اسلام آباد : نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت آٹو اور آٹو پارٹس پالیسی کا ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں پاکستان کو الیکٹرک وہیکلز (EVs) کی جانب منتقل کرنے کی کوششوں کو تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اجلاس میں حکام کی جانب سے دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملک میں الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ اور مقامی مینوفیکچرنگ سے نہ صرف صنعتی ترقی ہوگی بلکہ برآمدات میں اضافہ اور روزگار کے ہزاروں نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ اس کے علاوہ، یہ اقدام پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں (Climate Change) کے مضر اثرات سے بچانے میں بھی معاون ثابت ہوگا۔
اجلاس کے نمایاں پہلوئو ں میں شامل تھا کہ روایتی گاڑیوں کی جگہ ماحول دوست الیکٹرک گاڑیوں کو ترجیح دی جائے گی۔ مقامی سطح پر پارٹس کی تیاری سے امپورٹ بل میں کمی اور برآمدات میں اضافہ متوقع ہے۔ کاربن کے اخراج میں کمی کے لیے آٹو سیکٹر میں گرین انرجی کو فروغ دیا جائے گا۔ اس موقع پر بات کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ "پاکستان کو معاشی اور ماحولیاتی طور پر مستحکم بنانے کے لیے ایک مسابقتی، جدید اور پائیدار آٹو ماحولیاتی نظام کی تشکیل ناگزیر ہو چکی ہے، جس کے لیے حکومت تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔"