کرپشن محض ایک اخلاقی برائی نہیں بلکہ ایک ایسا ناسور ہے جو آہستہ آہستہ معاشرے کے ہر حصے کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔ یہ لالچ، خود غرضی اور طاقت کے ناجائز استعمال سے جنم لیتی ہے اور فرد کی ذات سے نکل کر اداروں، نظام اور بالآخر ریاست کی جڑوں میں سرایت کر جاتی ہے۔ کرپشن کی موجودگی میں انصاف بکتا ہے، میرٹ دفن ہو جاتا ہے اور عوام کا اعتماد ٹوٹ جاتا ہے۔ جب قانون کمزور اور ضمیر خاموش ہو جائے تو ترقی کا ہر راستہ مسدود ہو جاتا ہے، کیونکہ کرپشن نہ صرف وسائل کو ضائع کرتی ہے بلکہ قوم کے اجتماعی شعور کو بھی مفلوج کر دیتی ہے۔ ایسے معاشروں میں اہل لوگ پیچھے رہ جاتے ہیں اور نااہل مگر طاقتور افراد آگے آ جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں بدعنوانی ایک معمول بن جاتی ہے۔
جب کرپشن کسی ملک کے سربراہ یا اعلیٰ قیادت سے وابستہ ہو جائے تو اس کے اثرات کہیں زیادہ سنگین ہو جاتے ہیں۔ قیادت قوم کے لیے آئینہ ہوتی ہے، اور اگر وہی آئینہ داغدار ہو تو پوری قوم کی تصویر مسخ ہو جاتی ہے۔ عالمی سطح پر ایسے ممالک کی ساکھ مجروح ہوتی ہے، سرمایہ کاری کم ہو جاتی ہے اور بین الاقوامی اعتماد ختم ہونے لگتا ہے۔ اقوامِ عالم میں وہ ملک ایک سوالیہ نشان بن جاتا ہے جس کی قیادت خود قانون شکنی کی مثال ہو۔ اس صورتحال سے نکلنے کا واحد راستہ شفافیت، مضبوط احتساب اور اخلاقی قیادت ہے، کیونکہ ایک دیانت دار رہنما نہ صرف ملک کو کرپشن سے بچا سکتا ہے بلکہ قوم کو عزت، وقار اور روشن مستقبل بھی دے سکتا ہے۔حال ہی میں توشہ خانہ کیس کے فیصلے میں عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 17،17 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔جس نے ایک بار پھر عمران خان کی نا پختہ خیالی کا پردہ چاک کر دیا ہے۔
یہ فیصلہ محض ایک عدالتی کارروائی نہیں، بلکہ
پاکستان کی سیاست کے چہرے پر ثبت ایک گہرا سوالیہ نشان ہے۔ توشہ خانہ ٹو کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کو مجموعی طور پر 17،17 سال قید کی سزا نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ جذبات، نعروں اور مقبولیت کے سہارے ریاست نہیں چلائی جا سکتی۔ سیاست اگر سنجیدگی، اہلیت اور اصولوں سے خالی ہو جائے تو اس کا انجام یہی ہوتا ہے کہ عدالتیں فیصلے سناتی ہیں اور تاریخ اپنے سخت الفاظ محفوظ کر لیتی ہے۔ عمران خان ایک عرصے تک خود کو “ایمانداری” اور “تبدیلی” کی علامت بنا کر پیش کرتے رہے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ یہی نعرے رفتہ رفتہ تضاد، ضد اور ناپختہ فیصلوں میں بدل گئے۔ ایک ایسا شخص جو کرکٹ کے میدان میں قائدانہ صلاحیت کی علامت تھا، سیاست میں آ کر جذباتی تقاریر اور غیر ذمہ دارانہ رویوں کا اسیر ہو گیا۔ ریاستی تحائف جیسے حساس معاملے کو ذاتی ملکیت سمجھنا یا اسے معمولی اخلاقی مسئلہ قرار دینا، کسی بھی بالغ نظر سیاست دان کی سوچ نہیں ہو سکتی۔یہ کہا جاتا رہا کہ عمران خان “سچ” بولتے ہیں، مگر سچ صرف زبان سے نہیں، عمل سے بھی ثابت ہوتا ہے۔ توشہ خانہ جیسے معاملات میں شفافیت اور قانون کی پاسداری ایک امتحان تھی، جس میں وہ بری طرح ناکام دکھائی دیے اور یہی ناکامی آج عدالتی فیصلوں کی صورت سامنے ہے۔ ایک لیڈر اگر خود قانون کی حدود کو مبہم سمجھے تو اس کے پیروکار بھی نظم و ضبط سے دور ہو جاتے ہیں۔بشریٰ بی بی کا اس معاملے میں کردار بھی اس تاثر کو مضبوط کرتا ہے کہ اقتدار کے گرد بننے والا روحانی اور جذباتی حصار عقل اور قانون دونوں کو پسِ پشت ڈال دیتا ہے۔ سیاست میں ذاتی عقیدت اور غیر سنجیدہ مشورے ہمیشہ تباہی کا باعث بنتے ہیں اور یہاں بھی یہی ہوا کہ ایک ایسا بیانیہ تشکیل دیا گیا جس میں ہر سوال کو سازش اور ہر احتساب کو انتقام قرار دیا گیا۔
پی ٹی آئی کا مجموعی رویہ بھی اس بحران کو گہرا کرنے کا سبب بنا۔ عدالتوں پر حملے، اداروں کو متنازع بنانا اور سڑکوں پر جذباتی ہجوم اکٹھا کرنا ، جذباتی بیانا ت سے ایک پورے صوبے کو متاثر کرنا،کسی بھی جمہوری جماعت کی پہچان نہیں ہونی چاہیے۔ ان غیر سنجیدہ رویوں نے نہ صرف ملکی سیاست کو عدم استحکام سے دوچار کیا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچایا۔ سرمایہ کار، سفارت کار اور دنیا بھر کے مبصرین ایک ایسے ملک کو کیسے سنجیدگی سے لیں جہاں سابق وزیراعظم قانون کی گرفت میں ہو اور اس کے حامی اسے ہیرو بنا کر پیش کریں؟ یہ کالم کسی فرد سے ذاتی دشمنی نہیں، بلکہ ایک اجتماعی دکھ کا اظہار ہے۔ پاکستان کو ایسے لیڈروں کی ضرورت ہے جو جذبات نہیں، تدبر سے فیصلے کریں جو ریاستی امانت کو ذاتی ملکیت نہ سمجھیں اور جو قانون کو اپنے لیے بھی اتنا ہی لازم سمجھیں جتنا عام شہری کے لیے ۔ اس لئے عمران خان کی سیاست میں سب سے بڑی کمی یہی رہی کہ وہ خود کو احتساب سے بالاتر سمجھتے رہے۔ اور اب یہی حال ہے کہ :
نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے
نہ خدا ہی ملا ، نہ وصال صنم
توشہ خانہ ٹو کیس کا فیصلہ ایک سبق ہے جو صرف عمران خان کے لیے نہیں بلکہ پوری سیاسی اشرافیہ کے لیے یہ ایک پیغام ہے کہ مقبولیت عارضی ہو سکتی ہے، مگر قانون م ہمیشہ مستقل رہتا ہے۔اگر سیاست کو انا، ضد اور ناپختہ سوچ کے حوالے کر دیا جائے تو انجام رسوائی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔آخر میں سوال یہی ہے کہ کیا ہم اب بھی شخصیت پرستی کے سحر میں مبتلا رہیں گے یا قانون، اخلاق اور اہلیت کو اصل معیار بنائیں گے؟ تاریخ نے اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے اور اب قوم کو اپنا راستہ خود چننا ہے۔