پاکستانی ارباب اقتدار نے جس طرح دل کھول کر اس سال سول اور دیگر تمغوں کی بارش کی ہے وہ ایک یادگار ہے ، ماضی میں بھی حکومتیںان ہی عمال کی مرتکب ہوتی رہی ہیں مگر اب دور سوشل میڈیا کا ہے ، سوشل میڈیا پر بیٹھے ہوئے لوگ اپنی نظریں تیز رکھتے ہیں اور نہایت ہی جھوٹ ملاکر اپنی تشہیر کا ذریعہ بنتے ہیں ۔ہاںیہ ضرور ہواہے کہ بڑے پیمانے پر سول ایوارڈز اپنے ہی وزراء کو دے دیئے جو موضوع بنا، وزیر اعظم نے چند دن پہلے اعلان کیا تھا وفاقی وزراء اپنی کارکردگی پیش کریں اگر انہوں نے کوئی کارہائے نمایاں انجام دیئے تھے جن لوگوںنے انہیں ووٹ دیا ہے انکے علم میں بھی لانا ضروری تھا کہ وہ خوش ہوتے کہ ہم نے بڑے قابل شخص کو ووٹ دیا ہے مگر ایسا کچھ نہیں اس سال مئی میں بھارت کو دھول چٹانے پر عسکری قیادت کوایک نہیں کئی ایوارڈ ، اور ستائش ملنا ضروری ہیں ، اور عوام کا ہر طبقہ عسکری قیادت کی بھرپورستائش کررہا ہے جنہوںنے 25 کروڑ عوام کی عزت کو دنیا میںسر اٹھاکر چلنے کا موقع دیا ، عسکری قیادت کی ستائش صرف پاکستان کے عوام نے نہیں بلکہ عالمی سطح پر اسکی پذیرائی ہوئی ، مگر اپنے اتحادیوں کو ، اپنے وزراء کو تمغوں کی تقسیم سمجھ سے بالا تر ماسوائے وزیر اطلاعات کے جنہوںنے بھارتی میڈیا کے سفید جھوٹ پروپگنڈے کو ISPR سے ملکر نیست و نابود کیا ، اپنی جماعت یا اتحادی سیاست دانوں کو تمغوںکی تقسیم ؟ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ آج کا محب وطن سیاست دان کل کا غدار ہوتا ہے ایسے میں سیاست دانوںکو تمغوں کی تقسیم ؟؟؟،والد صاحب نے اپنے بیٹے اور سسر جی کو ایوارڈ دیا ، بیٹے سے کوئی یہ بھی پوچھ لے سندھ میں بلا شرکت غیرے گزشتہ 17 سال سے حکومت ہے اندرون سندھ بشمول کراچی کیا ہورہا ہے ؟؟سسر کو تمغہ پر اعتراض نہ ہوتا اگر اس موقع پرمحسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر کا ذکر بھی ہوتا انکے نام سے تو پر پر جلتے ہیں ۔ اتحادیوںکے علاوہ بھی کچھ سیاست دان ہیں جو اس سے مستفید ہوسکتے تھے وہ اتحاد میں تو شامل نہیں مگر حکومت سے انکا کسی نہ کسی طرح کا تعاون،ماسوائے تحریک انصاف کے جنہیں اچھائی تو نظر آنا بند ہوچکی ہے و ہ سیاسی جماعت عمران رہا کرو جماعت بن چکی ہے ۔ انہوں نے حسب روائت اس پر بھی سینیٹ میں ہنگامہ برپا کردیا سینیٹ میں گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی کیونکہ اپوزیشن قانون سازوں نے حکمراں اتحاد پر الزام لگایا کہ وہ غیر متناسب طور پر کابینہ کے ارکان اور وفادار اتحادیوں کی حمایت کرتے ہوئے ایوارڈز کی سیاست کر رہے ہیں ، اگر ان تمغوںکی فہرست نوکر شاہی نے بنائی تھی تو پھر ایسا ہی ہونا تھا چونکہ سیاست دان ہوں یا نوکر شاہی جب تک سسٹم کا حصہ ہوتے ہیں وہ قائد اعظم محمد علی جناحؒ سے زیادہ اتحاد اور محب وطنی کا درس دیتے ہیں اور جب سسٹم کا حصہ نہیں رہتے تو پھر ان سے سنیں ، بقول میرے مہربان ڈاکٹر مجید نظامی مرحوم کے یہ لوگ تنخواہ کے عوض محب وطن ہوتے ہیں۔،میں خود ایسے لوگوںکو جانتا ہوں جو دوران ملازمت اپنے افکار اور بات چیت سے عوام کو محب وطنی کا درس دیتے ہیں ، سسٹم سے ریٹائرمنٹ کے بعد وہ فیس بک ، واٹس اپ پر اپنے دوستوںکو کیا کیا پیغام دیتے ہیں ۔سینیٹ میں بحث کے دوران، اپوزیشن اراکین نے یوم آزادی کے سرکاری اشتہارات پر بھی مسئلہ اٹھایا جس میں بانیِ قوم، قائداعظم محمد علی جناحؒ کی تصویر نہیں تھی۔یہ شور غل تحریک انصاف نے اٹھایا ، جنہوںنے 9مئی کو اسی قائد اعظمؒ کی تصاویر کے ساتھ کیا کیا تھا۔