Wed, September 16, 2026

شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ اقبالؒ کی 87ویں برسی آج نہایت عقیدت و احترام سے منائی جارہی ہے

شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ اقبالؒ کی 87ویں برسی آج نہایت عقیدت و احترام سے منائی جارہی ہے

لاہور  :آج 21 اپریل ہے، وہ دن جب قوم اپنے عظیم شاعر، مفکر اور راہبر علامہ محمد اقبالؒ کو یاد کرتی ہے۔ آج ان کی 87ویں برسی ہے، مگر ان کا پیغام، ان کے خیالات، اور ان کا خواب آج بھی زندہ ہے ،  ایک ایسا خواب جس نے برصغیر کے مسلمانوں کو نئی منزل کا راستہ دکھایا۔

اقبالؒ وہ شخصیت ہیں جنہوں نے صرف اشعار نہیں کہے، بلکہ ایک پوری قوم کی سوچ بدل دی۔ انہوں نے اپنی شاعری سے مسلمانوں کو خودی، آزادی اور اسلامی تشخص کا شعور دیا۔ 1930 میں الہٰ آباد کے تاریخی خطبے میں انہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ ریاست کا تصور پیش کیا — جو بعد میں پاکستان بن کر دنیا کے نقشے پر ابھری۔

اقبالؒ 9 نومبر 1877 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ وہاں سے ابتدائی تعلیم حاصل کی، پھر لاہور، انگلینڈ اور جرمنی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ وہ نہ صرف ایک شاعر تھے بلکہ استاد، وکیل، مفکر اور ایک سچے مسلمان بھی تھے جنہوں نے ہمیشہ امت کی فکری رہنمائی کی۔

اقبالؒ کا کلام جیسے بانگِ درا، بالِ جبریل، ضربِ کلیم اور ارمغانِ حجاز صرف شاعری کے مجموعے نہیں، بلکہ ایک مکمل فکری نظام ہے۔ ان کی ہر نظم نوجوانوں کو جگانے، خواب دکھانے اور عمل پر آمادہ کرنے کا پیغام دیتی ہے۔

بدقسمتی سے پاکستان کی آزادی سے کچھ سال پہلے، 21 اپریل 1938 کو علامہ اقبالؒ اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ لیکن ان کا خواب، ان کی فکر، اور ان کا پیغام آج بھی ہماری رہنمائی کرتا ہے۔ ان کا مزار لاہور کی تاریخی بادشاہی مسجد کے ساتھ واقع ہے، جہاں ہر سال ہزاروں لوگ ان کے حضور عقیدت کے پھول نچھاور کرنے آتے ہیں۔

ٹیگز: