے۔
یہاں یہ سوال تو ذہن میں آتا ہی ہے کہ جب قیمتیں بڑھتی ہیں تو حکومت کہتی ہے کہ بین الاقوامی مارکیٹ مجبور کر رہی ہے، لیکن جب قیمتیں کم ہوتی ہیں تو اسے اپنی کامیابی کے طور پر پیش کرتی ہے۔ اگر اضافہ حکومت کی مجبوری تھا تو کمی بھی عوام کا حق ہے۔
اس دلیل میں یقینا کافی وزن ہے لیکن حکومت کے کردار کو بھی نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ کسی بھی حکومت کو قیمتوں کا تعین کرتے وقت کئی عوامل کو سامنے رکھنا پڑتا ہے۔ ڈالر کی قیمت، درآمدی اخراجات، ٹیکس، لیوی، ترقیاتی منصوبے، بجٹ خسارہ اور آئی ایم ایف جیسے اداروں کے ساتھ معاہدے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس لیے بات اس حد تک تو درست ہے کہ حکومتی فیصلے بظاہر نظر آنے والی صورتحال کے تابع نہیں ہوتے، لیکن اس بات کی تو کوشش کی ہی جانی چاہیے کہ مشکل فیصلوں کا بوجھ عوام پر کم از کم پڑے۔
اگرچہ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان تو کر دیا ہے لیکن اس بات کو یقینی بنانا کہ اس مثبت فیصلے کے اثرات بھر پور انداز میں عوام تک پہنچ سکیں بھی حکومت کی ہی ذمہ داری ہے۔ چونکہ بسوں، ویگنوں، کوچز، ٹیکسیوں اور رکشوں کے ایندھن کے اخراجات میں خاطر خواہ کمی آئی ہے تو یہ ضروری ہے کہ اسی تناسب سے کرایے بھی کم ہوں تاکہ عام مسافروں کو براہ راست فائدہ پہنچ سکے۔ اسی طرح زرعی شعبے میں بھی اس فیصلے کے مثبت اثرات سامنے آنے چاہیں۔ کسانوں کے فصلوں کی کاشت، آبپاشی اور نقل و حمل پر اٹھنے والے اخراجات کم ہوں گے اور اگر یہ فائدہ مارکیٹ تک منتقل ہو تو سبزیوں، پھلوں اور دیگر زرعی اجناس کی قیمتوں میں کمی آ سکتی ہے۔صنعتی شعبہ بھی اس فیصلے سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ جن صنعتوں کے پیداواری پراسس میں تیل کا استعمال زیادہ ہے ان کی تو پیداواری لاگت میں کمی آئے گی ہی، لیکن بحیثیت مجموعی نقل و حمل نسبتاً سستی ہوگی، جس سے پیداواری لاگت کم ہونے کی امید ہے۔ اگر صنعت کار اپنی مصنوعات کی قیمتوں میں مناسب کمی کریں تو مہنگائی کی مجموعی رفتار بھی کم ہو سکتی ہے۔قصہ مختصر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کافائدہ ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے شخص کو پہنچ سکتا ہے لیکن شرط یہ ہی کہ اس کمی کو عوام تک پہنچانے کو یقینی بنایا جائے اور یہ صرف ایک مخصوص طبقہ کے لیے منافع کمانے کا موقع نہ بن جائے۔
حکومت کو یاد رکھنا چاہیے کہ صرف پیٹرول کی قیمت کم کر دینے سے ہی ان کی ذمہ داری ادا نہیں ہو جائے گی بلکہ اسے اس موقع پر تمام متعلقہ اداروں کو متحرک کرنا ہو گا۔ ضلعی انتظامیہ، پرائس کنٹرول کمیٹیاں اور متعلقہ محکمے باقاعدہ چیک کریں کہ ٹرانسپورٹ کے کرائے کم ہوئے یا نہیں، اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں کمی آئی یا نہیں، اور اگر کوئی مصنوعی مہنگائی پیدا کر رہا ہے تو اس کے خلاف بھرپور انداز میں کارروائی کی جائے۔
حکومت کے لیے ایک اور اہم تجویز یہ ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین زیادہ شفاف بنایا جائے۔ عوام کو صاف صاف بتایا جائے کہ ایک لیٹر پیٹرول کی اصل درآمدی قیمت کیا ہے، اس پر کتنے روپے ٹیکس ہیں، کتنی لیوی وصول کی جا رہی ہے اور کتنے روپے دیگر اخراجات کی مد میں شامل کیے گئے ہیں۔ جب معلومات شفاف ہوں گی تو غیر ضروری شکوک و شبہات بھی ختم ہوں گے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں معاشی استحکام صرف قیمتیں کم یا زیادہ کرنے سے حاصل نہیں ہو سکتا۔ اصل کامیابی اس وقت حاصل ہوگی جب عوام کی آمدنی میں اضافہ کے انتظامات کیے جائیں، روزگار کے مواقع بڑھیں گے، صنعتیں چلیں گی، برآمدات میں اضافہ ہواور روپے کی قدر مزید مستحکم ہو۔ اگر صرف پیٹرول سستا ہو اور باقی تمام چیزیں مہنگی رہیں تو عام آدمی کی مشکلات ختم نہیں ہو سکتیں۔
عوام کو بھی چاہیے کہ ہر کام کی ذمہ داری حکومت پر ڈال دینے کے بجائے کچھ کام اپنے ذمہ بھی لیں۔ پیٹرول کی بچت کریں، غیر ضروری سفر سے گریز کریں، گاڑیوں کی مناسب دیکھ بھال کریں اور جہاں ممکن ہو مشترکہ سفری نظام اختیار کریں۔ توانائی کی بچت کریں اور درآمدی اشیا کا استعمال ختم نہیں تو کم ضرور کر دیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس فیصلے کے اثرات صرف پیٹرول پمپ تک محدود نہ رہیں بلکہ بازاروں، ٹرانسپورٹ، زراعت، صنعت اور عام شہری کی روزمرہ زندگی تک بھی پہنچیں۔ اگر ایسا ہو جاتا ہے تو عوام موجودہ حکومت کو ایک ایسی حکومت کے طور پر بھی یادرکھیں گے کہ جس نے معاشی فیصلوں میں عام آدمی کے مفاد کو واقعی ترجیح دی۔ اور اگر ایسا نہ ہوا تو پھر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی حیثیت ایک سرکاری اعلان سے زیادہ کچھ بھی نہیں رہے گی۔