14اگست کو قائد اعظمؒ کی تصویر کا اشتہار میں نہ ہونے کو عوام نے بھی محسوس کیا جو ایک واقعی اعتراض بنتا تھا ۔ یہ اشتہار بھی نوکر شاہی کی کارستانی ہی ہوگی چونکہ اب ہم قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی تصویر کو فریم میں بند کرکے اپنی ذمہ داری کو مکمل سمجھتے ہیں ، چونکہ بعد رحلت قائد عوام تو یتیم ہو چکی ہے ، سیاست دان اور خاص طور پر نوکر شاہی کو پتہ ہے کہ اب قائد اعظم محمد علی جناح نہ ہی کسی کی ترقی کراسکتے ہیںیاتنزلی تو پھر احترام کس بات کا ، مجھے یاد ہے کہ جدہ میں ایک مرحوم مسلم لیگی نے قائد اعظم محمد علی جناحؒ پر مجھ سے کہاکہ اخبار کیلئے اس موقع پر ایک اشتہار بنادوں، ساتھ ہی مرحوم نے مجھے قائد اعظم ، میاںنواز شریف ، شہباز شریف ، انکی اپنی تصویر ، پانچ دیگر عہدیداران ( یقینی بات ہے انہوںنے اشتہار کی قیمت کی ادائیگی کی ساجھے دار کی ہوگی ) اور ساتھ ہی پندرہ لوگو ںکے نام ، یوم پیدائش پر تہنیتی پیغام ، چونکہ اشتہار شائد 15سینٹی میٹر کا تھا میں نے مرحوم کو مشورہ دیا کہ یہ اشتہار نظر نہیںآئے گا اس میں تصاویر کم کردیں، میراخیال تھا کہ وہ مقامی عہدیداروںکی تصاویر کم کردینگے ، مگر میں ششدر رہ گیا جب انہوں نے کہا کہ ’’تصویر کڈ دو‘‘ اسکے بعد میرے پاس کوئی جواب نہ تھا اسکے علاوہ کہ اشتہار کسی اور سے بنوا لو۔ اسلام آباد کی تقریب تقسیم تمغہ میں صحافیوں کو بھی نوازا گیا اگر صحافیوںنے کوئی کارہائے نمایاں انجام دیا ہے تو بعد از مرگ تمغہ تو سمجھ میں آتا ہے زندگی میںتمغہ اورحکومت کی جانب سے ستائش تو اس صحافی کو مشکوک بناتی ہے کہ اب اسکے قلم اور زبان سے حکومت کی تعریف ہی نکلے گی، انصار عباسی کا جواب ٹھیک تھا کہ جو کچھ میں کررہا ہوں وہ میری ذمہ داری اور ملازمت ہے اسلئے تمغہ لینے سے معذر ت کرتا ہوں۔ جدہ میں بھی ایک واقعہ ہوا گزشتہ سال جدہ میں پاکستان کی تعمیراتی اداروںکی نمائش ہوئی ، نمائش سے دو ہفتہ قبل تیاری کے دوران منتظمین نے صحافیوں اور کمیونٹی کے کچھ لوگوںکو ایک عالیشان ہوٹل میں عشائیہ دیا اور وہاںصحافیوںکو تعریفی شیلڈز دیں ، جب مجھے سٹیج پر دعوت دیکر شیلڈ حوالے کی گئی تو میں نے درخواست کی مجھے ایک منٹ مائیک پر ملے گا انہوںنے مائیک میرے حوالے کیا ،میںنے شیلڈ دینے پر انکا شکریہ ادا کیا اورکہاکہ آپکی تقریب دو ہفتہ بعد ہوگی ،اس میں کیا ہوگا کیا نہیں ہوگا مجھے اسکا علم نہیں میں
نے کوئی تشہیر یا خبر نہیں چلائی ، مجھے آپ کیوں شیلڈ دے رہے ہیں میںمعذرت کرتاہوں اوریہ شیلڈ شکریہ کے ساتھ واپس کرتاہوںاسکے بعد جن صحافی دوستوںنے مجھ سے قبل شیلڈلے لی تھی انہوںنے بھی اپنی اپنی شیلڈز سٹیج پر آکر واپس کردیں ، منتظمین ناراض ہوئے مگر میرا ضمیر مطمئن ہوا ۔ اسلام آباد کی تقریب میں وزیر اعظم نے تمغہ نہیںلیا جو ایک مستحسن فیصلہ تھا جب ہی تو کہتے ہیں کہ میاںفیملی زندہ باد وہ چاہے میاںنواز شریف ہوں، شہباز شریف یا مریم نواز صاحبہ ۔ یہاں مریم نواز صاحبہ سے درخواست ہے کہ پنجاب کے اشتہارات پر ذرا ’’ھولہ ہاتھ ‘‘رکھیں اوریہ رقم پنجاب کے غریب لوگوںیا بچیوںکی شادی پر خرچ کریں یہ تشہیر کسی اشتہار سے زیادہ ہوگی ، ثواب بھی ہوگا ۔ اشتہارت تو ہم کھاتے پیتے لوگ ہی دیکھتے ہیں۔چودہ اگست کے اشتہار میں قائد کی تصویر کی غیر موجودگی پر حکومت اور وزیر اطلاعات نے ’’انکوائری ‘‘کا عندیہ دیا ہے ، مگر ستر سال سے عوام انکوائریوں کے نتائج کا انتظار کررہے ہیں ۔